حضرت علامہ محمد مدنی رحمہ اللہ بن حافظ عبدالغفور جہلمی رحمہ اللہ — ایک تابندہ دینی و اصلاحی زندگی

ا


یک مسند نشین جو خود کو خادم سمجھتا رہا
حضرت علامہ محمد مدنی رحمہ اللہ بن حافظ عبدالغفور جہلمی رحمہ اللہ — ایک تابندہ دینی و اصلاحی زندگی کی یادیں
تحریر : سعد محمد مدنی بن علامہ محمد مدنی
فاضل مدینہ یونیورسٹی
بعض شخصیات دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، مگر ان کے جانے کے بعد ان کی زندگی کے نقوش مٹتے نہیں، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ مزید نمایاں ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی اصل میراث صرف کتابیں، عمارتیں یا عہدے نہیں ہوتے، بلکہ وہ انسان، ادارے، مساجد، جامعات، تربیت یافتہ نسلیں اور خدمت کے وہ سلسلے ہوتے ہیں جن سے آنے والی نسلیں بھی فیض یاب ہوتی رہتی ہیں۔
میرے والد گرامی حضرت علامہ محمد مدنی رحمہ اللہ بن حافظ عبدالغفور جہلمی رحمہ اللہ بھی انہی خوش نصیب شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو ذاتی مفاد کے بجائے دین، دعوت، تعلیم، مساجد، جامعات اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کیے رکھا۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ مختصر تھا، مگر اس مختصر زندگی میں انہوں نے جو کام کیے، ان کی وسعت اور اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
مدینہ منورہ کی علمی تربیت
والد گرامی نے پاکستان میں اپنی ابتدائی و دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مدینہ یونیورسٹی کا رخ کیا۔ مدینہ منورہ کی علمی فضا میں تعلیم حاصل کی اور مسجد نبوی ﷺ کے اردو حلقے میں تقریباً چار سال تک لوگوں کو دینی مسائل اور احکام سمجھانے کی خدمت انجام دیتے رہے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ایک طرف وہ علم حاصل کر رہے تھے اور دوسری طرف لوگوں تک دین پہنچانے کا عملی تجربہ بھی حاصل کر رہے تھے۔ مدینہ منورہ کی سرزمین اور مسجد نبوی ﷺ کی علمی و روحانی فضا نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا، جس کا عکس بعد کی پوری زندگی میں نمایاں نظر آتا ہے۔
تعلیم مکمل کرکے پاکستان واپس آئے تو ان کے سامنے صرف اپنی ذات یا اپنے مستقبل کا مسئلہ نہیں تھا؛ ایک بڑی ذمہ داری ان کی منتظر تھی۔
1986ء میں مسند سنبھالی، مگر مسند کو ملکیت نہیں امانت سمجھا
میرے دادا ابو حافظ عبدالغفور جہلمی رحمہ اللہ 1986ء میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کے بعد اپنے پانچ بھائیوں میں سب سے بڑے بیٹے ہمارے والد گرامی نے ان کی مسند، ان کے دینی مشن اور اداروں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ جامعہ علوم اثریہ، جامعہ اثریہ للبنات، متعدد مساجد اور دینی اداروں کی نگرانی ان کے ذمہ آئی۔
لیکن یہاں ان کی شخصیت کا ایک نہایت اہم پہلو سامنے آتا ہے۔
انہوں نے مسند کو کبھی ذاتی اقتدار یا دنیاوی منفعت کا ذریعہ نہیں سمجھا۔ ان کے نزدیک یہ ایک امانت تھی۔ 1986ء سے 2002ء تک، یعنی اپنی وفات تک، انہوں نے اپنے نام پر کوئی ذاتی زمین نہیں خریدی۔ اس عرصے میں جو زمینیں خریدی گئیں یا جو تعمیرات اور املاک وجود میں آئیں، انہیں ذاتی ملکیت بنانے کے بجائے اللہ کے راستے میں وقف کیا گیا۔
ان کے پاس جو کچھ آیا، اس میں سے اپنی ضروریات کے مطابق گزر بسر کیا اور باقی کو دین کے کاموں میں لگا دیا۔ انہوں نے مسند کی امانت داری میں ذرہ بھر خلل نہیں آنے دیا۔
یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے لیے مسند ملکیت نہیں، امانت؛ منصب نہیں، ذمہ داری؛ اور قیادت نہیں، خدمت تھی۔
رئیس نہیں، جامعہ کے خادم
والد گرامی جامعہ کے رئیس ضرور تھے، لیکن وہ اپنے آپ کو رئیس کی حیثیت سے نہیں دیکھتے تھے۔ وہ خود کو جامعہ کا خادم سمجھتے تھے۔
وہ دن رات جامعہ کے کاموں میں مصروف رہتے۔ جامعہ کے داخلی راستے کے قریب چارپائی پر بیٹھ جاتے اور ادارے کے معاملات پر نظر رکھتے۔ ان کی موجودگی ہی ایسی تھی کہ اساتذہ، طلبہ اور متعلقین ان کے احترام میں محتاط رہتے۔
ان کی یادداشت بھی غیر معمولی تھی۔ صرف دیکھنے سے انہیں اندازہ ہو جاتا کہ کون سا طالب علم یا کون سا استاد موجود ہے اور کون غیر حاضر ہے۔ جامعہ میں ان کی موجودگی محض انتظامی نگرانی نہیں تھی؛ وہ اس ادارے کے ساتھ ایک قلبی تعلق رکھتے تھے۔
انہوں نے بڑے بڑے ادارے قائم کیے، ان کی نگرانی کی اور ان کے نظم و ضبط کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھا۔
پاکستان بھر میں مساجد اور دینی مراکز کا قیام
اللہ تعالیٰ نے انہیں خطیبانہ، ادیبانہ، محققانہ اور مفسرانہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں سفر کرتے، دعوت و تبلیغ کا کام کرتے اور توحید کی دعوت کو عام کرتے۔
ان کی کوششوں سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں مساجد قائم ہوئیں۔ متعدد مدارس و جامعات کی سرپرستی اور معاونت ہوئی۔ بے شمار ائمہ و خطباء کی حوصلہ افزائی اور تربیت ہوئی۔ مختلف تعلیمی و دینی اداروں کی نگرانی بھی ان کی زندگی کا حصہ رہی۔
انہوں نے بہت مختصر زندگی میں ایک جامع اور مثالی کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کی رفتار دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ وقت کو ذاتی آرام کے لیے نہیں بلکہ دین کے لیے استعمال کرنے پر یقین رکھتے تھے۔
توحید ان کی دعوت کا مرکزی عنوان تھی
والد گرامی کی گفتگو اور خطابات میں قرآن مجید کا تذکرہ نمایاں ہوتا تھا، اور اس کے بعد جس موضوع کو وہ خصوصی اہمیت دیتے تھے وہ توحید تھا۔
سفر ہو یا قیام، مجلس ہو یا خطاب، ان کی زبان اور فکر میں دین کی دعوت نمایاں رہتی۔ ان کے نزدیک مسلمان کی اصل عزت اللہ کے ساتھ تعلق، توحید، عبادت اور دین کی خدمت میں تھی۔
اسی لیے ان کی دعوت محض تقریری سرگرمی نہ تھی؛ وہ جس بات کی دعوت دیتے تھے، اسے اپنی زندگی میں عملی طور پر بھی پیش کرتے تھے۔
قرآن سے غیر معمولی تعلق
میں نے والد گرامی کو سفر کے دوران سب سے زیادہ قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول دیکھا۔
سفر میں قرآن ان کا مستقل ساتھی ہوتا۔ کئی کئی سپارے پڑھ لیتے۔ اگر سفر کی تھکن زیادہ ہوتی تو کچھ دیر آنکھ لگ جاتی، لیکن بیدار ہوتے ہی دوبارہ قرآن کی تلاوت شروع کر دیتے۔
ان کے لیے قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کا ساتھی تھا۔
ان کی زندگی کو قریب سے دیکھنے والے کے لیے یہ بات واضح تھی کہ ان کی عوامی دعوت کے پیچھے ایک گہری نجی عبادت موجود تھی۔
راتوں کی عبادت اور آنسوؤں کی ایک یاد
مجھے تقریباً 1998ء یا 1999ء کا ایک واقعہ آج بھی پوری شدت سے یاد ہے۔
میں اس وقت بچہ تھا اور رات کو سویا ہوا تھا۔ اچانک رونے کی آوازیں سنائی دیں۔ میں گھبرا گیا کہ شاید کوئی حادثہ پیش آگیا ہے یا کوئی بڑی مصیبت آ گئی ہے۔ آہستہ سے اٹھا، کمرے سے باہر نکلا اور صحن کی طرف گیا۔
