*جامعہ کراچی میں طلبہ کی فلاح و بہبود اور تعلیمی ترقی کے لیے جامع اقدامات کا اعلان*

*جامعہ کراچی میں طلبہ کی فلاح و بہبود اور تعلیمی ترقی کے لیے جامع اقدامات کا اعلان*
*جامعہ کراچی میں 5 کروڑ روپے کے انڈومنٹ فنڈ کے قیام کا اعلان*
*2 کروڑ روپے کلیہ فنون و سماجی علوم میں داخلوں کے فروغ، جبکہ 3 کروڑ روپے مستحق اور ذہین طلبہ کی مالی معاونت کے لیے مختص ہوں گے*
*50 مستحق طلبہ میں 21 لاکھ روپے کے وظائف تقسیم، کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول کے 10 طلبہ کے لیے 13 لاکھ روپے کے میرٹ اسکالرشپس*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے کہا کہ تعلیم کا فروغ، انسانی وسائل پر سرمایہ کاری اور اجتماعی جدوجہد معاشرتی ترقی کی بنیاد ہیں۔ محدود مالی وسائل کامیابی کی راہ میں مستقل رکاوٹ نہں بنتے، بشرطیکہ انسان عزم و حوصلے، محنت اور تعلم کو اپنی ترجحات میں شامل رکھے۔انہوں نے جامعہ میں 5 کروڑ روپے مالیت کے انڈومنٹ فنڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے ڈائریکٹر فنانس، جامعہ کراچی کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ۔مجوزہ انڈومنٹ فنڈ میں سے 2 کروڑ روپےکلیہ فنون و سماجی علوم میں داخلوں کے فروغ کے لیے مختص کیے جائیں گے، جبکہ باقی 3 کروڑ روپے مستحق اور ذہین طلبہ کی مالی معاونت پر خرچ کیے جائیں گے، تاکہ مالی مشکلات کے باعث ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نےپیر کے روز جامعہ کراچی کے اسٹوڈنٹس فنانشل ایڈ آفس (SFAO) اور یونیورسٹی آف کراچی المنائی ہیوسٹن ایسوسی ایشن (UKAHA)، امریکہ کے اشتراک سے آڈیو ویژول سینٹر، جامعہ کراچی میں منعقدہ تقریبِ تقسیمِ وظائف سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر وسیم قاضی نے مزید کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد باصلاحیت طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مساوی مواقع فراہم کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مالی وسائل کی کمی کسی بھی مستحق اور ذہین طالب علم کی تعلیمی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ جامعہ کراچی کا یہ اقدام اعلیٰ تعلیم کے فروغ، سماجی علوم میں داخلوں کی حوصلہ افزائی اور مستحق طلبہ کی معاونت کے ذریعے تعلیمی مواقع کو مزید وسعت دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کہ والدین، اساتذہ اور معاشرے کی قربانیوں اور تعاون کا اعتراف کرنا اور معاشرے کو اس کا حق واپس لوٹانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اسی جذبۂ خدمت کے تحت انہوں نے بہتر معاوضے والی ملازمت چھوڑ کر جامعہ کراچی میں خدمات انجام دینے کا فیصلہ کیا، تاکہ جامعہ کے علمی وقار، تعلیمی معیار اور ماضی کی درخشاں روایات کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ڈاکٹر وسیم قاضی نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم کو محض ذاتی یا معاشی کامیابی کا ذریعہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے معاشرے کی بہتری اور قومی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جامعہ کراچی کو ایک مؤثر علمی و تحقیقی مرکز بنانے، طلبہ کو معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرنے اور ان میں خودمختاری، احساسِ ذمہ داری اور سماجی خدمت کا جذبہ پروان چڑھانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ڈاکٹر وسیم قاضی نے کہا کہ جامعہ کراچی کے نصاب کو صنعت، تجارت اور کاروباری شعبوں کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے گا، تاکہ طلبہ دورانِ تعلیم عملی تجربات، پیشہ ورانہ تربیت اور صنعتی اداروں کے ساتھ روابط کے ذریعے عملی زندگی کے تقاضوں سے بہتر طور پر ہم آہنگ ہو سکیں۔انہوں نے بتایا کہ طلبہ میں کاروباری صلاحیتوں اور جدت طرازی کو فروغ دینے کے لیے ڈاکٹر محمود حسین لائبریری میں ابتدائی طور پر بزنس انکیوبیشن سینٹر قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس مرکز کے ذریعے طلبہ کو اپنے کاروباری تصورات کو عملی شکل دینے، منصوبہ بندی کرنے اور اپنے منصوبے ممکنہ سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں گے۔وائس چانسلر نے کہا کہ کلاس روم سے باہر کی سرگرمیاں، ہم نصابی مواقع اور سماجی روابط بھی طلبہ کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تعلیم کا مقصد محض ڈگریوں کا حصول نہیں، بلکہ ایسے باصلاحیت، خوداعتماد اور تخلیقی نوجوان تیار کرنا ہے جو عملی زندگی کے تقاضوں کو پورا کرنے، روزگار کے بہتر مواقع حاصل کرنے اور نئے کاروبار قائم کرنے کے قابل ہوں، اور یوں معاشی و سماجی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔قبل ازیں، انچارج اسٹوڈنٹس فنانشل ایڈ آفس جامعہ کراچی، پروفیسر ڈاکٹر ذی اسما حنیف خان نے وظائف کے لیے امیدواروں کے انتخاب کے شفاف اور سخت معیار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ کراچی کے مختلف تدریسی شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 50 مستحق اور باصلاحیت طلبہ میں میرٹ اور مالی ضرورت کی بنیاد پر مجموعی طور پر 21 لاکھ روپے کے وظائف تقسیم کیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی آف کراچی المنائی ہیوسٹن ایسوسی ایشن (UKAHA)، امریکہ کی جانب سے کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول (KUBS) کے اعلیٰ کارکردگی کے حامل 10 طلبہ کو 13 لاکھ روپے کے میرٹ پر مبنی وظائف بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر ذی اسما حنیف خان نے کہا کہ وظائف کی فراہمی کا بنیادی مقصد مستحق اور باصلاحیت طلبہ کو مالی مشکلات سے نجات دلانے میں مدد دینا، ان کی تعلیمی کارکردگی کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔یونیورسٹی آف کراچی المنائی ہیوسٹن ایسوسی ایشن (UKAHA)، امریکہ کے صدر محمد اعظم اختر نے اپنے خطاب میں جامعہ کراچی سے گہری وابستگی اور مستحق طلبہ کی تعلیمی معاونت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ ان کی زندگی، شناخت اور شخصیت کا لازمی حصہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2008ء میں ہیوسٹن میں یونیورسٹی آف کراچی المنائی ایسوسی ایشن ہیوسٹن (UKAHA) کے قیام کا مقصد جامعہ سے تعلق برقرار رکھنے اور مستحق طلبہ کو مالی معاونت فراہم کرنا تھا۔وظائف حاصل کرنے والے طلبہ کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس معاونت کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد اور روشن مستقبل کی امید سمجھتے ہوئے محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کریں، جامعہ اور خاندان کا نام روشن کریں اور مستقبل میں دوسروں کی مدد کے لیے بھی اپنا کردار ادا کریں۔




