کالم/مضامین

امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

قرآنِ مجید اور صحیح احادیث کی روشنی میں سیرت، فضائل اور مقام و منزلت

تحریر : سعد محمد مدنی
فاضل مدینہ یونیورسٹی مدینہ منورہ

(حصہ اوّل)

ترجمہ: “نبی ایمان والوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں، اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔”

(سورۃ الأحزاب: ٦)

اسلام کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کا تذکرہ صرف ایک تاریخی کردار کے طور پر نہیں بلکہ ایمان، علم، تقویٰ، طہارت اور سنتِ نبوی کے امین کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا انہی مقدس ہستیوں میں سے ہیں، جنہیں اللہ رب العالمین نے خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی زوجیت، امت کی مادری نسبت، دین کے عظیم علم کی امانت اور قرآنِ مجید میں براءت و پاکدامنی کی دائمی شہادت جیسے بے مثال اعزازات عطا فرمائے۔

ازواجِ مطہرات کا مقام کسی انسانی رائے یا تاریخی روایت کا محتاج نہیں بلکہ خود قرآنِ مجید نے انہیں “امہات المؤمنین” قرار دے کر رہتی دنیا تک ان کے ادب و احترام کو ایمان کا حصہ بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ ایمان کے لیے ان کی محبت، توقیر اور دفاع، محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایک شرعی اور ایمانی ذمہ داری ہے۔

امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح بھی عام نکاحوں کی طرح محض ایک سماجی معاملہ نہ تھا بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت شامل تھی۔

اس مبارک نکاح کی ایک اور عظیم خصوصیت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو پہلے ہی خواب کے ذریعے اس کی بشارت عطا فرمائی۔ امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“تم مجھے دو مرتبہ خواب میں دکھائی گئیں۔ ایک فرشتہ تمہیں ریشم کے کپڑے میں اٹھائے ہوئے آیا اور اس نے کہا: یہ آپ کی زوجہ ہیں۔ میں نے چہرہ کھولا تو وہ تم تھیں۔ میں نے کہا: اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور پورا فرمائے گا۔”

(صحیح البخاری، حدیث: ٣٨٩٥، ٥٠٧٨؛ صحیح مسلم، حدیث: ٢٤٣٨)

یہ خواب اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ رشتہ محض انسانی تدبیر کا نتیجہ نہ تھا بلکہ ربِ کریم کی مشیت اور حکمت کے تحت قائم ہوا۔

رسول اللہ ﷺ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے محبت کا سب سے واضح اور غیر مبہم اظہار اس وقت سامنے آیا جب جلیل القدر صحابی حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:

“یارسول اللہ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟”

رسول اللہ ﷺ نے بلا تردد فرمایا:

“عائشہ۔”

انہوں نے عرض کیا: مردوں میں؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

“ان کے والد ابوبکر۔”

(صحیح البخاری، حدیث: ٣٦٦٢؛ صحیح مسلم، حدیث: ٢٣٨٤)

یہ مختصر مگر عظیم حدیث امُّ المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مقام و منزلت کا ایسا واضح اعلان ہے جس کے بعد کسی قیاس یا گمان کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی اپنی زبانِ مبارک سے ادا ہونے والا وہ فیصلہ ہے جسے امت نے ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ قبول کیا۔

رسول اللہ ﷺ کی محبت صرف زبان تک محدود نہ تھی بلکہ آپ ﷺ کی گھریلو زندگی، حسنِ معاشرت اور طرزِ عمل اس محبت کی عملی تفسیر تھے۔ امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

“میں حالتِ ماہواری میں برتن سے پانی پیتی، پھر رسول اللہ ﷺ وہی برتن لیتے اور میرے ہونٹوں کی جگہ پر اپنے ہونٹ رکھ کر پانی نوش فرماتے۔ اور میں ہڈی سے گوشت کھاتی تو رسول اللہ ﷺ بھی اسی جگہ سے تناول فرماتے جہاں سے میں نے کھایا ہوتا۔”

(صحیح مسلم، حدیث: ٣٠٠)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام نے عورت کی عزت و تکریم اور ازدواجی محبت کو کس قدر بلند مقام عطا کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل سے یہ تعلیم دی کہ میاں بیوی کا تعلق محبت، احترام، انس اور رحمت پر قائم ہونا چاہیے۔

اسی طرح امُّ المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں:

“میں حالتِ ماہواری میں ہوتی اور رسول اللہ ﷺ میری گود میں سر رکھ کر قرآنِ مجید کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔”

(صحیح البخاری، حدیث: ٢٩٧؛ صحیح مسلم، حدیث: ٣٠١)

یہ روایت نہ صرف رسول اللہ ﷺ کے حسنِ اخلاق کی عظیم مثال ہے بلکہ ان باطل تصورات کی بھی تردید کرتی ہے جو زمانۂ جاہلیت میں عورت کے بارے میں رائج تھے۔

رسول اللہ ﷺ اپنی زوجۂ مطہرہ کے جذبات اور احساسات سے بھی پوری طرح باخبر رہتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا:

“عائشہ! میں جان لیتا ہوں کہ تم مجھ سے خوش ہو یا ناراض۔”

انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ کیسے جان لیتے ہیں؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

“جب تم خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: محمد کے رب کی قسم، اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: ابراہیم کے رب کی قسم۔”

اس پر امُّ المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا:

“اللہ کی قسم! میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔”

(صحیح البخاری، حدیث: ٥٢٢٨)

یہ مختصر مکالمہ اس پاکیزہ گھرانے کی محبت، اعتماد، شفقت اور حسنِ معاشرت کا ایسا دلکش منظر پیش کرتا ہے جو قیامت تک مسلمان گھروں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے آخری ایام بھی امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں گزرے۔ آپ ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات سے اجازت طلب کی کہ بیماری کے دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں قیام فرمائیں، اور سب نے خوش دلی سے اجازت دے دی۔

پھر وہ مبارک لمحہ آیا جسے امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خود ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں:

“اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو میرے گھر میں، میری باری کے دن، اور میرے سینے اور گردن کے درمیان اس دنیا سے رخصت فرمایا۔”

(صحیح البخاری، حدیث: ٤٤٤٩، ٤٤٥٠)

یہ وہ اعزاز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے صرف امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے مقدر فرمایا۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"ہم صحابۂ رسول ﷺ پر جب بھی کوئی حدیث مشکل ہوئی اور ہم نے اس کے بارے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، تو ہم نے ان کے پاس اس کے متعلق علم پایا۔”

(جامع الترمذی، حدیث: ٣٨٨٣)

۔۔۔جاری ہے۔۔۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You