امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
قرآنِ مجید اور صحیح احادیث کی روشنی میں سیرت، فضائل اور مقام و منزلت
تحریر : سعد محمد مدنی
فاضل مدینہ یونیورسٹی مدینہ منورہ
(حصہ دوم)
رسول اللہ ﷺ کے گھر کو اللہ تعالیٰ نے جہاں وحی کا مرکز بنایا، وہیں اسے آزمائشوں کا میدان بھی بنایا، تاکہ قیامت تک اہلِ ایمان کے لیے حق و باطل کا معیار واضح رہے۔ امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زندگی کا سب سے کڑا امتحان وہ تھا جسے قرآنِ مجید نے “اِفک” یعنی عظیم بہتان کا نام دیا۔
یہ واقعہ غزوۂ بنی المصطلق سے واپسی کے سفر میں پیش آیا۔ امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک ہار کی تلاش میں قافلے سے کچھ پیچھے رہ گئیں۔ قافلہ یہ سمجھ کر روانہ ہو گیا کہ آپ ہودج میں موجود ہیں۔ بعد میں صحابیِ رسول حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ، جو لشکر کے پیچھے رہ جانے والی چیزوں کی نگرانی کرتے تھے، وہاں پہنچے۔ انہوں نے “إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ” پڑھا، اپنی اونٹنی بٹھائی، اور امُّ المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس پر سوار کر کے لشکر تک لے آئے۔ اسی موقع کو منافقین کے سردار عبداللہ بن اُبیّ نے بہتان تراشی کا ذریعہ بنایا اور ایک عظیم فتنہ کھڑا کر دیا۔
اس واقعے کی مکمل تفصیل خود امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان فرمائی ہے، جو حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں محفوظ ہے۔
(صحیح البخاری، حدیث: ٢٦٦١، ٤١٤١، ٤٧٥٠؛ صحیح مسلم، حدیث: ٢٧٧٠)
یہ محض ایک خاندان پر تہمت نہ تھی بلکہ نبوت، وحی اور اسلامی معاشرے کی پاکیزگی پر حملہ تھا۔ اسی لیے اللہ رب العالمین نے اس مقدمے کا فیصلہ زمین پر کسی انسان کے سپرد نہیں کیا بلکہ سات آسمانوں کے اوپر سے قرآنِ مجید کی آیات نازل فرما کر خود فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ ۚ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُم ۖ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ…﴾
ترجمہ:
“بے شک جو لوگ یہ بہتان لے کر آئے، وہ تم ہی میں سے ایک گروہ ہیں۔ تم اسے اپنے لیے برا نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر شخص کے لیے اتنا ہی گناہ ہے جتنا اس نے کمایا، اور جس نے اس بہتان کا بڑا حصہ اٹھایا، اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔”
(سورۃ النور: ١١)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو تنبیہ فرمائی:
﴿لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَٰذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ﴾
ترجمہ:
“جب تم نے یہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے لوگوں کے بارے میں نیک گمان کیوں نہ کیا، اور کیوں نہ کہا کہ یہ تو صریح بہتان ہے؟”
(سورۃ النور: ١٢)
پھر ارشاد فرمایا:
﴿لَوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ۚ فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَٰئِكَ عِندَ اللَّهِ هُمُ الْكَاذِبُونَ﴾
ترجمہ:
“وہ اس الزام پر چار گواہ کیوں نہ لائے؟ پھر جب وہ چار گواہ نہ لا سکے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔”
(سورۃ النور: ١٣)
اور پھر ان لوگوں کے بارے میں سخت وعید سنائی جنہوں نے پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائی:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾
ترجمہ:
“بے شک جو لوگ پاک دامن، بے خبر اور ایمان والی عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے، اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔”
(سورۃ النور: ٢٣)
سورۂ نور کی اس مبارک سلسلۂ آیات کا اختتام اللہ تعالیٰ نے اس اعلان پر فرمایا:
﴿الطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ﴾
ترجمہ:
“پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔ یہ پاک لوگ ان باتوں سے بری ہیں جو لوگ ان کے بارے میں کہتے ہیں۔ ان کے لیے مغفرت اور عزت والی روزی ہے۔”
(سورۃ النور: ٢٦)
یہ وہ عظیم اعزاز ہے جو دنیا کی کسی دوسری خاتون کو حاصل نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک پڑھی جانے والی اپنی کتاب میں ان کی پاکدامنی کی شہادت نازل فرمائی۔
جب یہ آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:
“اے عائشہ! اللہ تعالیٰ نے تمہاری براءت نازل فرما دی ہے۔”
پھر آپ ﷺ نے سورۂ نور کی یہ آیات تلاوت فرمائیں۔
(صحیح البخاری، حدیث: ٢٦٦١؛ صحیح مسلم، حدیث: ٢٧٧٠)
امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا صرف رسول اللہ ﷺ کی محبوب زوجہ ہی نہ تھیں بلکہ اہلِ بیتِ نبوی سے بھی نہایت محبت اور احترام کا تعلق رکھتی تھیں۔ وہ خود بیان کرتی ہیں کہ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ کسی کو رسول اللہ ﷺ کے چلنے، پھرنے، نشست و برخاست اور انداز میں مشابہ نہیں دیکھا۔ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لاتیں تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر ان کا استقبال فرماتے، انہیں بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے، اور جب رسول اللہ ﷺ ان کے گھر تشریف لے جاتے تو وہ بھی اسی محبت اور ادب سے آپ ﷺ کا استقبال کرتیں۔
(جامع الترمذی، حدیث: ٣٨٧٢ – حسن صحیح)
امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی آخری بیماری میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
“کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم جنت کی عورتوں کی سردار ہو؟”
(صحیح البخاری، حدیث: ٣٦٢٤؛ صحیح مسلم، حدیث: ٢٤٥٠)
اسی طرح وہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو اپنی چادر میں جمع فرمایا، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
ترجمہ:
“اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔”
(سورۃ الأحزاب: ٣٣)
(صحیح مسلم، حدیث: ٢٤٢٤)
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اہلِ بیت کے فضائل کو پوری امانت و دیانت کے ساتھ امت تک پہنچایا۔ اگر ان کے دل میں اہلِ بیت کے بارے میں کوئی کدورت ہوتی تو وہ ان کے فضائل کو روایت نہ کرتیں، لیکن صحیح احادیث گواہ ہیں کہ انہوں نے حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے مناقب خود روایت کیے اور امت تک پہنچائے۔
امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پوری زندگی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں علم، تقویٰ، فقاہت، دیانت، پاکدامنی اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے تحفظ کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ ان سے مروی ہزاروں احادیث نے امت کو عبادات، اخلاق، عائلی زندگی، طہارت، معاملات اور سیرتِ نبوی کے بے شمار پہلوؤں سے روشناس کرایا۔ قرآنِ مجید نے ان کی عفت و پاکدامنی کی گواہی دی، رسول اللہ ﷺ نے اپنی محبت کا کھلے الفاظ میں اظہار فرمایا، اور امت کے محدثین نے ان کی روایات کو دین کے معتبر ترین مصادر میں محفوظ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت تک آنے والے اہلِ ایمان کے دلوں میں امُّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مقام محبت، عقیدت، احترام اور اتباع کا رہے گا، اور ان کی سیرت ہر دور میں ایمان، علم، حیا، صبر اور وفاداری کا روشن مینار بنی رہے گی۔



