سندھ جاگے! لسانیت کے نعروں سے نکل کر حق، تعلیم، روزگار اور انصاف مانگو: جرنلسٹ جاوید صدیقی

سندھ جاگے! لسانیت کے نعروں سے نکل کر حق، تعلیم، روزگار اور انصاف مانگو: جرنلسٹ جاوید صدیقی
وڈیرانہ سیاست نے عوام کو کیا دیا؟ — اسکول، اسپتال، روزگار اور انصاف یا صرف نفرت کے نعرے؟ جاوید صدیقی
سندھ کے عوام خوف نہیں، اپنے حقوق کی بات کریں! جاوید صدیقی
سندھ کے عوام لسانی تعصب کے بجائے تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کو ترجیح دیں، جاوید صدیقی
کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے سینئر صحافی و کالمکار جاوید صدیقی نے کہا ہے کہ سندھ کے عوام کو زبان، لسانیت، نسلی تعصب اور تاریخی نعروں کی سیاست سے نکل کر اپنے بنیادی حقوق، تعلیم، صحت، روزگار، عدل و انصاف اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کئی دہائیوں سے اقتدار میں رہنے والے سیاسی و بااثر طبقات نے عام شہری کی زندگی بہتر بنانے کے لیے عملی طور پر کیا اقدامات کیے۔جاوید صدیقی نے کہا کہ اگر حکمران واقعی عوام سے مخلص ہوں تو اعلیٰ اور معیاری اسکول، کالجز اور جامعات قائم ہوں، نقل اور تعلیمی بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے، نوجوانوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے وسیع مواقع فراہم کیے جائیں اور روزگار کے نئے دروازے کھولے جائیں۔ عوام کو صحت کی معیاری سہولیات، قابل ڈاکٹرز، جدید اسپتال، صاف اور شفاف پینے کا پانی، بہتر سڑکیں، بنیادی شہری سہولیات اور عام آدمی کی قوتِ خرید کے مطابق ضروری اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کو محض سیاسی نعروں اور جذباتی وابستگیوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں یہ شعور دیا جانا چاہیے کہ حقیقی ترقی کا معیار تعلیم، صحت، روزگار، امن، انصاف، میرٹ اور گڈ گورننس ہے۔ عوامی نمائندوں کی کارکردگی کا جائزہ نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے لیا جانا چاہیے۔ جاوید صدیقی نے کہا کہ سندھ کے تمام شہریوں کو ایک دوسرے کے خلاف نفرت، لسانیت اور تعصب پر اکسانے کے بجائے محبت، بھائی چارے، ایثار اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔ کسی بھی قوم یا زبان سے تعلق رکھنے والے شہری کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرنا نہ قومی مفاد میں ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات کے مطابق۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کی عظیم روحانی و صوفیانہ روایت محبت، برداشت، انسان دوستی اور اخوت کا درس دیتی ہے۔ حضرت سچل سرمستؒ، حضرت لعل شہباز قلندرؒ، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ اور سندھ کے دیگر بزرگوں کی تعلیمات کو محض ثقافتی حوالوں تک محدود کرنے کے بجائے ان کے پیغامِ محبت، امن اور انسانیت کو عملی زندگی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین، اقتدار اور وسائل کسی فرد یا خاندان کی دائمی میراث نہیں، بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا اور عوام کی امانت ہیں۔ لہٰذا انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات، نئے صوبوں یا نئے انتظامی ڈویژنوں کے قیام جیسے معاملات کو نفرت اور خوف کی سیاست کے بجائے آئینی، قانونی، جمہوری اور عوامی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔جاوید صدیقی نے کہا کہ قرآنِ کریم انسان کو اللہ تعالیٰ پر توکل، حق و سچ، عدل و انصاف اور درست فیصلوں کی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق عوام کو کسی سیاسی شخصیت، جاگیردار، وڈیرے، وزیر یا مشیر سے اندھا خوف رکھنے کے بجائے اپنے حقوق اور فرائض کو سمجھنا چاہیے اور ہر معاملے میں قانون، آئین، اخلاق اور دینی اصولوں کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے سندھ کے عوام پر زور دیا کہ وہ تعصب کی سیاست کو مسترد، میرٹ کو فروغ، تعلیم کو ترجیح، نوجوانوں کے لیے ہنر و روزگار کے مواقع، صحت و شہری سہولیات کی فراہمی اور مؤثر احتساب کے لیے متحد ہوکر پرامن اور جمہوری جدوجہد کریں۔ انہوں نے واقع کردیا کہ سندھ کا مستقبل بدلنے جارھا ھے جہاں لسانیات تعصب اقربہ پروری حق تلفی اور ظلم و زیادتی سے پاک ایک ایسا نظام جس میں عدل و انصاف بھائی چارگی اخوت باہم اتفاق و اتحاد قابلیت ذہانت اہلیت ایمانداری و دیانتداری سچائی و دینداری اور انسانی حقوق کی پاسداری شامل ہوگی اس آنے والے نظام میں سیاسی غنڈی گردی کے بجائے خدمت گزاری و عاجزی و انکساری جیسے عوامل کو تقویت ملے گی۔ انھوں نے بتایا کہ تین نسلوں سے ملک بھر بلخصوص سندھ میں کرپشن لوٹ مار بدعنوانی بددیانتی اور بدترین مافیاء نے ریاست پاکستان ملک پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا اگر بہتر پاک و شفاف نظام فی الفور رائج نہ ہوا تو سو نسلیں پاکستان بلخصوص سندھ کی غلامی اور بدترین ظالمین کے پنجوں سے آزاد نہیں ہوسکیں گے۔ ظالموں اور لٹیروں کی مورثی سیاست مضبوط قائم و دائم رھے گی جس سے معاشرہ بدترین صورتحال سے دوچار ہمیشہ رہیگا۔ اللہ نے موقع دیا ھے اگر اسے زائل کردیا تو تمہاری دعائیں پھر کسی طور کام نہ آئیں گی۔ نئے نظام میں شامل تمام سیاسی و غیر سیاسی جماعتوں کو آگاہ کردیا ھے کہ وہ اپنا قبلہ درست کرکے چلیں اور اپنے اندر موجود منفی عناصر منفی اراکین اور منفی ممبران کو خارج کردیں یا پھر سخت پابند کردیں کہ وہ نئے نظام کے تحت خود کو ڈھال لیں اگر وہ اپنی پرانی روش پر رھے تو ان کا تعلق ھم سے نہیں ہوگا۔ جاوید صدیقی نے اپنے موقف میں کہا کہ نئے نظام میں احتساب کے عمل کو سخت رکھا گیا ھے اور احتسابی اداروں کو بھرپور اختیارات سے نوازا گیا ھے جبکہ پاکستان اکاؤنٹنٹ جنرل اسلام آباد و صوبائی رینجل آفسز کو بھی آگاہ کردیا گیا ھے کہ سالانہ آڈیٹ رپورٹ عوام الناس کیلئے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کو فراہم کی جائیں تاکہ عوامی نمائندگان کی کارکردگی بھی سالانہ عوام کے سامنے پیش ہوتی رہیں یہ عمل کر بجٹ سے ایک ماہ قبل سامنے لائیں جائیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کرپشن، منی لانڈرنگ، منشیات فروشی، منشیات استعمال پر سزائے موت یاد رھے منشیات ہر قسم کی شامل ہیں، قتل و زنا پر بھی سزائے موت متین کی گئی ھے جبکہ غبن، دھوکہ دہی، قبضہ گیری پر بیس سال قید با مشقت بمع جرمانہ عائد کیا جارھا ھے اسکے علاؤہ حراساں کرنا، بلیک میل کرنا، جبرا دباؤ اور اثر و رسوخ ڈالنا بھی سخت سزا کے زمرے میں لایا جارھا ھے۔ جاوید صدیقی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سندھ سمیت پورے پاکستان کے عوام کو حق و سچ پہچاننے، عدل و انصاف قائم کرنے اور باہمی محبت و اخوت کے ساتھ ملک و قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔



