*عنوان: گروپ انشورنس ایک تحقیقاتی رپورٹ*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: گروپ انشورنس ایک تحقیقاتی رپورٹ*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
گروپ انشورنس کی رقم صوبہ سندھ سمیت پورے ملک کے تمام حاضر سروس ملازمین کی تنخواہوں سے کاٹی گئی ہے۔ یہ رقم تقریباً دو لاکھ ساٹھ پنشنرز کی تنخواہوں سے بھی دوران سروس کاٹ لی گئی ہے، جو اس وقت سروس میں ہیں۔ گروپ انشورنس کی کٹوتی وفاقی حکومت کے محکمہ خزانہ کے نوٹیفکیشن 1111–11/69-6-NO: FD مورخہ بارہ اپریل سنہ انیس سو انہتر عیسوی کے مطابق ملک بھر کے سرکاری ملازمین کے کٹوتی شروع کی گئی تھی۔ سندھ سول سرونٹس ویلفیئر فنڈ آرڈیننس 1979 کے تحت سندھ میں سرکاری ملازمین کی لازمی /جبری کٹوتی کی جارہی ہے جو صوبائی حکومتوں کے سوشل ویلفیئر فنڈ اکاؤنٹس میں مسلسل رقم جمع ہورہی ہے، گروپ انشورنس کی کٹوتیوں اور ادائیگیوں میں مختلف اوقات میں تبدیلی آتی رہتی ہیں۔ صوبہ سندھ کے اندر ادائیگی کا اس وقت یہ قانون خودکار تھا بلکہ صوبہ سندھ میں ملازمین کی رضامندی اور درخواست کے بغیر جاری کیے گئے آرڈیننس کے مطابق نافذ کیا گیا تھا، جس میں سروس کے دوران فوت ہونے والے ملازمین کے لواحقین کو گروپ انشورنس کی گریڈ وائیز مقررہ شرح کے مطابق رقم کی ادائیگی کا بندوبست کیا گیا تھا۔ اسٹیٹ لائف کے سندھ حکومت کے ساتھ مورخہ یکم جون سنہ دو ہزار نو عیسوی کے معاہدے کے مطابق ایک اخباری اشتہار شائع کیا گیا تھا جس میں یکم جولائی سنہ دو ہزار دو عیسوی کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازمین کو گروپ انشورنس کا حق دیا گیا تھا، اگر کوئی ملازم ریٹائرمنٹ کی تاریخ کے بعد پانچ سال کے اندر فوت ہوجاتا ہے تو اسکے خاندان کو اس وقت کی مقررہ شرح کے مطابق گروپ انشورنس کی رقم ادا کی جائے گی۔ اگر پانچ سال کےاندر وہ نہیں مرتا تو اس کی رقم ضبط کی جائے گی۔ سندھ میں آج تک یہ قانون نافذ عمل ہے، ہر چند سال بعد کٹوتیوں اور ادائیگیوں کے نرخ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے سندھ کے ملازمین نے کراچی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت انکا گروپ انشورنس کا حق واپس کرے۔ رقم کو بین الصوبائی قوانین کے مطابق ادا کیا جائے اور منافع کے ساتھ واپس کردیا جائے تاہم یہ رقم سرکاری ملازمین کی رضامندی کے بغیر خرچ کی گئی۔ اصول و ضوابط سرکاری ملازمین کو بتائے بغیر فکس کیے گئے ہیں جو سرکاری ملازمین کے ساتھ حکومت سندہ کی جانب سے زیادتی کی گئی اور تاحال جاری ھے۔ کراچی ہائی کورٹ نے دس نومبر سنہ دو ہزار اکیس عیسوی کے اپنے فیصلے میں سفارش کی کہ آئین میں ضروری ترامیم کی جائیں تاکہ ملازمین کی گروپ انشورنس کی رقم بین الصوبائی بنیادوں پر واپس کی جاسکے لیکن سندھ حکومت نے آج تک اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ حکومتی نمائندوں نے ابھی تک ان عدالتی نوٹسز پر کوئی جواب نہیں دیا ہے جو ابتک صوباہ سنھ کے سرکاری ملازمین ساتھ ناانصافی ہو رہی ھے۔
*کے پی کےحکومت*