وہاں والدین گرامی عبادت میں مشغول تھے۔ نماز کی حالت میں، سجدے میں، اللہ کے سامنے گریہ و زاری اور دعا میں مصروف تھے۔ اور آواز ایسے نکل رہی تھی جیسے بہت قیمتی چیز کے کھو جانے پر بلک بلک کے رویا جاتا ہے۔
وہ منظر آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔
اس واقعے نے مجھے یہ سمجھایا کہ جس شخص کی زبان سے دن کو دین کی دعوت نکلتی ہے، اس کے پیچھے رات کی تنہائی میں اللہ کے سامنے بہنے والے آنسو بھی ہوتے ہیں۔
نماز کی پابندی
والد گرامی نماز کے معاملے میں غیر معمولی طور پر حساس تھے۔ جب پاکستان میں اپنے گھروں میں موجود ہوتے اور مسجد جاتے تو دونوں گھروں کے بچوں کو نماز کے لیے بیدار کرتے۔
ایک مرتبہ وہ سفر سے واپس آئے تھے اور بہت زیادہ تھکے ہوئے تھے۔ فجر سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے ان کی آنکھ کھل گئی۔ بیدار ہوتے ہی انہیں خیال ہوا کہ شاید تہجد رہ گئی ہے اور فجر کا وقت ہو چکا ہے۔
انہوں نے دونوں گھروں کے بچوں کو بیدار کیا، سب مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔ مسجد پہنچ کر انہوں نے خادم کو آواز دی کہ اذان دو، وقت ہو گیا ہے۔
خادم نے روشنی کرکے دیکھا اور عرض کیا:
“علامہ صاحب! ابھی ایک گھنٹہ باقی ہے۔”
تب معلوم ہوا کہ فجر میں ابھی وقت باقی ہے۔
ہم واپس گھروں کو آئے، مگر وقت کا دورانیہ اتنا کم تھا کہ دوبارہ ٹھیک طرح سو بھی نہ سکے۔ ایک گھنٹہ مکمل ہوتے ہی پھر مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔
یہ واقعہ ان کی نماز سے محبت اور وقت کی پابندی کی ایک زندہ تصویر ہے۔ انہیں یہ گوارا نہ تھا کہ کہیں نماز میں معمولی سی تاخیر بھی ہو جائے۔
دنیا سے بے رغبتی اور سادگی
والد گرامی کی زندگی انتہائی سادہ تھی۔ انہیں سادہ، دیسی کھانا پسند تھا۔ لباس، جوتے، گاڑی اور گھر کی آرائش میں نمائش اور تکلف پسند نہیں کرتے تھے۔
ان کی زندگی میں دنیا کی چمک دمک کے بجائے دین کی محبت غالب تھی۔
ان کا خیال تھا کہ انسان کو اپنی اصل منزل نہیں بھولنی چاہیے۔ دنیا ضرورت کے مطابق ہے، مقصدِ زندگی نہیں۔
ایک مرتبہ ہمیں اسلام آباد جانا ہوا۔ وہاں انہوں نے ایک ڈبل کیبن گاڑی دکھائی اور بتایا کہ یہ انہیں تحفے میں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا نمبر لگوا کر اسے جہلم لے جائیں گے۔
تقریباً ایک، ڈیڑھ ماہ بعد ہم دوبارہ وہاں گئے۔ مجھے وہ گاڑی یاد تھی، میں نے پوچھا کہ گاڑی کہاں ہے؟
والد گرامی مسکرائے اور بتایا کہ فلاں مسجد کے لیے انتہائی مناسب قیمت پر زمین دستیاب ہو گئی تھی۔ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ چنانچہ انہوں نے وہ تحفے میں ملنے والی گاڑی فروخت کردی اور اس کی رقم مسجد کے لیے زمین خریدنے میں لگا دی۔ وہ مسجد ہمارے سب سے چھوٹے بھائی “ فہد “ کے نام پر رکھی گئی ۔ جو چند ماہ دل کی بیماری کی حالت میں گزارنے کے بعد اس دنیا سے چلا گیا تھا ۔
یہ ان کی زندگی کا ایک چھوٹا سا واقعہ ہے، مگر ان کی ترجیحات کا بہت بڑا آئینہ ہے۔
ان کے لیے ایک گاڑی کی قیمت سے زیادہ قیمتی مسجد کے لیے زمین تھی۔
اولاد کی تربیت: آسائش نہیں، خدمت
والد گرامی نے اپنی اولاد کو بھی اسی ماحول میں تربیت دی۔
