عنوان: خواتین اور لپ اسٹیک کی تاریخ ۔۔۔!

ٹاٸٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: خواتین اور لپ اسٹیک کی تاریخ ۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
عورت جسے نسوان بھی کہتے ہیں اس کو ھمارے مذہب دین اسلام نے اپنے شوہر کیلٸے بننے سنورنے اور خوب دیدہ زیب تن ھونے کی نہ صرف اجازت دی ھے بلکہ حکم بھی فرمایا ھے۔ ریاست مدینہ سے لیکر آج پندرہ سو ویں ہجری میں بھی مسلم خواتین داٸرہ اسلام کی حدود میں رہتے ھوٸے خود کے حسن و جمال کو بڑھانے کیلٸے نت نٸے میک اپ کا استعمال بھی کرتی ہیں۔ آج نسوان کے حسن کو دوبالا کرنے والی اشیاء پروڈکٹ پر تفصیلی تذکرہ کریں گے وہ ھے لپ اسٹک۔۔۔ معزز قارٸین لپ اسٹک کی موجودہ شکل کو پہلی مرتبہ ایک سو اکتیس سال قبل متعارف کروایا گیا تھا تب سے اب تک لپ اسٹک نے نہ صرف عورت کی ظاہری شکل کو تبدیل کیا ہے بلکہ اس کے معاشرتی کردار پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ملک غریب ہو یا امیر، دنیا بھر میں خواتین میک اپ میں لپ اسٹک کو خاص اہمیت دیتی ہیں اور یہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا میک اپ کا آئٹم ہے، سنہ اٹھارہ سو تیراسی عیسوی میں پہلی مرتبہ لپ اسٹک کی موجودہ شکل کو ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں ہونے والی ایک عالمی نمائش میں متعارف کروایا گیا۔ ایمسٹرڈم کی نمائش کے چند ماہ بعد لپ اسٹک کی تجارتی بنیاد پر دریافت میں پیرس کے خوشبو ساز ادارے کے دو ماہرین کاسمیٹک شامل تھے، سنہ اٹھارہ سو چوراسی عیسوی میں یورپی ملک فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پہلی مرتبہ لپ اسٹک کو میک اپ کے ایک اہم جزو کے طور پر کمرشل انداز میں متعارف کروایا گیا تھا شروع میں اس کو مشکوک نظروں سے دیکھا گیا اور اس کا استعمال صرف تھیئٹریکل اداکارائیں، رقاصائیں اور جسم فروش خواتین کرتی تھیں۔ سنہ انیس سو بارہ عیسوی میں امریکا کی فیشن ایبل خواتین نے لپ اسٹک کو قبول کرلیا تھا ابتداء میں لپ اسٹک نہ صرف مہنگی بلکہ ایک لگژری آئٹم تھی عوامی سطح پر اس کو پذیرائی گزشتہ صدی میں بیس کی دہائی میں”خاموش فلموں“ کے دور میں ملی۔ سنہ اٹھارہ سو تیرانوے عیسوی میں ہی امریکا میں قائم ہونے والے فیش اسٹور سیئر کی فیشن کیٹلاگ میں بھی لپ اسٹک کو شامل کیا گیا تھا اندازہ لگایا گیا ہے کہ سنہ انیس سو بارہ عیسوی میں امریکا کی فیشن ایبل خواتین نے لپ اسٹک کو قبول کرلیا تھا یورپ میں فیشن ایبل خواتین نے امریکی خواتین کے لپ اسٹک استعمال کرنے کے نو سال بعد اسے اپنانا شروع کیا تھا۔ سنہ انیس سو اکیس عیسوی ایک ایسا سال تھا جب اس وقت کے تجارتی اور سیاسی منظر پر اجارہ داری کے حامل ملک برطانیہ کے دارالحکومت لندن کی خواتین نے اسے پسند کرنا شروع کیا اور یہی اس کی عام مقبولیت کا باعث بنا۔ انیسویں صدی کی پہلی چوتھائی کے دوران لندن فیشن کا گھر خیال کیا جاتا تھا جرمن خواتین میں بھی لپ اسٹک حالیہ برسوں میں بہت مقبولیت اختیار کر چکی ہے۔ سنہ دو ہزار بارہ عیسوی میں اٹھہتر فیصد جرمن عورتوں نے لپ اسٹک یا لپ گلوس کو استعمال کیا۔ اس طرح جرمن خواتین نے میک اپ کے اس لازمی جزو پر چونسٹھ املین یورو خرچ کٸے۔ لپ اسٹک استعمال کرنے والی جرمن خواتین کی یہ تعداد سنہ دو ہزار گیارہ عیسوی کے مقابلے میں پانچ اعشاریہ چھ فیصد زیادہ بنتی ہے۔ لپ اسٹک کی ایک سو اکتیس ویں سالگرہ کے موقع پر تیز رنگ متعارف کروائے گئے اور ان میں سرخ رنگ خاص طور پر اہم ہے فیشن ایکسپرٹ "رینے کوخ” کے مطابق یہ خواتین میں اعتماد اور کامیابی کی علامت ہے۔ ہزاروں سال پہلے قدیمی مصری تہذیب میں فراعین کی ملکائیں بھی ہونٹوں پر سرخ رنگ کا استعمال کرتی تھیں ان میں قلو پطرہ اور نفراتیتی بھی شامل ہیں اس وقت سرخ رنگ کو چھوٹی چھوٹی ڈبیوں میں محفوظ رکھا جاتا تھا اور انگلی یا پھر برش کی مدد سے ہونٹوں پر لگایا جاتا تھا اس وقت یہ عقیدہ تھا کہ ہونٹوں پر رنگ لگانے سے شیطانی قوتیں انسان کے جسم میں نہیں گھس سکتیں سولہویں صدی میں انگلستان میں سفید پاؤڈر سے چہرے کو سفید اور سرخ رنگ سے ہونٹ رنگنا اشرافیہ طبقے کا معروف فیشن تھا عام طور پر ایک لپ اسٹک کا ساٹھ فیصد حصہ موم اور تیس فیصد مختلف آئلز پر مشتمل ہوتا ہے اس کے علاوہ اس میں مختلف خوشبوئیں، رنگ اور کبھی کبھار سیلیکون بھی استعمال کئے جاتے ہیں، لپ اسٹک میں استعمال ہونے والا رنگ "کوکی نیل” نامی چھوٹے چھوٹے کیڑوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ میکسیکو میں پائے جانے والے ان کیڑوں کو خشک کرکے قرمزی رنگ بنایا جاتا ہے ۔۔۔ معزز قارٸین!! جنوبی ایشیاء کے تین ممالک جن میں پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش شامل ہیں ان میں نسوان اپنے حسن و جمال میں اضافے کیلٸے ظاہری دکھنے والا حسن چوڑیاں مہندی پاٸل چٹیا وغیرہ اس خطے کی نسوان میں مزید نسوانی حسن بکھیر یتا ھے یہ سب اشیاء پروڈکٹ یہاں خاص اہمیت رکھتی ھیں۔۔!!



