جامعہ کراچی میں یوم اساتذہ کی مناسبت سے یوم تکریم اساتذہ کا انعقاد

*جامعہ کراچی میں یوم اساتذہ کی مناسبت سے یوم تکریم اساتذہ کا انعقاد*
*اساتذہ کی عزت نہ کرنے والا سماج کبھی خوشحال نہیں ہوسکتا۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد محمود عراقی*
*موجودہ دور میں اساتذہ کی عزت اور احترام کے حوالے سے گھرسے ملنے والی تربیت کا فقدان نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی*
*اس تبدیل شدہ معاشرے کے باوجود جو مقام استاد کا ہے اس کو آج تک کوئی تبدیل نہیں کرسکا۔ پروفیسر اعجاز فاروقی*
*جامعات کی پہچان صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ اس میں موجود اساتذہ سے ہوتی ہے۔اعجاز فاروقی*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ اساتذہ کی عزت نہ کرنے والا سماج کبھی خوشحال نہیں ہوسکتا، استاد کسی بھی قوم یا معاشرے کا معمار ہوتا ہے۔ وہ قوم کو تہذیب و تمدن، اخلاقیات اور معاشرتی اتار چڑھاؤ سے واقف کرواتا ہے۔ استاد اپنے شاگردوں کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے، وہ طلبہ کے ذہنوں میں اپنے افکار مرتسم کردیتا ہے جو تاحیات ان کی رہنمائی کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ قوموں کے عروج میں اساتذہ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ اساتذہ کی عزت میں اضافہ صرف پڑھانے سے نہیں بلکہ سکھانے سے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے آج کے استاد کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ اپنے شاگردوں کی کردار سازی اور مستقبل کی رہنمائی کرسکیں اور معاشرہ اس وقت آپ کو عزت دیتا ہے جب آپ معاشرے کی فلاح و بہبود میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ موجودہ دور میں اساتذہ کی عزت اور احترام کے حوالے سے گھر سے ملنے والی تربیت کا فقدان نظر آتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی اور یونی کیرئینز (انٹرنیشنل) کے زیر اہتمام عالمی یوم اساتذہ کی مناسبت سے ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی میں منعقدہ یوم تکریم اساتذہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ اساتذہ ہماری اخلاقی اور روحانی اصلاح و فلاح کے لئے اپنی زندگی صرف کرتے ہیں۔ درس و تدریس صرف ملازمت نہیں بلکہ ایک مقدس پیشہ اور ایک ذمہ داری ہے اور اس کو ایک ذمہ داری سمجھ کر ہی انجام دینا چاہیئے۔ صدر یونی کیرئینز (انٹرنیشنل) پروفیسر اعجاز فاروقی نے کہا کہ اپنے اساتذہ کی پذیرائی کرنا ہماری ذمہ داری ہے، دوہی رشتے ایسے ہوتے ہیں والدین اور اساتذہ جو اپنی اولاد اور اپنے شاگرد کی اپنے سے زیادہ ترقی دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ اس تبدیل شدہ معاشرے کے باوجود جو مقام استاد کا ہے اس کو آج تک کوئی تبدیل نہیں کرسکا۔ آج تک جتنی ترقی ہوئی اور جو ہورہی ہے اس میں اساتذہ کا کلیدی کردار ہے اور اساتذہ کے رتبہ میں تواتر کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ جامعات میں زیر تعلیم طلبہ کی شخصیت سازی اساتذہ کرتے ہیں، جامعات کی پہچان صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ اس میں موجود اساتذہ سے ہوتی ہے۔ بہت سے پسماندہ ممالک کی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کی وجہ تعلیم ہی ہے۔ سابق پرو وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شاہانہ عروج کاظمی نے کہا کہ ہمیں اپنے طلبہ کے سامنے اپنے کردار اور گفتار کے ذریعے ثابت کرنا چاہیئے کہ وہ ہمیں اپنا رول ماڈل اور آئیڈیل بنائیں، استاد کا مطلب صرف نصاب پڑھانا نہیں ہوتا بلکہ طلبہ کی صلاحیتوں کا اجاگر کرنا، ان کی شخٰصیت کو نکھارنا اور کردار سازی کرنا ہوتا ہے۔ استاد آپ کو آگے بڑھنا اور چلنا سکھاتا ہے اور آج ہم سب جس مقام پر ہیں وہ اپنے اساتذہ کی مرہون منت ہی ہیں۔ صدر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شاہ علی القدر نے کہا کہ ہم صرف نصاب پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں طلبہ کے ساتھ انٹرایکٹ کرنے کی کوشش نہیں کرتے جبکہ استاد کا کام طلبہ کے ساتھ انٹرایکٹ کرنا ہے اور اپنے طلبہ کو یہ بتانا ہے کہ تم میرے لئے کتنے عزیز ہو اور تمہیں میں جو تعلیم دے رہا ہوں اپنے دل و دماغ سے دے رہا ہوں۔ جامعہ کراچی کے اساتذہ اور ان سے فارغ التحصیل طلبہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور وہ اپنے اساتذہ کی دل و جان سے عزت کرتے ہیں۔ تقریب میں نظامت کے فرائض جامعہ کراچی کے استاد ڈاکٹر سید عاصم علی نے انجام دیئے جبکہ کلمات تشکر جنرل سیکریٹری یونی کیرئینز (انٹرنیشنل) پروفیسر عادل عظمت نے ادا کئے۔ اس موقع پر مختلف روئسائے کلیہ جات، صدور شعبہ جات اور اساتذہ کو شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔




