کالم/مضامین

*عنوان: نظامِ ریاست و حکمرانی کی بدصورتی — ایک سنگین قومی المیہ*

*بیدار ہونے تک*

*عنوان: نظامِ ریاست و حکمرانی کی بدصورتی — ایک سنگین قومی المیہ*

*کالمکار: جاوید صدیقی، جرنلسٹ کراچی*

بدصورتی کو سمجھنے کے لیے خوبصورتی کا تصور واضح ہونا ضروری ہے، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ کائنات کا حسن، اس کا نظم و ضبط اور اس میں موجود فطری توازن ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ خوبصورتی محض ظاہری رنگ و روپ کا نام نہیں، بلکہ کردار، عمل، انصاف، دیانت، رحم اور ذمہ داری بھی اپنے اندر ایک جمال رکھتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت، عدل و انصاف، انسانی حرمت اور حقوق العباد کی پاسداری نیکی اور حسنِ کردار کی بنیادیں ہیں، جبکہ ظلم، تکبر، ناانصافی اور دوسروں کے حقوق پامال کرنا اخلاقی بدصورتی کی نمایاں صورتیں ہیں۔ معزز قارئین!! اگر یہی اصول انفرادی زندگی سے نکال کر ریاستی و حکومتی نظام پر لاگو کیے جائیں تو ایک تلخ سوال سامنے آتا ہے: کیا کسی اسلامی ریاست کی خوبصورتی صرف اس کے نام، آئین میں درج اسلامی دفعات اور مذہبی نعروں سے ثابت ہوتی ہے، یا اس کا اصل معیار شہریوں کو فراہم کیا جانے والا انصاف، تحفظ، عزت، مساوات اور بنیادی حقوق ہیں؟ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے۔ اس کے آئین میں اسلامی اصولوں، بنیادی حقوق اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے واضح دفعات موجود ہیں۔ تاہم جب معاشرے میں ظلم، جنسی جرائم، بچوں کا استحصال، خواتین کی بے حرمتی، بااثر مجرموں کی سرپرستی اور انصاف کی فراہمی میں مسلسل رکاوٹیں دکھائی دیتی ہیں تو ریاستی نظام کی کارکردگی پر سوال اٹھانا ہر باشعور شہری کا حق بن جاتا ہے۔ ریاست کی اصل کامیابی اس کے دعوؤں سے نہیں بلکہ اس بات سے جانچی جاتی ہے کہ اس کے کمزور ترین شہری کو کتنا تحفظ حاصل ہے۔ اگر ایک بچہ اپنے ہی ماحول میں محفوظ نہیں، اگر ایک خاتون کو انصاف کے حصول کے لیے سماجی تضحیک اور طاقتور افراد کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے، اور اگر ایک مظلوم خاندان مقدمہ درج کرانے سے پہلے اپنی عزت، جان اور مستقبل کے بارے میں خوف زدہ ہو تو یہ محض انفرادی جرائم نہیں رہتے، بلکہ نظامِ تحفظ، قانون کے نفاذ اور حکمرانی کی سنجیدہ آزمائش بن جاتے ہیں۔
*خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم:*
یہاں ایک ناقابلِ برداشت حقیقت ھے کہر پاکستان میں خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی تشدد، زیادتی اور استحصال ایک سنگین سماجی و قانونی مسئلہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے مختلف ادوار میں ان واقعات کے اعدادوشمار اور رجحانات سامنے لاتے رہے ہیں۔ ان رپورٹوں سے ایک تشویش ناک تصویر سامنے آتی ہے، تاہم مختلف اداروں کے اعدادوشمار میں فرق، مقدمات کی درجہ بندی اور رپورٹنگ کے طریقۂ کار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ بعض غیر سرکاری تخمینوں میں خواتین سے زیادتی کے سالانہ ہزاروں واقعات اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے روزانہ متعدد واقعات رپورٹ ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح گزشتہ پندرہ برسوں کے لیے مجموعی تعداد کے مختلف اندازے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن کسی ایک مجموعی عدد کو مستند قومی حقیقت قرار دینے سے پہلے متعلقہ ادارے، رپورٹ کا سال، اعدادوشمار کی تعریف اور اصل ماخذ کی تصدیق لازمی ہے۔ یہاں بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے مقدمات درج ہوئے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کتنے واقعات کبھی پولیس تک پہنچ ہی نہیں پاتے، کتنے متاثرین کو تحفظ ملتا ہے، کتنے مقدمات میں شواہد محفوظ کیے جاتے ہیں اور کتنے متاثرہ خاندان انصاف حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
*خاموشی کے پیچھے چھپا ہوا خوف*
ہمارے معاشرے میں جنسی جرائم کی بہت سی صورتیں سماجی بدنامی، خاندانی دباؤ، خوف اور عدم اعتماد کے باعث منظرِ عام پر نہیں آتیں۔ متاثرہ فرد یا اس کے اہلِ خانہ کو خدشہ رہتا ہے کہ معاشرہ مجرم کے بجائے انہیں ہی کٹہرے میں کھڑا کر دے گا۔ بعض خاندانوں کو رشتے ٹوٹنے، کردار کشی، معاشرتی بائیکاٹ یا بااثر ملزمان کی دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے کہ بعض اوقات مظلوم سے سوالات کیے جاتے ہیں، جبکہ مجرم کے کردار، طاقت اور اثر و رسوخ کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنسی تشدد کا ذمہ دار مجرم ہوتا ہے؛ متاثرہ شخص کو الزام دینا یا اسے خاموش رہنے پر مجبور کرنا ناانصافی کو مزید تقویت دیتا ہے۔ بچوں کے معاملات میں صورتِ حال مزید حساس ہو جاتی ہے۔ بعض واقعات میں ملزم کوئی اجنبی نہیں بلکہ واقف کار، محلے دار یا خاندان کا فرد بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے بچوں کے تحفظ کے لیے والدین کی نگرانی، مناسب آگاہی، محفوظ ماحول اور بچوں کی بات سننے کا رویہ اہم ہے۔ تاہم ذمہ داری کا اصل بوجھ ہمیشہ جرم کرنے والے فرد پر ہی عائد ہوتا ہے۔
*قانون موجود، مگر انصاف کہاں ہے؟*
پاکستان میں جنسی جرائم کی روک تھام اور متاثرین کے تحفظ کے لیے قوانین بنائے گئے ہیں، جن میں اینٹی ریپ (تحقیقات و ٹرائل) ایکٹ 2021 بھی شامل ہے۔ خصوصی عدالتوں اور بہتر تفتیشی طریقۂ کار کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن قانون سازی اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب اس پر بلاامتیاز عمل درآمد ہو۔ اگر مقدمہ درج کرانے میں رکاوٹیں ہوں، تفتیش غیر معیاری ہو، شواہد ضائع ہو جائیں، گواہوں کو دھمکایا جائے یا مقدمات برسوں تک فیصلوں کے منتظر رہیں تو قانون کی موجودگی کے باوجود انصاف کا حصول دشوار ہو جاتا ہے۔ جنسی جرائم میں سزا کی شرح کے بارے میں مختلف رپورٹوں میں انتہائی کم تناسب کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم سزا کی شرح بیان کرتے وقت یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ حساب درج شدہ مقدمات، زیرِ تفتیش کیسز، عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات یا مکمل فیصلوں میں سے کس بنیاد پر کیا گیا ہے۔ محض کسی غیر واضح شرح کی بنیاد پر پورے عدالتی نظام کا حتمی فیصلہ نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے باوجود مقدمات کے اندراج سے لے کر تفتیش، استغاثہ اور عدالتی فیصلے تک ہر مرحلے کی شفاف جانچ ناگزیر ہے۔
*تفتیشی نظام کی کمزوریاں اور عدالتی تاخیر*
جنسی جرائم کے مقدمات میں سائنسی شواہد کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ بروقت طبی معائنہ، ڈی این اے اور دیگر فارنزک شواہد کو درست طریقے سے جمع کرنا، محفوظ رکھنا اور عدالت میں قابلِ قبول صورت میں پیش کرنا تفتیش کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ اگر تفتیشی افسران کو مناسب تربیت، جدید آلات اور ضروری وسائل میسر نہ ہوں تو مقدمے کی بنیاد کمزور ہو سکتی ہے۔ اسی طرح متاثرین کے ساتھ غیر حساس رویہ، بار بار غیر ضروری سوالات اور رازداری کا خیال نہ رکھنا ان کی تکلیف میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ جنسی جرائم کی تحقیقات میں ایسے طریقوں سے اجتناب بھی ضروری ہے جن کی سائنسی بنیاد نہ ہو اور جو متاثرہ فرد کی عزت و وقار کو مجروح کریں۔ طبی معائنہ صرف متعلقہ قانونی و طبی ضوابط اور متاثرہ فرد کے حقوق کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔ دوسری جانب، گواہوں کو دھمکیاں دینا، مدعی پر صلح کے لیے دباؤ ڈالنا اور اثر و رسوخ استعمال کرکے مقدمات کمزور کرنا انصاف کی راہ میں سنگین رکاوٹیں ہیں۔ جب فیصلہ آنے میں غیر معمولی تاخیر ہو تو متاثرہ خاندان معاشی، ذہنی اور سماجی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہی وہ مقامات ہیں جہاں ریاستی اداروں کی ذمہ داری محض کارروائی کرنے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ انہیں یقینی بنانا ہوتا ہے کہ قانون کا اطلاق ہر شہری پر یکساں ہو۔
*حکمرانی کی بدصورتی کا اصل چہرہ*
معزز قارئین!! کسی ریاست کی بدصورتی صرف کرپشن، سیاسی محاذ آرائی یا انتظامی نااہلی سے ظاہر نہیں ہوتی؛ اس کی سب سے سنگین شکل اس وقت سامنے آتی ہے جب کمزور شہری اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی طاقتور افراد، اداروں یا سماجی دباؤ کا محتاج ہو جائے۔ اسلامی تعلیمات عدل، امانت، جواب دہی اور انسانی حرمت پر زور دیتی ہیں۔ قرآنِ حکیم ہمیں عدل و انصاف پر قائم رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی فرد، ادارہ یا حکمران اسلامی اقدار کا نام تو لے لیکن عملی طور پر ظلم، ناانصافی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے میں ناکام رہے تو اس کے طرزِ عمل کا احتساب ہونا چاہیے۔ یہ احتساب کسی مذہبی نعرے، سیاسی وابستگی یا ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر نہیں، بلکہ شواہد، قانون اور منصفانہ اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لائیں، متاثرہ فرد کی عزت و رازداری محفوظ رکھیں اور کسی بے گناہ کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار نہ دیں۔
*اصلاحات کے بغیر تبدیلی ممکن نہیں*
پاکستان میں خواتین اور بچوں کو محفوظ بنانے کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں: اول: پولیس میں جدید تفتیش، فارنزک سائنس، ڈی این اے شواہد اور متاثرین سے حساس انداز میں پیش آنے کی تربیت کو مؤثر بنایا جائے۔ دوم: جنسی جرائم کے مقدمات کی بروقت سماعت اور فیصلوں کے لیے خصوصی عدالتوں اور متعلقہ اداروں کو درکار وسائل فراہم کیے جائیں، جبکہ عدالتی آزادی اور قانونی تقاضوں کا مکمل احترام برقرار رکھا جائے۔ سوم: متاثرین اور گواہوں کے تحفظ کے لیے مؤثر انتظامات کیے جائیں تاکہ کوئی شخص دھمکی، دباؤ یا انتقام کے خوف سے پیچھے نہ ہٹے۔ چہارم: بچوں کے تحفظ کے لیے گھر، تعلیمی اداروں اور معاشرتی سطح پر عمر کے مطابق آگاہی پیدا کی جائے۔ بچوں کو یہ اعتماد دیا جائے کہ وہ کسی نامناسب رویے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کی اطلاع بلاخوف دے سکتے ہیں۔ پنجم: جنسی جرائم کے اعدادوشمار کی باقاعدہ، شفاف اور قابلِ تصدیق اشاعت یقینی بنائی جائے۔ مقدمات کے اندراج، تفتیش، استغاثہ، فیصلوں اور سزاؤں کی الگ الگ تفصیلات سامنے لائی جائیں تاکہ قومی سطح پر حقیقی صورتِ حال معلوم ہو سکے۔ ششم: میڈیا، مذہبی و سماجی رہنماؤں اور تعلیمی اداروں کو متاثرین کی کردار کشی کے بجائے قانون، اخلاقی ذمہ داری اور انسانی وقار کے احترام کو فروغ دینا چاہیے۔ہفتم: حکومت اور متعلقہ ادارے قوانین کے نفاذ کا جائزہ لیں اور جہاں انتظامی یا قانونی کمزوریاں سامنے آئیں، انہیں شفاف طریقے سے دور کریں۔ احتساب کا معیار عہدہ، دولت، تعلقات یا سیاسی وابستگی نہیں بلکہ قانون ہونا چاہیے۔
*اخلاقی تربیت اور ریاستی ذمہ داری*
معزز قارئین!انسان کی خواہشات، اخلاقی تربیت، ماحول اور طرزِ فکر اس کے کردار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات انسان کو نگاہ، کردار اور عمل کی پاکیزگی، نفس پر قابو، دوسروں کی حرمت اور برائی سے اجتناب کی تلقین کرتی ہیں۔ منشیات، استحصال، تشدد، فحش مواد تک غیر ذمہ دارانہ رسائی اور اخلاقی تربیت کی کمی جیسے عوامل بعض حالات میں مسائل کو بڑھا سکتے ہیں، تاہم کسی بھی جنسی جرم کو محض ایک سبب سے منسوب کرنا درست نہیں۔ اس کی روک تھام کے لیے شواہد پر مبنی تحقیق، مؤثر قانون نافذ کرنے والے ادارے، تعلیم اور سماجی اصلاح سب ضروری ہیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی جرم کی ذمہ داری مجرم پر عائد ہوتی ہے۔ لباس، طرزِ زندگی یا معاشرتی حیثیت کو بنیاد بنا کر متاثرہ فرد کو قصوروار ٹھہرانا انصاف اور انسانی وقار کے منافی ہے۔ والدین، تعلیمی اداروں اور معاشرے کی ذمہ داری تربیت اور تحفظ فراہم کرنا ہے، جبکہ ریاست کی ذمہ داری قانون کا نفاذ اور ہر شہری کے بنیادی حقوق کی حفاظت ہے۔
*آخری سوال: ریاست کس کے لیے ہے؟*
پاکستان کے حکمرانوں، قانون سازوں، پولیس، استغاثہ، عدلیہ، تعلیمی اداروں اور معاشرتی رہنماؤں کو اس بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا کہ ریاست کا وجود آخر کس مقصد کے لیے ہے؟ اگر ریاست اپنے شہریوں کی جان، عزت، آزادی اور بنیادی حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتی تو محض بلند بانگ دعوے اس کی کارکردگی کا متبادل نہیں بن سکتے۔ اسلامی ریاست کا وقار مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ عدل، دیانت، قانون کی بالادستی، کمزوروں کے تحفظ اور حکمرانوں کی جواب دہی سے قائم ہوتا ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو معاشرے کو ظلم سے انصاف، خوف سے تحفظ اور بداعتمادی سے اعتماد کی طرف لے جاسکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں جنسی جرائم کے خلاف محض مذمتی بیانات اور وقتی اقدامات کے بجائے مسلسل، شفاف اور قابلِ پیمائش عملی جدوجہد کی جائے۔ مجرم کو قانون کے مطابق سزا ملے، بے گناہ کو تحفظ حاصل ہو، متاثرہ فرد کو عزت و انصاف ملے اور کسی طاقتور شخص کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔ یاد رکھیے!! ریاست کی اصل خوبصورتی اس کے نعروں میں نہیں، بلکہ اس انصاف میں ہے جو ایک کمزور شہری کو بھی بلاخوف، بلاامتیاز اور بلا تاخیر میسر آئے۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You