جامعہ کراچی میں 47 ہزار طلبہ و طالبات اور ملازمین کے لیے خصوصی مرکز برائے ذہنی صحت و فلاح و بہبود

*جامعہ کراچی میں 47 ہزار طلبہ و طالبات اور ملازمین کے لیے خصوصی مرکز برائے ذہنی صحت و فلاح و بہبود قائم*

*وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی کا ذہنی صحت کو قومی ترجیح قرار دینے پر زور، ملک میں نفسیاتی مسائل کی تشویش ناک صورتحال کی نشاندہی، پُرامن اور پیداواری معاشرے کے قیام کے لیے ذہنی صحت پر توجہ ناگزیر قرار*
*سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کے چیئرمین سینیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ کا جامعہ کراچی کے لیے خصوصی ہیلپ لائن، طبی آلات اور تکنیکی معاونت کی فراہمی میں تعاون کا اعلان*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی نے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور انتظامی و غیر تدریسی عملے کو درپیش بڑھتے ہوئے نفسیاتی مسائل، ذہنی دباؤ، اضطراب اور جذباتی پریشانیوں کے ازالے کے لیے اپنے میڈیکل سینٹر میں خصوصی مرکز برائے ذہنی صحت و فلاح و بہبود (مینٹل ہیلتھ اینڈ ویل بیئنگ سینٹر) قائم کردیا ہے۔ یہ اقدام جامعہ کراچی کی جانب سے ایک صحت مند، معاون اور نفسیاتی اعتبار سے مضبوط تعلیمی ماحول کی تشکیل کے عزم کا اہم مظہر ہے۔مرکز کا باقاعدہ افتتاح گزشتہ روز سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی (ایس ایم ایچ اے) کے چیئرمین سینیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ اور وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے مشترکہ طور پر کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل کی تشویش ناک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ نفسیاتی صحت اور ذہنی آسودگی کو قومی ترقی کی ترجیحات میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے دستیاب تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں مختلف عمر کے تقریباً 37 فیصد افراد کسی نہ کسی نوعیت کے ذہنی دباؤ، نفسیاتی پیچیدگی یا ذہنی عارضے کا سامنا کررہے ہیں۔ مزید برآں، مختلف اندازوں کے مطابق ملک میں پانچ کروڑ سے زائد افراد نفسیاتی صدمات، ڈپریشن یا اضطراب سے متعلق مسائل سے متاثر ہیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ ذہنی صحت اب ایسا مسئلہ نہیں رہا جسے نجی یا ثانوی نوعیت کا معاملہ سمجھ کر نظرانداز کیا جاسکے۔ اس کے براہِ راست اثرات تعلیمی نتائج، معاشی پیداواری صلاحیت، سماجی استحکام اور معاشرے کی مجموعی ترقی پر مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک پائیدار معیشت، ترقی یافتہ قوم اور پُرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے ذہنی طور پر صحت مند آبادی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ذہنی صحت کے مسائل کو حل کیے بغیر تعلیم، تحقیق اور جدت کے میدان میں اعلیٰ معیار حاصل کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ ذہنی صحت کو بھی جسمانی صحت کی طرح سنجیدگی اور ادارہ جاتی عزم کے ساتھ اہمیت دینا ہوگی۔پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے بتایا کہ جامعہ کراچی میں اس وقت 47 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی بھی ایک بڑی تعداد جامعہ سے وابستہ ہے۔ اس وسیع اور متنوع تعلیمی برادری کے پیش نظر طلبہ و ملازمین کو نفسیاتی معاونت، بروقت رہنمائی، ابتدائی مداخلت اور پیشہ ورانہ مشاورت کی سہولیات فراہم کرنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ بنیادی سہولیاتِ زندگی کا فقدان، بڑھتے ہوئے سماجی دباؤ اور سوشل میڈیا کا بے تحاشا استعمال بھی بالخصوص نوجوانوں میں تنہائی، جذباتی اضطراب اور نفسیاتی مسائل میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایک جامعہ کی ذمہ داری صرف ڈگریاں جاری کرنے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کا فرض ہے کہ وہ ذہنی طور پر صحت مند، متوازن، پُراعتماد اور سماجی ذمہ داری کا احساس رکھنے والے افراد کی تربیت کرے، جو معاشرے کی مثبت ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ مرکز کا قیام اسی عزم کا عملی اظہار ہے۔وائس چانسلر نے اس امر پر زور دیا کہ طلبہ کو بلاخوف و تردد، رازداری کے مکمل تحفظ اور کسی قسم کے امتیاز یا تنقید کے خدشے کے بغیر پیشہ ورانہ نفسیاتی مشاورت کی سہولت میسر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نفسیاتی مسائل کی بروقت نشاندہی اور ایسے تعلیمی ماحول کا فروغ ضروری ہے جہاں ماہرین سے مدد حاصل کرنے کو کمزوری نہیں بلکہ ذمہ داری اور شعور کی علامت سمجھا جائے۔انہوں نے بتایا کہ جلد ہی ایک موبائل ایپلی کیشن بھی متعارف کرائی جائے گی، جس کے ذریعے طلبہ، اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کے مرکز سے منسلک کیا جائے گا، تاکہ وہ اپنی مشکلات اور مسائل پر ماہرین سے رازداری کے ساتھ رابطہ کرکے تبادلۂ خیال کرسکیں۔وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت اور نفسیاتی بہبود کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔انہوں نے سینیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ سے درخواست کی کہ سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی جامعہ کراچی کے موجودہ میڈیکل سینٹر کی استعداد بڑھانے میں تعاون کرے، تاکہ ذہنی صحت کے لیے ایک علیحدہ، مخصوص اور جدید سہولیات سے آراستہ مرکز قائم کیا جاسکے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی سینیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ نے جامعہ کراچی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ذہنی صحت اب بھی صحتِ عامہ کے ان شعبوں میں شامل ہے جنہیں نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے، کیونکہ لوگ اکثر اپنے نفسیاتی مسائل بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں یا ایسی علامات چھپاتے رہتے ہیں جن کے لیے پیشہ ورانہ توجہ اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے باہمی رابطے، ہمدردی اور سماجی معاونت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جذباتی اور نفسیاتی پریشانیوں کا شکار افراد کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ انہوں نے جامعہ میں ذہنی صحت کی خدمات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف عملی تجاویز بھی پیش کیں۔سینیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ نے اعلان کیا کہ وہ جامعہ کراچی کے لیے خصوصی ہیلپ لائن کے قیام میں معاونت کریں گے، جو ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں پہلے سے کام کرنے والی سہولت کی طرز پر قائم کی جائے گی۔ انہوں نے مرکز کی عملی استعداد بہتر بنانے کے لیے ضروری طبی آلات اور تکنیکی مہارت کی فراہمی میں بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔نئے قائم کردہ مرکز میں جامعہ کراچی کے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کو مفت اور مکمل رازداری کے ساتھ نفسیاتی مشاورت، تھراپی اور معاونتی خدمات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ آگاہی پروگرامز، احتیاطی اقدامات اور ضرورت کے مطابق متعلقہ ماہرین اور اداروں کو ریفر کرنے کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔تقریب میں رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عمران احمد صدیقی، ڈین فیکلٹی آف مینجمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنسز پروفیسر ڈاکٹر زعیمہ اسرار محی الدین، ڈین فیکلٹی آف سائنس پروفیسر ڈاکٹر بلقیس گل، ڈین فیکلٹی آف فارمیسی اینڈ فارماسیوٹیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمد حارث شعیب، ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید،انچارج سیمسٹر سیل پروفیسرڈاکٹر تنویر عباس، انچارج ڈائریکٹوریٹ آف ایڈمیشنز پروفیسر ڈاکٹر صائمہ اختر، اسٹوڈنٹس ایڈوائزر ڈاکٹر نوشین رضا، کیمپس سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر معیز خان، سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر وفا الطاف، میڈیکل آفیسر ڈاکٹر حسن اوج اور شعبۂ نفسیات کی پروفیسر ڈاکٹر زیاسما حنیف خان سمیت دیگر اساتذہ اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔بعد ازاں چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم میں ’’معیارِ تعلیم کا فروغ: معاون اور مثبت جامعاتی ماحول کی تشکیل‘‘ (Nurturing Excellence: Cultivating a Supportive University Ecosystem) کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ سے پروفیسر ڈاکٹر ذی اسما حنیف خان نے خطاب کیا۔ انہوں نے جامعہ کراچی کے ذہنی صحت سے متعلق اس اقدام اور مرکز کے عملی طریقۂ کار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے مختلف تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں پانچ کروڑ سے زائد افراد نفسیاتی صدمات، ڈپریشن اور اضطراب جیسے مسائل کا سامنا کررہے ہیں، جبکہ نوعمر اور یونیورسٹی کی عمر کے نوجوانوں میں تقریباً ہر چار میں سے ایک فرد کو نفسیاتی معاونت کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو روایتی تعلیمی کارکردگی کے پیمانوں سے آگے بڑھتے ہوئے طلبہ کی ذہنی صحت اور نفسیاتی آسودگی کو ان کی کامیابی کا لازمی جزو تسلیم کرنا ہوگا۔پروفیسر ڈاکٹر ذی اسما حنیف خان نے وضاحت کی کہ طویل خاموشی، تعلیمی کارکردگی میں غیر معمولی کمی، اسائنمنٹس جمع کرانے میں بار بار تاخیر اور سماجی میل جول سے کنارہ کشی جیسی علامات کو محض عدم دلچسپی یا غیر ذمہ داری سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ رویے کسی اندرونی ذہنی دباؤ، خوف یا دیگر نفسیاتی مسائل کی نشاندہی کرسکتے ہیں، جن پر بروقت توجہ اور معاونت ضروری ہے۔انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ افتتاح کردہ مرکز میں جامعہ کی پوری برادری کو مفت اور رازداری کے مکمل تحفظ کے ساتھ نفسیاتی مشاورت، تھراپی اور جامع معاونتی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس ضمن میں سیمینارز، ورکشاپس اور تربیتی نشستوں کا بھی اہتمام کیا جائے گا، تاکہ ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دیا جاسکے، مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنائی جاسکے اور نفسیاتی مدد حاصل کرنے سے وابستہ سماجی تاثر اور ہچکچاہٹ کا خاتمہ ممکن ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ ذہنی صحت کا جدید تصور صرف نفسیاتی امراض کی تشخیص اور علاج تک محدود نہیں بلکہ اس میں مثبت جذبات، زندگی کے مقصد کا احساس، بامعنی تعلقات، خود اعتمادی، مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور جسمانی، جذباتی، سماجی و روحانی آسودگی بھی شامل ہیں۔جامعہ کراچی کا مقصد اس مرکز کو ایک جامع ادارہ جاتی معاونتی نظام میں تبدیل کرنا ہے، جو پاکستان کے دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے بھی قابلِ تقلید نمونہ بن سکے۔ اس اقدام کے ذریعے اس بنیادی اصول کو تقویت دی جائے گی کہ تعلیمی معیار اور بہترین کارکردگی کا حصول طلبہ، اساتذہ اور ملازمین کی ذہنی صحت اور مجموعی فلاح و بہبود کو یقینی بنائے بغیر ممکن نہیں۔دریں اثناء کراچی یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے سبزہ زار میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی، سینیٹر کریم احمد خواجہ ودیگر نے پودے بھی لگائے۔