جب خیبر پختونخوا کے ملازمین نے گروپ انشورنس کی رقم کی ادائیگی کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تو عدالت نے پندرہ فروری سنہ دو ہزار اٹھارہ عیسوی کو فیصلہ سنایا، جس میں سرکاری ملازمین کے حق کو تسلیم کیا گیا اور انہیں ریٹائرمنٹ کی تاریخ پر مقررہ گریڈ وائیز ریٹ کے مطابق گروپ انشورنس کی رقم ادا کرنے کے لیے ضروری ترامیم کی گئیں۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے حق میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کے پی کےحکومت نے برقرار رکھا، جس نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس کے بعد کے پی حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو نو مارچ سنہ انیس سو اٹھارہ عیسوی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور ایک درخواست دائر کی، جس کی سماعت سترہ اپریل سنہ دو ہزار اٹھارہ عیسوی کو ہوئی۔ جسٹس ثاقب نثار نے درخواست مسترد کرتے ہوئے انیس اپریل سنہ دو ہزار اٹھارہ عیسوی کو فیصلہ سنایا۔ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے حقوق بحال کردیئے۔ جس کے مطابق کے پی کے کی صوبائی اسمبلی نے چھ نومبر سنہ دو ہزار چودہ عیسوی کو ریٹائرڈ ملازمین کو گروپ انشورنس فراہم کرنے کا بل منظور کرلیا۔ محکمہ خزانہ نے نوٹیفکیشن نمبر 2019-3-1104-SOSR مورخہ چھبیس دسمبر سنہ دو ہزار انیس عیسوی کو جاری کیا۔ چھ نومبر سنہ دو ہزار چودہ عیسوی سے ریٹائرڈ ہونے والے تمام سرکاری ملازمین کو نئے قواعد کے مطابق گروپ انشورنس کی رقم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
*بلوچستان حکومت*
بلوچستان حکومت نے اٹھائیس اکتوبر سنہ دو ہزار نو عیسوی کو بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں اپنے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے لیے ایک ترمیمی بل پیش کیا، جس کے مطابق صوبے کے تمام ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو گروپ انشورنس ادائیگی ایکٹ 2009 مورخہ گیارہ مارچ سنہ دو ہزار نو عیسوی کو منظور کیا گیا اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو گروپ انشورنس اور یکم جولائی سنہ دو ہزار سات عیسوی سے ریٹائرڈ ملازمین کو گروپ انشورنس دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ محکمہ خزانہ کے نوٹیفکیشن نمبر کے مطابق مورخہ پندرہ فروری سنہ دو ہزار گیارہ عیسوی، سینئر ریٹائرڈ سرکاری ملازمین FD (w.ox-9/2011/1778-2077) کو مورخہ یکم جولائی سنہ دو ہزار دس عیسوی سے جاری کیا جائے، جو پچیس سال یا ساٹھ سال کی عمر مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہوئے ہیں۔
*سندہ حکومت کے پینشنرز کا مطالبہ*
صوبہ سندھ کے پنشنرز کا مطالبہ ہے کہ گروپ انشورنس جنکی ادائیگی کے معاہدے غیر ملکی اداروں کے ساتھ کیے گئے ہیں جنکا اس رقم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ رقم سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کاٹی جاتی ہے تو معاہدہ ان ملازمین سے کرنا چاہیے تھا۔ جب سرکاری ملازم ریٹائرڈ ہوتے ہیں تو انہیں ان معاہدوں کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے، تاکہ سرکاری ملازم اپنی پوری سروس کے دوران کاٹ لی گئی رقم سے کچھ رقم حاصل کرسکیں۔ سرکاری ملازم سندھ حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ حکومت اور اسٹیٹ لائف کمپنی کے درمیان گروپ انشورنس کے لیے یکم جولائی سنہ دو ہزار دو عیسوی کے کیے معاہدے میں ترمیم کرے، سرکاری ملازمین کو اپنی رقم ریٹائرمنٹ کے بعد موت کی شرط کو ختم کرکے اور تمام ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو پچیس سال کی سروس یا ساٹھ سال کی عمر مکمل کرنے کے بعد گروپ انشورنس کی رقم ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو منافع کے ساتھ واپس کی جائے۔ یہ سندھ حکومت کی اپنے ہی ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔


