فرق صرف کالے اور گورے کا ھے۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
فرق صرف کالے اور گورے کا ھے۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
بہت مطالعہ تحقیق اور چھان بین کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ھوں کہ زمانہ جاہلیت میں بھی ایسے حالات پیدا نہیں ھوئے جو پاکستانی حکمرانوں نے از خو جان بوجھ کر اپنی لگاتار سرزشیں جاری رکھیں جس کے باعث عوام نا بیان کردہ تکالیف اذیت مشکلات الجھن اور شدید کرب سے دوچار ھوتی چلی آرھی ھے۔ ان حکمرانوں کا آپس میں گڈھ جوڑ نے ایک مافیا کو جنم لیا جس کا مقصد آپس میں قومی دولت کو لوٹنا ملک و قوم کو برباد کرنا اور پھر جلسہ جلوس میں بناؤٹی الزام تراشی اور قصوروار ٹھہرا کو خود کو معصوم پاک صاف اور شفاف دکھانا ان سب کا معمول بن چکا ھے۔ اس حکمرانی گروہ یعنی مافیا میں اسٹبلشمنٹ، بزنس ٹائیفون، مذہبی رہنما، ججز و جسٹس اور میڈیا خاص طور پر منفی کردار ادا کرتا چلا آرھا ھے۔ بحرحال ان حالات کے یہ سب کے سب ذمہداران ہیں۔ کراچی کیساتھ جو سلوک کیا جاتا رھا ھے اس میں یہاں کی مقامی سیاسی جماعت کا کردار کسی ڈائن سے کم نہ رھا اور یہ بدبخت آج بھی جونک کی طرح خون چوسنے سے باز نہیں آتے۔ ان تمام سیاسی زہریلے کیڑوں نے ملک کو تعفن زدہ بناکر رکھ دیا ھے کاش ھماری اسٹبلشمنٹ میں رتی برابر ایمان ھوتا تو وہ واقعی قرآن و احادیث سے کچھ نہ کچھ واقفیت رکھتے یہی وجہ ھے کہ انہیں اسلام کے پہلے سپہ سالار حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کے متعلق کچھ علم نہیں شائد خالد بن ولید طارق بن زیاد نورالدین زنگی محمود غزنوی جیسے ایمان افروز مسلم سپہ سالار سے بھی واقف نہیں ھونگے اور چاروں خلیفہ راشدین کا بھی علم نہ ھوگا جبھی تو یہ سب ایک اسلامی ملک میں تماشا ھوتا ھوا دیکھتے رھے ھیں اور نجانے کب تک اسلام پاکستان اور اس قوم کو برباد ھوتے ھوئے خاموش تماشائی بنے رھیں گے۔ اسلام نے مجرموں کیلئے سزائیں کیوں رکھی کیونکہ اللہ سب جانتا ھے کہ ریاست نظام اور معاشرے کی درستگی کیلئے جزا و سزا ہی متوازن رکھے گی جہاں اسلامی قوانین کے اصولوں پر کاربند کیا جاتا ھے وہاں امن و سکون ترقی و تمدنی خوشحالی و شعور بہتر ھوتا ھے اور علم و فن کا اجالا پھیلتا ھے۔ آج ایک عام آدمی کس قدر کے الیکٹرک کی ناجائز حرکات کے سبب شدید غم و غصہ سے بھرا ھے اس کی ایک دوست نے بڑے خوبصورت انداز میں عکاسی کی ھے ان ظالم و جابر حکمرانوں کی کارفرمائی کے سبب ہر ادارہ عوام کا گلا گھونٹ رھا ھے بحرحال میں ذکر کررھا تھا کہ ایک کا رہائشی کے الیکٹرک کے متعلق کیا تصور رکھ رھا ھے ۔۔۔ معزز قارئین!! ایک کے الیکٹرک والے نے کپڑے کے ایک سوٹ کا ریٹ پوچھا تو دکاندار نے کہا دو ہزار کا سوٹ ہے وہ بولا دے دو جب اس نے دو ہزار روپے دیئے تو میں نے کہا سات ہزار ایک سو روپے کا بل بن گیا ہے۔ اس نے کہا کہ کیا وجہ تو دکاندار بولا سوٹ دو ہزار روپے، پورا تھان کھولا سو روپے، قینچی سے کاٹا سو روپے، تھان واپس رکھا سو روپے،
شاپر میں ڈالا پچاس روپے، سوٹ کی کٹینگ پانچ سو روپے، دکان کا کرایا پر ڈے پانچ سو روپے، بجلی کا بل پانچ سو روپے، ملازم کی دیہاڑی ہزار روپے، میری دیہاڑی پندرہ سو روپے، چوکیدار کے پانچ سو روپے، رات کی چوکیداری کے ڈھائی سو روپے اور یہ بھی کافی گنجائش کرکے دے رہا ہوں اگر کل آتے تو یہی سوٹ چودہ ہزار دو سو روپے کا ملتا۔ یہ سن کر کے الیکٹرک ملازم کہنے لگا کہ آپ نے ہمیں ننگا کردیا سو فیصد یہی حقیقت ھے ہمارے مالکان و افسران ماہانہ بنیاد پر ان تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کیساتھ ساتھ ججز و جسٹس کو کڑوروں حصہ دیتا ھے یہ بیشمار کڑور اربوں گھربوں تک ماہانہ پہنچ جاتا ھے بدنام ذلیل رسوا ھم ھورھے ھیں جنکے تم تعرے لگاتے ھو گیت گاتے ھو جلسہ جلوس میں بھی شریک ھوتے ھو بس تم عوام مکمل طور پر کل بھی مغلوب تھے اور آج بھی ھو فرق صرف کالے اور گورے کا ھے۔


