اہم خبریںجہلم

جہلم ( میاں ذوہیب ساجد) کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے سٹاف کے زیر اہتمام اقبال لائبیری روڈ

جہلم ( میاں ذوہیب ساجد) کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے سٹاف کے زیر اہتمام اقبال لائبیری روڈ پر نجی ٹارچر سیل کا انکشاف، منشیات فروشوں سے نجی ٹارچرسیل میں لین دین کا دھندہ ، شریف شہریوں پر منشیات ڈال کر جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جانے لگا، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن جہلم کے ممبر کے بھائی کو بھی ٹارچر سیل میں حبس بے جا میں رکھنے کے بعد 9D کے مقدمہ میں پھنسا دیا، وکلاءاور شہری سراپا احتجاج۔جہلم پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ بار جہلم کے ممبر معروف قانون دان چوہدری قاسم محمود نے کہاہے کہ تھانہ صدر کے علاقہ کالا دیو کا رہائشی و سکونتی ہوں ، میرے والد صاحب بھی وکالت کے پیشے سے منسلک رہے ہیں ، ہمارا خاندان پڑھا لکھا ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی شہرت کا حامل ہے ، علاقے میں لوگ ہمیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، میرا بڑا بھائی چوہدری طیب محمود جو کہ کافی عرصہ بیرون ملک مقیم رہا اور وہاں سے زرِ مبادلہ کما کر وطنِ عزیز میں بھجواتا رہا، والد صاحب کی وفات پر میرا بڑا بھائی طیب محمود واپس آبائی علاقہ کالا دیو میں منتقل ہو گیااور کریانہ کی دکان چلانا شروع کر دی ، گزشتہ ماہ 7 مئی کو سفید لباس میں ملبوس 5/6 افراد شام تقریباً5 بجے میرے بھائی کی دکان پر گئے دکان میں موجود غلے سے رقم نکالی اوردکان کھلی چھوڑ کر میرے بھائی کو ساتھ لے گئے اور گلی میںموجود لوگوں کو بتایا کہ ہم لوگ تھانہ سرائے عالمگیر سے آئے ہیں ، طیب محمود کے خلاف ہمارے پاس درخواست موجود ہے ، اس کے ورثاءکو بتا دینا وہ سرائے عالمگیر تھانے میں رابطہ کرلیں ، چوہدری قاسم محمود نے کہا کہ اطلاع ملتے ہی میں سرائے عالمگیر گیا پولیس والوں نے بتایا کہ ہمارے علم میں کوئی ایسی بات نہیں اور نہ ہی سرائے عالمگیر پولیس نے جہلم میں کسی ملزم کو حراست میں لیاہے ۔ اس طرح واپس آکر میں نے تھانہ سٹی ، سول لائن، تھانہ صدر، سی آئی اے سٹاف جا کر اپنے بھائی کی بابت دریافت کیا لیکن پولیس نے بتایا کہ اس نام کاکوئی بندہ ہمارے پاس موجود نہیں ، شام تقریباً7 بجے میں نے اپنے بھائی کے موبائل فون نمبر پر رابطہ قائم کیا تو کسی نامعلوم شخص نے میرا فون ایٹنڈ کیا اور مجھے دلاسہ دیا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آپ کا بھائی ہمارے پاس موجود ہے ، آپ ابھی اقبال لائبریری روڈ پر آجائیں ، میں کال ختم ہوتے ہی اقبال لائبریری روڈ پر پہنچ گیا وہاں پر پولیس انسپکٹر جواد انور ، سب انسپکٹر قمر سلطان ، اسسٹنٹ سب انسپکٹر مرزا محمد فیاض پولیس کانسٹیبل عنصر بٹ اور خرم نامی شخص موجود تھے، جنہوںنے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ معاملات کرلیں لیکن اس بارے کسی شخص سے زکر نہیں کرنا میں نے واپسی پر اپنے دوست وکلاءسے مشورہ کیا جب اگلے روز میں اقبال لائبریری روڈ جہاں میرے بھائی کو سی آئی اے سٹاف نے نجی ٹارچر سیل میں رکھا ہوا تھا ، پولیس سی آئی اے سٹاف کے ملازمین نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ آپ کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا وہ آپ نے توڑ دیا ہے اب ہم کارروائی کریں گے۔ اس طرح سی آئی اے سٹاف نے میرے بھائی پر 5 کلو سے زائد منشیات کا مقدمہ درج کرکے جیل بھجوادیا جو کہ ہمارے ساتھ سخت زیادتی کے مترادف ہے ، چوہدری قاسم محمود نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب، انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے مطالبہ کیاہے کہ میرے بھائی کے خلاف درج مقدمے کی انکوائری کروائی جائے میرے بھائی کو تاوان کے لئے اغواءکرنے والے پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور میرے بے گناہ بھائی کو باعزت بری کیا جائے ۔موقف جاننے کے لئے پولیس ترجمان سے رابطہ قائم کیاگیا تو انہوں نے کہا کہ ڈی پی او جہلم ناصر محمود باجوہ نے ڈی ایس پی ملک عقیل عباس ، ڈی ایس پی سید غلام عباس شاہ پر مشتمل انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے ،اگر سی آئی اے سٹاف کا عملہ قصور وار پایا گیا تو سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
——————–
میاں ذوہیب ساجد جہلم ۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You