ہمیں اپنے اختلافات کو احترام کے دائرے میں رکھتے ہوئے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا

*ہمیں اپنے اختلافات کو احترام کے دائرے میں رکھتے ہوئے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔ سابق نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ*

*دنیا بنی نوع انسان کو سائنس و ٹیکنالوجی اور بالخصوص آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ثمرات سے فیضیاب کرنے کے لئے کوشاں ہے جبکہ ہمارے ملک میں آج بھی خودکش حملہ آور تیار ہورہے ہیں۔ انوارالحق کاکڑ*
*جامعات علم اور اختراع کے انکیوبیٹر کے طور پر مستقبل کے رہنماؤں کے ذہنوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ چیئرمین سندھ ایچ ای سی ڈاکٹر طارق رفیع*
*نظام کو صحیح کرنے کے لئے پہلے ہمیں خود درست ہونا پڑے گا بصورت دیگر ہم اس ملک کو مضبوط نہیں بناسکتے۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد عراقی*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات کو احترام کے دائرے میں رکھتے ہوئے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔ہمیں من حیث القوم اپنے اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سوالات الجھنے کے لئے نہیں بلکہ سمجھنے کے لئے کرنے چاہیئے، ہمارے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں، نوجوان پاکستان کے لئے مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ہمیں حقائق کے مطابق تنقید اور اختلاف رائے رکھنے کا پوراحق ہے لیکن بغیر تحقیق کے منفی پروپیگنڈے سے گریز اور اپنے سوچ کے زاویے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بنی نوع انسان کو سائنس و ٹیکنالوجی اور بالخصوص آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ثمرات سے فیضیاب کرنے کے لئے کوشاں ہے جبکہ ہمارے ملک میں آج بھی خودکش حملہ آور تیار ہورہے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں تنقید سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت اور نئے سرے اور نئے عزم کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ ایچ ای سی کے زیر اہتمام اور جامعہ کراچی کے اشتراک سے ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی میں منعقدہ لیکچر بعنوان: ”ملک کے نوجوانوں میں قومی یکجہتی اور قومی اتحاد کا فروغ“سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انوارالحق کاکڑ نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں آج بھی جنگ ہارنے کا طعنہ دیا جاتا ہے جو ہمارے بیمار اذہان کی عکاسی کے لئے کافی ہے۔ کیا ہم دنیا میں جنگ ہارنے والی پہلی قوم ہیں، دنیا کی ایسی کونسی قوم ہے جو جنگ نہیں ہاری، جو جنگ لڑے گا وہ یا جیتے گا یا ہارے گا۔ پاکستان میں کچھ لوگ اور قوتیں طعنہ زنی سے اس قوم کی مینٹل نشوونما کرنا چاہتے ہیں جبکہ دیگر جنگیں ہارنے والی اقوام طعنہ زنی نہیں کرتے کیونکہ وہ بیمار اذہان نہیں رکھتے۔ ہم صرف تنقید پر توجہ دیتے ہیں ہمیں اس تنقیدی ماحول سے نکلنا ہوگا۔ انہوں نے ہٹلر اور جرمن نازی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن جرمن معاشرے میں اس کا ذکر تک نہیں ہوتا، کیونکہ وہ زندہ لوگ ہیں جبکہ ہم گدھ ہیں اور کچھ کرنے کے بجائے صرف طعنہ زنی کرتے ہیں۔ماضی میں مغرب میں قومیت کے نام پر ہزاروں لاکھوں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر اس پر کسی قسم کا پروپیگنڈا نہیں کیا جاتا۔ ملک کی سلامتی، ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے مکالمے اور بردداشت کے کلچر کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اختلافات رکھنے کے باوجود دوسروں کی کو رائے سننے کی ضرورت ہے اسی صورت ہم ایک پرامن معاشرے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔ انوارالحق کاکڑ نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گالم گلوچ یا کسی کے گریبان میں ہاتھ ڈالنا تنقیدی سوچ نہیں بلکہ بدتہذیبی اور عدم برداشت کی واضح مثال ہے۔ میں اپنے بچپن سے سنتا آرہا ہوں کہ پاکستان منصوعی طور پر بنایا گیا ہے اور اس بیانیے کو فروغ دینے کی ناکام کوشش تاحال جاری ہے۔ ہمیں اس بیانیے کو ختم کرنے کے لئے من حیث القوم کلیدی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور دشمن قوتوں کے اس کے بیانیے کو جڑسے ختم کرنے کے لئے متحد ہونے کی ضرور ت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو تنقیدی سوچ اور تحقیق سے کوئی نہیں روکتا، آپ تحقیق کے میدان میں نام پیدا کرے۔ ریاست سے بڑھ کر کچھ نہیں ہمیں ریاست کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے سوچ کے زوایے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی ہمارا اثاثہ اور مستقبل ہیں اور آپ کو ہی اندرونی اور بیرونی سازشیں کرنے والے دشمن عناصر کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا کردار ادا کرنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی ایک سوشل اور پولیٹیکل سپورٹ ہے اور وہ اس پر جغرافیہ کو تبدیل نہیں کرسکتے، ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ باقی پاکستان کو کنفیوژ کرکے اپنے سا تھ ملالیں یا اپنی مقصد کا حمایتی بنالیں اور یہ بیانیے کی جنگ ہے، ہم سب اور بالخصوص ہماری نوجوان نسل کو اس بیانیے کو شکست دینے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین سندھ ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع نے کہا کہ اختلاف رائے ایک فطری چیز ہے لیکن یہ ہمارے قومی مفادات، مذہب اور ملک کی سالمیت سے برتر نہیں، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس اور اس کی ادائیگی کو یقینی بنانا چاہیئے۔ نوجوانوں کی کردار سازی میں جامعات کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں کیونکہ تربیت کے بغیر تعلیم بے مقصد ہوجاتی ہے۔ ڈ اکٹر طارق رفیع نے مزید کہا کہ جامعات، علم اور اختراع کے انکیوبیٹر کے طور پر مستقبل کے رہنماؤں کے ذہنوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ طالب علموں کو متنوع نقطہ نظر کے ساتھ مشغول ہونے کی ترغیب دے کر جامعات ایسا ماحول بناسکتی ہیں جہاں کھلے مکالمے کے ذریعے تقسیم کو ختم اور برداشت، یکجہتی اور اتحاد کے کلچر کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ سیاسی پولرائزیشن کو ختم کرنے میں نوجوانوں کے اہم کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، پاکستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو تبدیلی کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کے لئے کس قدر موثر طریقے سے شامل اور بااختیار بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پولرائزیشن پر اگر توجہ نہ دی گئی تو قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاسکتی ہے اور ان اداروں کو غیر مستحکم کرسکتی ہے جو عوام کی خدمت کرنے والے ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان کے نوجوان ملک کو مضبوط اور مستحکم مستقبل کی طرف گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سیاسی پولرائزیشن کو حل کرنے کے لئے نوجوانوں کا سب سے طاقتور طریقہ تعلیم کے ذریعے ہے۔ تعلیم صرف علم حاصل کرنے کے بارے میں نہیں ہے، یہ تنقیدی سوچ، ہمدردی، اور مختلف نقطہ نظر کو سمجھنے کے بارے میں ہے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ معاشرے میں اصلاحات کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے برداشت کے مادے کو بڑھانا پڑے گا۔ ہم وہ چیز سننا چاہتے ہیں جس کے بارے میں ہم فیصلہ کرچکے تھے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحث و مباحثے، سننے اور پڑھنے کے بعد کوئی نتیجہ اخذ کریں۔ قوم کی تعمیر کے لئے معاشی، سماجی، سیاسی، ادارتی اصلاحات، انسانی حقوق کی فراہمی اور قانون پر عملدرآمد ناگزیر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہم قانون پر عملدرآمد کئے بغیر انسانی حقوق کے چیمپئن بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں ہماری پہچان پاکستان سے ہے اس کے بغیر ہماری کوئی شناخت نہیں۔ ہمیں پاکستان کو نقصان اور اس کی معیشت کو کمزور کرنے والی قوتوں کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ نظام کو صحیح کرنے کے لئے پہلے ہمیں خود درست ہونا پڑے گا بصورت دیگر ہم اس ملک کو مضبوط نہیں بناسکتے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دوسروں کی رائے سننے اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔




