قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے ہندو میرج ایکٹ کے نفاذ کے لیے خط لکھ دیا

اسلام آباد(کاشف شمیم صدیقی ): قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) نے پنجاب حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ہندو میرج ایکٹ 2017 کے نفاذ کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔ اس سلسلے میں این سی ایچ آر کے ممبر پنجاب ندیم اشرف کی طرف سے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کو لکھے گئے خط میں کمیشن نے ہندو میرج رجسٹرار، یونین کونسلز کے ممکنہ سیکرٹریز کا فوری نوٹیفکیشن طلب کیاہے ۔
چیئرپرسن این سی ایچ آر رابعہ جویری آغا نے اس بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ”این سی ایچ آر ریجنل آفس لاہور فعال طور پر چیف سیکرٹری کے دفتر اور ندیم اشرف، ممبر (پنجاب)، این سی ایچ آر، کی طرف سے ایک فالو اپ سماعت جسے جنوری 2024 کے آخری ہفتے میں منعقد کرنا ہے کیلئے کام کررہا ہے ۔“
ہندو میرج ایکٹ، 2017 ہندو شادی اور طلاق کی رجسٹریشن کو منظم کرتا ہے۔ وفاقی قانون ہونے کے سبب یہ ایکٹ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بھی لاگو ہے۔ خط میں بیان کیا گیا ہے ” یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ مذکورہ قانون پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں، ہندو برادری کو ان کی شادیوں، طلاقوں، اور بچوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے اجراء کے دستاویزات کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے“۔
خط میں ہندو میرج رجسٹرار کے نوٹیفکیشن کے التواء اور ایکٹ کو نافذ کرکے ہندو برادری کو بنیادی حقوق میں کی فراہمی کے لیے چیف سیکریٹری پنجاب سے ذاتی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔
نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس ،پنجاب آفس نے متعدد شکایات کا جواب دیتے ہوئے اور اس مسئلے کی فوری حل کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے انسانی حقوق اور اقلیتی امور کے محکمے کے نمائندے کو جامع تفصیلات مرتب کرنے اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
چیئرمین این سی ایچ آر کا کہنا تھا کہ ”ہندو میرج ایکٹ، 2017 کو نافذ کرنے کے ذمہ دار انتظامی محکمے میں موجود ابہام کے سلسلے میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں ۔ اس کے بعد، ہندو برادری کو بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے معاملہ چیف سیکرٹری کی سطح تک لے جایا گیا، پنجاب حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ہندو میرج رجسٹرار، یونین کونسلوں کے ممکنہ سیکرٹریز کو مطلع کرے۔“
این سی ایچ آر کا مطالعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہندو میرج ایکٹ 2017 کے موثر نفاذ میں رکاوٹ کثیرالجہتی ہے۔یہ عمل سستی کا شکار ہے ، افسر شاہی کا نظام قانون پر عمل درآمد میں تاخیر کا باعث ہے ۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اس حوالے سے بیداری کی کی کمی ہے جو اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے ۔
مزید برآں، ایکٹ کے نفاذ کے لیے ضروری رجسٹریشن کے عمل کا ہموار نہ ہونا بھی اس مسئلے کا حل مشکل بنا رہا ہے اور نظام کے اندر پائے جانے والے معاشرتی تعصبات پیچیدگی قانون کے موثر نفاذ میں رکاوٹ ہیں۔
چیئرپرسن این سی ایچ آر رابعہ جویری آغا نے اس بارے میں کہا کہ آگے بڑھنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ ایکٹ کے نفاذ کو یقینی بنایا جاسکے ۔ قانون کےموثر اطلاق کے لیے ہمیں بیوروکریٹک عمل کو ہموار کرنا ہو گا اور رجسٹریشن کے موثر طریقہ کار کا قیام ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ہی، رجسٹریشن کے عمل میں شامل اہلکاروں کے لیے جامع آگاہی مہمات چلائی جائیں اوران کی تربیت کا آغاز کیا جائے اس مقصد کیلئے سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ تعاون کرنے کے علاوہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی مضبوط وکالت کی بھی ضرورت ہے ۔



