مسئلہ کشمیر اور بھارت کی جنگ

مسئلہ کشمیر اور بھارت کی جنگ
تحریر بشریٰ جبیں
(تجزیہ نگار)
پاکستان اور بھارت اس وقت جنگ کے دھانے پر ہیں جو کسی صورت کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ کشمیر کی وجہ سے بھارت اور پاکستان میں پہلے بھی دو، تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ تقسیم ہند کے وقت کشمیر کا علاقہ مسلمانوں کی اکثریت کے باعث پاکستان میں شامل کیا گیا، لیکن بھارت کی نیت قیام پاکستان کے وقت سے ہی خراب تھی۔ وہ پاکستان کا قیام نہیں چاہتا تھا اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ہندو مسلمانوں کو اپنا ماتحت رکھنا چاہتے تھے، لیکن قائد اعظم نے بھانپ لیا اور اپنے مخلص ساتھیوں کے ساتھ بھرپور جدوجہد سے پاکستان کا وجود ممکن بنایا۔
قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہندوستانی فوجیں کشمیر میں گھس گئیں، کچھ حصہ تو پاکستان نے آزاد کروا لیا جبکہ کچھ علاقہ بھارت کے قبضہ میں ہی ہے۔ جہاں انہوں نے مسلمانوں پر مظالم ڈھانا شروع کر دیے اور ساتھ ہی پاکستان کے لیے پانی کے مسائل بھی کھڑے کر دیے۔ چونکہ پانی کے بہت سے ذرائع کشمیر کی طرف سے ہی آتے ہیں تو بھارت جب چاہتا ہے پاکستان کا پانی روک کر پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کر دیتا ہے۔ اس لیے زرعی زمین ہونے کے باوجود پانی کی قلت کے باعث بہت سا علاقہ سیراب ہونے سے رہ جاتا ہے۔۔
پاکستان مسلئہ کشمیر اقوام متحدہ میں بھی لے کر گیا اور پاکستان کے حق میں قرارداد بھی منظور ہوئی لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ ۵ اگست ۲۰۱۹ کو بھارت نے آرٹیکل ۳۷۰ کا استعمال کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا۔ جس کے بعد ناجائز طور پر وہاں ہندوؤں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا جس کے باعث کشمیری مسلمانوں میں بےچینی بڑھ گئی۔ پاکستان نے ہر سطح پر آواز بلند کر کے اس غیر قانونی اقدام کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروائی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی
بھارت نے پاکستان کے اندر دہشتگردی شروع کر رکھی ہے جس کے ٹھوس شواہد ہمیشہ مہیا کیے گئے ہیں جبکہ بھارت الٹا الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے۔
حال ہی میں پہلگام میں سیاحوں پر حملہ کیا گیا اور کئی جانوں کا نقصان ہوا۔ جس کا الزام اسی وقت بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر لگا دیا۔ جبکہ اس سلسلے میں بھارت کی اپنی طرف سے سیکیورٹی کی واضح غفلت نظر آئی ہے۔ جہاں بھی معصوم لوگوں کی جان کا ضیاع ہو اس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی بھارت اپنی کوتاہی کو پاکستان پر ڈال کر جنگ کی راہ ہموار کر رہا ہے جس کے پس پشت کئی دیگر محرکات بھی شامل ہیں جو بھارت کی مدد سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں تا کہ خطے میں چین کو تنہا کیا جا سکے۔ امریکا کو افغانستان میں شکست ہوئی ہے اب پاکستان کو اپنی کالونی بنا کر چین کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے جس میں اسرائیل اور بھارت بھی ساتھ ہیں۔ فلسطین میں گزشتہ سال سے اسرائیل نے قتل وغارت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور ہزاروں معصوم فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت کو بھی خطرہ ہے۔ جس کی پاکستان نے بھرپور مخالفت کی اور سرکاری و عوامی سطح پر فلسطین کی حمایت کی جو صیہونی و بھارتی لابی کو کسی صورت نہیں بھائی جس کے بعد بھارت نے خود پہلگام کا حملہ کروا کر الزام پاکستان پر تھوپ دیا۔ تاکہ پاکستان مشکلات سے دوچار رہے اور فلسطین کی مدد سے بھی باز رہے۔
دوسری طرف جنگ کسی کے فائدے میں نہیں ہے اور نہ ہی اس سے مستقل نتائج حاصل ہوتے ہیں، صرف تباہی وبربادی ہے لیکن اگر بھارت اپنےناپاک عزائم سے نہ رکا تو جنگ ناگزیر ہو گی۔ اگر بھارت واقعی امن پسند ملک ہے تو سنجیدہ ہو کر مزاکرات کی میز پر آۓ اور اس مسلئے کو پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ بیٹھ کر حل کرے۔۔۔۔



