پولیس عورتوں اور بچیوں کو فوری تحفظ فراہم کرے، اب ہم یہ سب ہوتا نہیں دیکھیں گے، نزہت شیرین کی رانی پور آمد

سندھ / رانی پور (خصوصی رپورٹ): چیئر پرسن سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن، نزہت شیرین نے رانی پور کا دورہ کیا اور مقتولہ بچی فاطمہ کے گھر والوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے، فاطمہ کے گھر والے بے بسی اور بیچارگی کی مورت بنے ہوئے تھے، مستقل روتے رہنے کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں سوجن سی اُمڈ آئی تھی، چہروں پر آئی اداسی اُس تکلیف کو صاف ظاہر کر رہی تھی کہ جس اذیت سے وہ لوگ ہر دن گزر رہے ہیں، ان کی خاموش زبانیں چیخ، چیخ کر جو نوحہ پڑھ رہی تھیں وہ وہاں موجود لوگوں کو اچھی طرح سنائی بھی دے رہا تھا اور سمجھ بھی آرہا تھا۔ آنسوں تھے کہ تھمنے کا نام نہ لیتے تھے، ماں، باپ کی آنکھوں میں بسی اپنی معصوم بیٹی کی خون آلود تصویر انہیں ایک پل چین نہیں لینے دے رہی تھی، جس ظلم اور بربریت کا نشانہ اُس معصوم کو بنایا گیا تھا اس سے ہرحساس دل کو نہ صرف ٹھیس پہنچی ہے، بلکہ احساسات بھی حد درجے مجروح ہوئے ہیں، اور اب اس ٹھیس، اذیت، تکلیف اور آنسووں کا مداوا صرف اور صرف فاطمہ کی فیملی کو دیا جانے والا "انصاف” ہی کرسکتا ہے، وہ انصاف کہ جس پر سب کی نظریں جمی ہیں۔
چیئر پرسن سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن، نزہت شیرین نے مقتولہ بچی کے گھر والوں کو دلاسہ دیا، دلجوئی کی اور ان کا حوصلہ اور ہمت بڑھانے کی کوشش بھی کی۔ نزہت شیرین کے جذبات اور احساسات نے جب لفظوں کا روپ دھارا تو پھر اس کی گونج دور، دور تک سنائی دینے لگی ۔ ۔ ۔انہوں نے کہا کہ اس علاقے کی بچیاں تعلیم سے محروم ہیں، اسکول جانے کے بجائے وڈیروں کے گھروں پر "ملازمایں ” بن کر کام کررہی ہیں، عورتوں کو ڈرایا، دھمکایا جاتا ہے، نزہت شیرین نے کہا کہ فاطمہ کی ماں نے انہیں بتایا ہے کہ مقامی لوگ اور ان کی اپنی برادری کے افراد بھی اس وقت ان کے ساتھ کھڑے ہونے سے قاصر ہیں کیونکہ خوف ان پر غالب آیا ہوا ہے، انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
نزہت شیرین نے کہا کہ اب ہم یہ سب ہوتا نہیں دیکھیں گے، عبوری وزیراعلیٰ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ سخت قانونی اقدامات عمل میں لائیں اور پولیس عورتوں اور بچیوں کو فوری تحفظ فراہم کرے۔



