عنوان: اسلامی صدارتی نظام، سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر ۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: اسلامی صدارتی نظام، سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر ۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی


ریاست کی جب رٹ ختم ھوجائے تو سمجھ جائیں کہ آپ مکمل تباہ ھوچکے ھیں اور سیاست کی رٹ اس وقت ختم ھوجاتی ھے جب ادارے اور اداروں کے سربراہان، مملکت کے حکمران اور منصفین و عالمِ دین مکمل طور پر بہک جائیں اور کرپٹ، دھریئے، ظالم و منافقت کی عروج پر پہنچ جائیں۔ آج ھم جمہوری نظام کے سبب یہ سب کچھ دیکھ رھے ھیں، اس نظام نے عوام کا ایمان بھی ختم کردیا ھے۔ گویا یوں سمجھ لیجئے کہ ھم صرف کہلانے کو تو مسلمان ھیں لیکن حقیقت میں نہیں کیونکہ ھمارا ہر فعل و عمل دینِ محمدی ﷺ کے مخالف ھے۔ ھم سب کے سب انتہائی مادیت پرست اور لادین ھوچکے ھیں۔ ھمیں اپنے دینِ محمدی ﷺ کو سیکھنے، سمجھنے اور اس پر سختی سے عمل کرنے کا نہ کوئی جذبہ رھا نہ احساس، گویا ھم مسلم تو ھیں مگر اسلام سے بیزار۔ ممکن ھے میری یہ تحریر بہتوں کو ناگوار اور تکلیف دہ گزرے لیکن حقیقت یہی ھے۔ ان حالات اور ماحول کا ھم سب جس قدر قصور وار ہیں، اس میں بہت بڑا کردار ھمارے میڈیا کا بھی ھے جو ھماری نئی نسل کو اسلام مخالف قوتوں کا آلہ کار بنکر ذہنوں کو پرگندہ کرنے میں قلیدی کردار ادا کررھا ھے، کیونکہ میڈیا مالکان ایک نمبر کے جھوٹے اور منافق ھیں ان میں نہ شرم ھے نہ حیا اور نہ ہی حب الوطنی کا جذبہ، یہ دکھاوا اور شوشا میں پورے ھیں۔ ان کے اینکرز کی بات کی جائے خاص طور پر روڈ شو کرنے والوں کی جن میں کئی بیشمار ایسے ہیں جو میرے قلیق بھی رھے ھیں اور جنہیں میں ذاتی طور پر اچھی طرح سے جانتا بھی ھوں یہ سب کے سب ڈھونگ رچاتے ھیں عوام کو بیوقوف بناکر چینل کی ریٹنگ بڑھاتے ھیں جبکہ خود ان کا کردار مشکوک اور افسوسناک ھے۔ دکھ اور شرم آتی ھے مجھے ان کے ان بہروپئے پن پر اور افسوس ھوتا ھے ان کی مداری کردار پر صرف اپنے نفس کی خواہشات کی تکمیل میں میڈیا مالکان کے اس قدر نیچے گر جاتے ھیں کہ وہ انہیں اپنا پالتو کتے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور یہ اسی میں بہت خوش رہتے ھیں۔ یاد رکھئے کہ ان سب اینکرز کے باپ میں بھی ہمت نہیں کہ یہ اپنے میڈیا مالکان کے کالے کرتوتوں کو عیاں کرسکیں یہ جانتے ھیں کہ ھماری قوم کس قدر بیوقوف اور جاہل ھے کہ انہیں گندگی میں لپیٹ کر جھوٹ پیش کردیا جائے تو انہیں قبول ھوگا لیکن اگر سچ سونے کی پلیٹ میں بھی پیش کیا جائے تو قبول نہیں کریں گے۔ میرا بیس سالہ میڈیا کا تجربہ ھے اور اس تجربہ کی روشنی میں کہتا ھوں کہ جب تک نظام جمہوریت ختم نہیں ھوتی اس وقت تک ریاست پاکستان اور پاکستانی عوام غلیظ ترین گندگی کے دلدل میں پھنسے رہیں گے، اس دلدل کی بنیاد جمہوری نظام ھے۔ ھم سب اور ھماری نسلوں کی بقاء اسلامی صدارتی نظام میں ھے جو کفار و مشرکین کی طاقتور ممالک کو قبول نہیں، پاکستان کا بیٹا انجینئر ریٹائرڈ کرنل سید صادق علی نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی ھے اور قائداعظم محمد علی جناح کا وہ خط وصیت نامہ بھی منسلک کیا ھے جس میں آپ نے واضع طور پر کہا تھا کہ پاکستان میں اسلامی صدارتی نظام رائج رہنا چاہئے اور جمہوریت کی سخت مخالفت کرتے ھوئے اسے ناسور قرار دیا تھا۔ اب ھم سب محب وطن پاکستانیوں کو اسلام اور پاکستان کی خاطر سپریم کورٹ میں خطوط افرادی و اجتماعی طور پر قائداعظم محمد علی جناح کے وصیت نامہ اور اسلامی صدارتی نظام پر سپریم کورٹ سننے اور اس پیٹیشن کا ہر پاکستانی پیٹیشنر ھے کیونکہ عوام سمجھتی ھے کہ قائداعظم ایک لیڈر تھے سیاستدان نہیں اسی لئے وہ دوراندیش ھونے کے سبب انھوں نے پاکستان کی بقاء کیلئے وصیت نامہ لکھ دیا تھا اب وقت ھے کہ اس وصیت پر من و عن عمل درآمد کیا جائے سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کرنے کا مقصد یہی ھے کہ اسے قانونی و آئینی طریقہ کار سے مروج کیا جائے تاکہ برسوں اس کے فوائد نسلوں تک پہنچے۔ آپ سب پاکستانی کو سپریم کورٹ میں خط لکھیں کہ اس پیٹیشن کو سننا جائے اور بحث کی جائے تاکہ یہ ملک و قوم کرپٹ ، بددیانت، بے ایمان، لٹیروں، ظالموں اور مافیائی وقتوں سے پاک ھوسکے۔ آپ دیکھیں کہ اس عمل سے نئی روشنی اور دین اسلام کے نظام کی شمعیں روشن ہوجائیں گی انشاءاللہ تعالیٰ۔ اب ھم سب کو متحد اتفاق و اتحاد کیساتھ اسلامی صدارتی نظام کیلئے اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرنا ھے بصورت نہ اللہ ھمیں معاف کریگا اور نہ ہی رسول خدا ﷺ کی رضا مل سکے گی۔ اس بابت خاص طور سے تمام آئمہ، مفیان، علماء، پیر، سجادہ نشین، اسلامی اسکالرز و ڈاکٹرز کو ایک ایک خط سپریم کورٹ بھیجنا ھوگا تاکہ سپریم کورٹ عوام کی آواز سن سکے اور قائداعظم محمد علی جناح کے وصیت نامہ غور و توجہ دیتے ھوئے قومی اسمبلی و سینٹ کو پابند کرے کہ اس کی تشرح و وضاحت اور دلیل دیں جو انجینئر ریٹائرڈ کرنل سید صادق علی نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی ھے۔ سپریم کورٹ کو چاہئے کہ اس سمری کو روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے کیونکہ یہ فرد واحد کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست پاکستان اور پاکستانی عوام اور انکی نسلوں کے مستقبل کا معاملہ ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! یہ بتاتا چلوں کہ سپریم کورٹ سید ڈاکٹر صادق علی کی دو اپیلوں کی شنوائی نہیں ہورہی ھے، جس میں
پہلی اپیل CM Appeal 150/2021 ہے جو کہ NAB کے Plea Bargain Laws کے خلاف ہے اور دوسری اپیل
CM Appeal 149/2022
ہے جو بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی وصیت کے مطابق صدارتی نظام نافذ کرنے کیلئے ہے ۔
تمام پاکستانی قوم اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ محمد علی جناح سے بہتر قانون اور آئین کوئی نہیں سمجھتا ۔ اور محمد علی جناح نے پارلیمانی نظام حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریر فرماتے ہوئے لکھا
Dangers of parliamentary form of government
اور صدارتی نظام حکومت کے حق میں تحریر فرماتے ہوئے لکھا
Presidential system more suited to Pakistan
میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی آئین سازی کے حوالے سے وصیت منسلک کررہا ہوں۔ تمام پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی وصیت کو نافذ کرنے میں میری مدد فرمائیں۔ میں پاکستانیوں کو یقین دلاتا ہوں اور ثابت کرسکتا ہوں کہ اگر سپریم کورٹ صدارتی نظام حکومت کی اپیل سن لے تو وہ عدلیہ کے حلف کے عین مطابق ہوگا اور اگر عدل کی بنیاد پر صدارتی نظام نافذ کیا گیا تو میں ثابت کرسکتا ہوں کہ نوے دنوں میں پاکستانی روپیہ مضبوطی کی طرف گامزن ہوگا انشاءاللہ ۔۔۔۔۔!!



