کراچی پریس کلب کے نئے ارکان کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی

*کراچی پریس کلب کے نئے ارکان کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی*

* صحافیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے: ناصر حسین شاہ*
*پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے پریس کلب کے مسائل پر خصوصی توجہ دینے پر شکر گزار ہیں، فاضل جمیلی/ اسلم خان*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) سندھ کے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ کراچی پریس کلب کے نئے ارکان کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی اگست کے پہلے ہفتے میں کر دی جائے گی، جبکہ صحافیوں کو پلاٹوں کی فراہمی کے دیرینہ مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ گزشتہ روز سندھ کے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کراچی پریس کلب کا دورہ کیا اور پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری اسلم خان، مجلس عاملہ اور سینئر صحافیوں سے ملاقات کی- کراچی پریس کلب پہنچنے پر صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان اور مجلسِ عاملہ کے ارکان نے ان کا استقبال کیا- اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ آج کی ملاقات میں نئے ارکان کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی سمیت صحافی برادری سے متعلق دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سندھ حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ اپنی صحت سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کی صحت کے حوالے سے بے بنیاد خبریں پھیلائی گئیں۔ انہوں نے کہا، "یہ تاثر دیا گیا کہ میں اسلام آباد میں گر گیا اور پھر مجھے ابوظہبی کے اسپتال منتقل کیا گیا، حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا۔ میں نجی دورے پر ابوظہبی گیا تھا جہاں معمول کا طبی معائنہ بھی کرایا۔ "انہوں نے کہا کہ ان خبروں کے بعد ملک بھر سے انہیں بے شمار دعائیں ملیں، جس پر وہ دعا کرنے والوں کے شکر گزار ہیں۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق سندھ بھر میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب کراچی کو دنیا کے خطرناک ترین شہروں میں شمار کیا جاتا تھا، مگر آج صورتحال یکسر مختلف ہے اور شہر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کے ترقیاتی منصوبے کے تحت تین سو سے زائد سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جن میں سے سو سے زائد مکمل ہوچکی ہیں۔ وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں سندھ اور کراچی کو انکا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا۔ وفاق کی جانب سے سو ارب اور دو سو ارب روپے فراہم کرنے کے وعدے بھی تاحال پورے نہیں کیے گئے، تاہم سندھ حکومت کو امید ہے کہ وفاق اس حوالے سے تعاون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کامیاب ثابت ہوا ہے اور ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک سمیت دیگر عالمی اداروں کے تعاون سے مختلف ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں بھی ترقیاتی کاموں میں شکایات موصول ہوتی ہیں وہاں فوری کارروائی کی جاتی ہے اور ریڈ لائن منصوبے کے ٹھیکیدار کا معاہدہ بھی شکایات کی بنیاد پر منسوخ کیا گیا۔ اس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے وزیر بلدیات کی آمد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ صحافی برادری کے دیرینہ مسائل خصوصاً رہائشی پلاٹوں کے معاملے پر سندھ حکومت کی سنجیدہ پیش رفت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہمیشہ صحافیوں اور کراچی پریس کلب کے مسائل کے حل میں خصوصی دلچسپی لی ہے، جس پر صحافی برادری ان کی شکر گزار ہے۔ سیکریٹری کراچی پریس کلب اسلم خان نے کہا کہ وزیر بلدیات کی جانب سے نئے ارکان کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی کے اعلان سے صحافی برادری میں اعتماد پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب کو درپیش مسائل کے حل کیلئے سندھ حکومت کا مثبت کردار قابلِ تحسین ہے اور امید ہے کہ آئندہ بھی یہ تعاون اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا۔



