کراچی : گریڈ بیس کے افسر مظفر علی بھٹو کو سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کا چیئرمین تعینات

کراچی : گریڈ بیس کے افسر مظفر علی بھٹو کو سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کا چیئرمین تعینات کردیا گیا۔
*انیس گریڈ کے بدنامِ زمانہ کرپٹ افسر قاضی عارف کو بالآخر واپس ڈائرکٹر کے عہدے پر کام کرنے کا حکم دے دیا گیا۔*
*قاضی عارف نے عارضی چیئرمین ٹیکنیکل بورڈ کے عہدے پر رہتے ہوئے بڑے پیمانے پر کرپشن اور بورڈ کے فنڈز میں خوردبرد کی۔ ایک درجن سے زائد اپنے رشتے داروں کو قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بورڈ میں غیر قانونی طور پر بغیر اشتہار کے بھرتی کر ڈالا۔ جس سے بورڈ کو ماہانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپوں کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔*
اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے تعینات ہونے والے اچھی ساکھ کے حامل چیئرمین مظفر علی بھٹو قاضی عارف کی کی گئی تمام غیر قانونی بھرتیوں اور فیصلوں کو بورڈ کی بہتری میں واپس کرتے ہیں یا مٹی پاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہو کر جیسا ہے جہاں ہے کی بنیاد پر کام جاری رکھتے ہیں۔
ذرائع سے مزید معلوم ہوا ہے کہ قاضی عارف کی کی گئی کرپشن اور بورڈ میں کی گئی رشتے داروں کی غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ جلد ہی نیب اور اینٹی کرپشن میں کھلنے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیز اور بورڈز کے وزیر محمد علی ملکانی نے بھی قاضی عارف کے اوپر سے شفقت کا ہاتھ اٹھا لیا اور انکو ہٹا کر ایک اچھی ساکھ رکھنے والے سینیئر افسر مظفر علی بھٹو کو تعینات کر دیا۔
یاد رہے کے سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن پہلے ہی مالی اور انتظامی زبوں حالی کا شکار ہے اور قاضی عارف کے غیر قانونی اقدامات نے اس بورڈ کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان سے دو چار کر دیا ہے۔ آئندہ آنے والے دنوں میں بورڈ بہتری کی جانب گامزن ہوگا یا پھر پرانی ڈگر پر چلایا جائے گا اسکا انحصار قاضی عارف کے کئے گئے غیر قانونی اقدامات کی منسوخی سے مشروط ہے۔ اور یہ بات اگلے چند ہفتوں میں واضح ہو جائے گی۔



