کالم/مضامین

عنوان: سولہویں صدی اور بیسویں صدی کے ججز ۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: سولہویں صدی اور بیسویں صدی کے ججز ۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

انسانی تاریخ ہمیشہ سے عدل و انصاف کی طلب اور رائج کیلئے کوشاں رھی ھے۔ انسان نے ھمیشہ اسی وقت سکون اور امن پایا جب کبھی بھی کہیں بھی کسی بھی مقام پر عدل و انصاف کا عمل دیکھا گیا یہی وجہ ھے کہ تاریخ انسانی میں عدل و انصاف بہترین کامیاب امن و ترقی کیلئے کسی بھی معاشرے اور ریاست کیلئے لازم و ملزوم مشروط رکھا ھے۔ آج بیسویں صدی میں بلخصوص پاکستان میں ججز کا کردار آج سے پانچ سو سال قبل مسیح کے ججز اور ان کے نظام کی خاک بھی نہیں کیونکہ عدل انصاف کیلئے لازم ھے کہ جج کا کردار نیک نیتی ایمانداری ریانتداری سچائی اور شفافیت پر مضبوطی کیساتھ کاربند ھو۔ کیا ھمارے ججز میں ایسی خوبیاں موجود ھوتی ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! ایک سولہویں صدی کی ایک پینٹنگ پر نظر گئی تو تحقیق سے معلوم ھوا کہ یہ پینٹنگ جس میں پانچ سو قبل مسیح میں ایک بد عنوان جج کے زندہ ہوتے ہوئے اس کی کھال اتاری گئی۔ اس جج کا نام سیسمنس تھا۔ فارس میں بادشاہ کمبیسیس کے وقت ایک بدعنوان کرپٹ شاہی جج تھا۔ معلوم ہوا کہ اس نے عدالت میں رشوت لی اور غیر منصفانہ فیصلہ دیا۔ اس کے نتیجے میں بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے اس کی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا جائے اور اس کی زندہ کھال اتارنے کا حکم دیا۔ فیصلہ سنانے سے پہلے بادشاہ نے سیسمنیس سے پوچھا کہ وہ کسے اپنا جانشین نامزد کرنا چاہتا ہے۔ سیسمنس نے اس کے لالچ میں، اپنے بیٹے، اوتانیس کو منتخب کیا. بادشاہ نے رضامندی ظاہر کی اور جج سیسمنس کی جگہ اس کے بیٹے اوتانیس کو مقرر کیا۔ اس کے بعد اس نے فیصلہ سنایا اور حکم دیا کہ جج سیسمنس کی کھال یعنی جلد ہٹائی جائے اور اس کی جلد یعنی کھال کو جج کے بیٹھنے والی کرسی پہ چڑھا دیا گیا۔ جس پر نیا جج عدالت میں بیٹھ کر اسے بدعنوانی کرپٹ کے ممکنہ نتائج کی یاد دلائے گا۔ اوٹانیس، اپنے غور و خوض میں، ہمیشہ یہ یاد رکھنے پر مجبور تھا کہ وہ ہمیشہ اپنے پھانسی پانے والے باپ کی جلد پر بیٹھا رہتا تھا۔ اس سے اس کی تمام سماعتوں، غور و فکر اور جملوں میں انصاف اور مساوات کو یقینی بنانے میں مدد ملی۔ اگر ہم اس تاریخی واقعے کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ملک کے عدالتی نظام کو دیکھیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ہمارا عدالتی نظام انتہائی کرپٹ اور غیر مؤثر ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں مقدمے التواء کا شکار ہیں جن کا فیصلہ نہیں ہو رہا۔ بے گناہ لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں پچیس پچیس سال ایک مقدمے کے فیصلے کو لگ جاتے ہیں جبکہ یہی عدالتیں اشرافیہ کی خدمات کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غریب کمزور لاغر بےبس معاشرہ اور اُن کا عدالتی نظام ہم سے کئی درجے بہتر ہے اگر یہی تسلسل جاری رھا تو انکی عدالتوں کی ظالمانہ روش کا خاتمہ نا ممکن نہی یقینا جب منصف ہی ظالم بن جائے تو وہ ریاست تباہی کا منظر پیش کرتی ھے آج پاکستان بھی اسی صورتحال سے دوچار ھے۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You