*عنوان: پاکستان کن بینادوں پر خالصتاً اسلامی ریاست بن سکتا ھے*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: پاکستان کن بینادوں پر خالصتاً اسلامی ریاست بن سکتا ھے*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
آج بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان محض اسلامی نام، اسلامی دفعات، مذہبی نعروں اور حکمرانوں کے خطابات سے اسلامی ریاست بن سکتا ہے؟ یقیناً نہیں! اسلامی ریاست کی اصل پہچان اس کے حکمرانوں کے کردار، ریاستی اداروں کے طرزِ عمل، قانون کی بالادستی اور عوام کو فراہم کیے جانے والے عدل و انصاف سے ہوتی ہے۔ پاکستان کو حقیقی اسلامی ریاست بنانے کے لیے سب سے پہلے ریاست، حکمرانوں، پارلیمنٹ، عدلیہ، انتظامیہ، مقتدر حلقوں اور عوام کو اپنے اپنے کردار کا قرآن و سنت کی روشنی میں احتساب کرنا ہوگا۔ اسلامی ریاست میں وزیراعظم، صدر، جرنیل، جج، صنعت کار، سرمایہ دار اور عام شہری قانون کے سامنے برابر ہوں۔ کسی طاقتور کو استثنیٰ اور کسی کمزور کو بے انصافی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ترجمہ۔ ”بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘ (النساء: 58)۔
*حکمرانوں اور مقتدر اداروں کا حقیقی احتساب ہو*
ریاستی خزانے، قومی وسائل، سرکاری مراعات، اختیارات اور عوامی مینڈیٹ کا غلط استعمال سنگین خیانت تصور ہو۔ حکمرانوں کے اثاثوں، آمدنی، اخراجات اور فیصلوں کا شفاف احتساب ہو۔ سورۃ النساء: 29 (ناجائز طریقے سے مال کھانا)
*عوام کی بنیادی ضروریات ریاست کی ترجیح ہوں*
ہر شہری کو خوراک، صاف پانی، رہائش، تعلیم، علاج، روزگار اور تحفظ کی فراہمی کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ زکوٰۃ، عشر، اوقاف اور بیت المال کو سیاسی مفادات کے بجائے مستحقین کی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔
*اقربا پروری کے بجائے اہلیت اور میرٹ ہو*
*اقلیتوں، کمزور طبقات اور شہری آزادیوں کا تحفظ ہو*
اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کے جان، مال، عزت، عبادت گاہوں اور مذہبی آزادی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہو۔ کسی شہری کے ساتھ مذہب، مسلک، زبان، نسل یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر ناانصافی نہ ہو۔ قرآن مجید کا اصول ہے: ”دین میں کوئی زبردستی نہیں۔‘‘ (البقرہ: 256)
*پارلیمنٹ مشاورت، دیانت اور عوامی نمائندگی کا مرکز ہو*
تعلیمی نظام صرف ڈگریاں اور ملازمتیں پیدا نہ کرے بلکہ سچائی، امانت، برداشت، تحقیق، اخلاق، خدمتِ خلق اور قانون کی پاسداری کا شعور پیدا کرے۔ مدارس، جامعات اور جدید تعلیمی اداروں میں علم و اخلاق کا امتزاج ہو۔
*ریاستی ادارے آئین اور قانون کے تابع ہوں*
فوج، عدلیہ، پارلیمنٹ، انتظامیہ، پولیس، بیوروکریسی اور تمام ریاستی ادارے اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں کام کریں۔ کوئی ادارہ قانون سے بالاتر نہ ہو اور نہ ہی کوئی طاقت عوام کے حقوق سلب کرنے کا اختیار رکھے۔ آئین پاکستان میں اسلامی ریاست کی بنیادیں پہلے سے موجود ہیں۔ یہ ایک اہم حقیقت ہے کہ پاکستان کے 1973ء کے آئین میں اسلامی ریاست کے کئی بنیادی اصول درج ہیں:
آرٹیکل 31 اسلامی طرزِ زندگی
آرٹیکل 37 سماجی انصاف اور معاشرتی برائیوں کا خاتمہ
آرٹیکل 38 عوام کی معاشی و سماجی فلاح
آئین کی قراردادِ مقاصد میں عدل، مساوات، جمہوریت، مذہبی آزادی، بنیادی حقوق اور عدلیہ کی آزادی کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔
*پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا عملی راستہ کیا ہے؟*
جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی کی نظر میں محض نئی حکومت، نئی پارلیمنٹ، نئی مذہبی جماعت یا نئے آئینی نعرے سے پاکستان اسلامی ریاست نہیں بن سکتا۔ اس کے لیے قومی سطح پر ایک منظم سب سے بڑا سوال: آغاز کہاں سے ہوگا؟ پاکستان میں اسلامی ریاست کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ صرف قوانین کی کمی نہیں بلکہ کردار، عمل، نیت، سیاسی مفادات، ادارہ جاتی بالادستی اور احتساب کے فقدان کا مسئلہ بھی ہے۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ جو حکمران خود جھوٹ، بددیانتی، اقربا پروری، ناانصافی اور قومی وسائل کے ناجائز استعمال میں ملوث ہوں، وہ اسلامی حکمرانی کا عملی نمونہ پیش نہیں کرسکتے۔
اسی طرح عوام بھی اگر اپنی روزمرہ زندگی میں جھوٹ، رشوت، دھوکہ، ملاوٹ، خیانت اور حق تلفی کو معمول بنائے رکھیں تو صرف حکمرانوں کی تبدیلی سے معاشرہ اسلامی نہیں بن سکتا۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اسلام کا نظام محض دوسروں پر نافذ کرنے کا نام نہیں، بلکہ سب سے پہلے اپنی ذات، اپنے کردار، اپنے معاملات اور اپنے اختیارات کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع کرنے کا نام ہے۔ کیا پاکستان کے حکمران، سیاست دان، پارلیمنٹیرین، مقتدر حلقے اور ریاستی ادارے اس بات کے لیے تیار ہیں کہ وہ قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق اپنے اختیارات، مراعات، دولت، فیصلوں اور طرزِ حکمرانی کا غیر جانب دارانہ احتساب قبول کریں؟ کیونکہ اسلامی ریاست کا آغاز عوام پر حکم چلانے سے نہیں بلکہ حکمرانوں کے اپنے احتساب سے ہوتا ہے۔ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانا ہے تو پہلے پاکستانی کردار کو اسلامی بنانا ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب۔۔۔۔!!



