کالم/مضامین

* پاکستان میں صحافی اور صحافت کب آزاد رہے؟*

* پاکستان میں صحافی اور صحافت کب آزاد رہے؟*

*تحریر: جاوید صدیقی*

پاکستان میں صحافی اور صحافت کب آزاد رہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر باشعور صحافی کے ذہن میں ضرور جنم لیتا ہے۔ اپنی پچیس سالہ صحافتی زندگی میں، میں نے اپنی برادری کو کبھی احتجاج کرتے، کبھی جلسے اور کبھی جلوس نکالتے دیکھا ہے۔ ان تمام سرگرمیوں کا بنیادی مقصد صحافیوں کے حقوق کا تحفظ، صحافتی پابندیوں کا خاتمہ اور آزادیٔ صحافت کا حصول رہا ہے۔ میں خود بھی ان احتجاجی سرگرمیوں کا حصہ رہا ہوں، مگر آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ صحافت کی زبوں حالی کا ذمہ دار صرف کس کو ٹھہرایا جائے؟ پاکستان میں فوجی آمریت ہو یا جمہوری حکومت، دونوں کے طرزِ حکمرانی میں یقیناً فرق رہا ہے، لیکن آزادیٔ صحافت کے معاملے میں دونوں ادوار کی تاریخ زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں صحافیوں اور صحافتی اداروں کو دباؤ، پابندیوں، قدغنوں اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ عصرِ حاضر میں بھی مختلف ناموں اور جوازوں کے تحت قانون سازی کے ذریعے قلم اور قلم کار کی آزادی محدود کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب میڈیا مالکان کا کاروباری طرزِ فکر بھی صحافتی برادری کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ بیشتر میڈیا مالکان کے نزدیک ادارے کا منافع اولین ترجیح رہا ہے۔ ملازمین کی وفاداری، نیک نیتی، انتھک محنت اور پیشہ ورانہ لگن اکثر اس وقت تک قابلِ قدر سمجھی جاتی ہے جب تک وہ ادارے کے کاروباری مفادات کو فائدہ پہنچاتی رہے۔ جو ملازم منافع کا ذریعہ نہ رہے، اس کی برسوں کی خدمات بھی بسا اوقات بے وقعت بنا دی جاتی ہیں۔ افسوس کہ بعض میڈیا ہاؤسز میں ملازمین کو بااختیار پیشہ ورانہ کارکن کے بجائے محض تابع دار سمجھنے کا رویہ بھی پایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو ادارے دنیا کو حقوق، انصاف اور آزادی کا درس دیتے ہیں، کیا وہ اپنے ملازمین کو بھی یہی حقوق فراہم کرتے ہیں؟ مجھے اس امر پر بھی حیرت ہے کہ ہماری صحافتی قیادت نے میڈیا ہاؤسز کے ملازمین کے لیے ایک مضبوط، مؤثر اور قانونی بنیادوں پر قائم ٹریڈ یونین نظام کے قیام کو اپنی اولین ترجیحات میں کیوں شامل نہیں کیا؟ پاکستان میں لیبر قوانین، متعلقہ محکمے اور لیبر کورٹس موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پی ایف یو جے اور اس کی ذیلی تنظیمیں اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کریں اور صحافیوں سمیت تمام میڈیا ملازمین کے قانونی، معاشی اور پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کے لیے منظم جدوجہد کریں۔ میری تجویز ہے کہ میڈیا ملازمین کی ایسی مؤثر اور قانونی طور پر رجسٹرڈ ٹریڈ یونینز قائم کی جائیں جو ملازمت کے تحفظ، تنخواہوں، واجبات، برطرفی کے ضابطوں اور دیگر بنیادی حقوق کی ضمانت کے لیے کردار ادا کریں۔ اس سے آجر اور ملازم دونوں کے حقوق و فرائض کا توازن برقرار رہ سکتا ہے اور کسی ملازم کو من مانی یا انتقامی کارروائی کے ذریعے روزگار سے محروم کرنا آسان نہیں رہے گا۔ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ میڈیا نظاموں میں ملازمین کے حقوق، ملازمت کے تحفظ، ادارہ جاتی احتساب اور پیشہ ورانہ آزادی کے لیے جو منظم طریقۂ کار موجود ہیں، انہیں پاکستان میں مؤثر انداز سے کیوں نہیں اپنایا جاتا؟ کیا ہماری صحافتی قیادت اس بنیادی ضرورت کو اپنی جدوجہد کا حصہ بنانے کے لیے تیار ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ سرکاری ملازمین کی مختلف ایسوسی ایشنز اور یونینز اپنے حقوق کے لیے قلم چھوڑ ہڑتال کرتی ہیں تو ریاستی امور تک متاثر ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطالبات پر مذاکرات ہوتے ہیں اور کئی معاملات میں انہیں کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی اتحاد اور اجتماعی حکمتِ عملی میڈیا ہاؤسز کے ملازمین اختیار کریں تو کیا نتائج سامنے نہیں آ سکتے؟ میری رائے میں اگر ملک بھر کے میڈیا ملازمین اپنے قانونی حقوق کے حصول کے لیے منظم، متحد اور پُرامن اجتماعی احتجاج کا راستہ اختیار کریں تو میڈیا مالکان کو بھی مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا۔ البتہ ایسی کسی بھی ہڑتال سے قبل قانونی تقاضوں، ملازمین کے تحفظ اور عوام کے حقِ اطلاعات کو ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ میں، جاوید صدیقی، بطور صحافی اور ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹ، سمجھتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پی ایف یو جے اور پاکستان بھر کی تمام یونینز محض احتجاجی بیانات، جلسوں اور جلوسوں تک محدود رہنے کے بجائے ایک جامع اور عملی لائحہ عمل مرتب کریں۔ میڈیا ملازمین کی قانونی حیثیت، ملازمت کا تحفظ، بروقت تنخواہوں کی ادائیگی، واجبات اور اجتماعی مذاکرات کے حق کو یقینی بنایا جائے۔ اسی طرح اگر حکومتی سطح پر آزادیٔ صحافت کو دبانے یا صحافیوں پر ناجائز پابندیاں عائد کرنے کی کوشش ہو تو تمام صحافتی تنظیمیں متحد ہو کر پُرامن احتجاج، قانونی مزاحمت اور سرکاری تقریبات کی اصولی کوریج پالیسی کے ذریعے اپنا مؤثر احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ کسی بھی حکمتِ عملی میں عوام کے حقِ اطلاعات اور صحافتی ذمہ داریوں کو بھی مقدم رکھا جائے۔ آخر میں میرا بنیادی سوال اپنی صحافتی قیادت، رہنماؤں اور برادری سے ہے: ہم کب تک صرف احتجاج کرتے رہیں گے؟ کب تک صحافی اپنے ہی اداروں میں عدم تحفظ، معاشی استحصال اور بے یقینی کا شکار رہیں گے؟ اور کب ہماری یونینز آزادیٔ صحافت کے ساتھ آزادیٔ معاش اور تحفظِ ملازمت کو بھی اپنی جدوجہد کا حصہ بنائیں گی؟ یاد رکھیے! صحافت کی آزادی صرف حکومتی پابندیوں سے نجات کا نام نہیں، بلکہ صحافی کی معاشی خودمختاری، ملازمت کے تحفظ، ادارتی آزادی اور پیشہ ورانہ وقار کا نام بھی ہے۔ آزادیٔ صحافت کا نعرہ اسی وقت بامعنی ہوگا جب صحافی اپنے قلم کے ساتھ اپنے روزگار اور عزتِ نفس کے بھی خودمختار ہوں گے۔ آزادیٔ صحافت زندہ باد، صحافی اتحاد پائندہ باد!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You