ان کی زندگی میں سات بیٹے تھے، مگر ان کی حیات میں ان سات بھائیوں میں سے کسی کے پاس اپنی ذاتی گاڑی یا موٹر سائیکل نہیں تھی۔ سائیکلیں تھیں اور اسی سادگی کے ساتھ زندگی گزرتی تھی۔
ایک مرتبہ والد گرامی کے ایک دوست نے دونوں گھروں کے لیے دو ایئر کنڈیشنر تحفے میں دیے۔ وہ تقریباً ڈیڑھ، دو سال تک صحن میں پڑے رہے اور والد گرامی نے اپنی زندگی میں انہیں نصب نہیں ہونے دیا۔
گرمی کے موسم میں جب ہم نے عرض کیا کہ بہت گرمی ہے، اے سی لگا لیتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا:
“میں نے تو اے سی جنت میں لگوانا ہے، آپ اپنے بارے میں سوچ لیں کہ آپ نے کیا کرنا ہے۔”
یہ محض ایک جملہ نہیں تھا؛ یہ ان کی پوری تربیت کا خلاصہ تھا۔
وہ اپنی اولاد کو دنیا سے بھاگنے کی نہیں، بلکہ دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دینے کی تربیت دیتے تھے۔
ان کی اولاد پر تربیت کا اثر
ان کی تربیت کا اثر آج بھی ہمارے خاندان کی زندگی میں نمایاں ہے۔
آج تک ان کے بیٹوں میں سے کسی نے اپنی الگ ذاتی کوٹھی، بنگلہ یا مستقل ذاتی رہائش تعمیر نہیں کی۔ جس طرح ہمارے دادا ابو حافظ عبدالغفور جہلمی رحمہ اللہ، والد گرامی اور ان کے بھائیوں نے مساجد سے وابستہ حجروں اور دینی مراکز کی رہائشوں میں زندگی گزاری، اسی طرح ان کی اولاد بھی آج تک مساجد اور دینی اداروں سے وابستہ رہائشوں میں زندگی گزار رہی ہے۔
یہ محض ایک رہائشی طرز نہیں؛ یہ ایک فکر اور تربیت کا تسلسل ہے۔
والد گرامی نے ہمیں یہ سکھایا کہ اگر زندگی دین کی خدمت کے لیے ملی ہے تو پھر اپنی ذات کے لیے بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کرنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اللہ کے دین کے لیے کچھ ایسا چھوڑا جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں۔
خدمتِ خلق بھی مشن کا حصہ تھی
والد گرامی کی دینی خدمت صرف مساجد اور جامعات تک محدود نہیں تھی۔ انہیں خدمتِ خلق سے بھی گہرا شغف تھا۔
آج ان کی باقیاتِ صالحات میں اثریہ ٹرسٹ ہسپتال، بھٹیال، جہلم اور اثریہ فری ڈسپنسری جہلم بھی شامل ہیں۔ اسی خدمت کے تسلسل میں ہر سال بڑے پیمانے پر فری آئی کیمپ منعقد ہوتا ہے، اور اس سال اس کا 24واں سالانہ فری آئی کیمپ منعقد ہو رہا ہے۔
یہ ادارے اور منصوبے اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ دین کی خدمت کا دائرہ انسانوں کی ضرورت پوری کرنے تک بھی پھیلتا ہے۔
انہوں نے کئی بیواؤں کے لیے ماہانہ وظائف مقرر کیے ہوئے تھے۔ کئی یتیموں کے لیے باقاعدہ ماہانہ اعانت کا انتظام تھا۔ کئی بے آسرا گھروں میں فی سبیل اللہ کنویں کھدوائے، پانی کے نلکے لگوائے اور لوگوں کے لیے پانی کی سہولت فراہم کی۔ اور کہیں لوگوں کو بےروگاری سے نکالنے میں بھرپور کردار ادا کیا ۔
ان کے نزدیک کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا بھی اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ تھا۔
تحفظ حرمین شریفین موومنٹ پاکستان
جب عراق نے کویت پر حملہ کیا تو والد گرامی نے تحریک “ تحفظ حرمین شریفین موومنٹ پاکستان “قائم کی اور اس کی قیادت کی۔
انہوں نے کویت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور حرمین شریفین کے تقدس و تحفظ کے حوالے سے ملک بھر میں بھرپور مہم چلائی۔ اس تحریک کو عوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی اور قومی و سیاسی حلقوں میں بھی اس کا اثر محسوس کیا گیا۔
یہ ان کی زندگی کا وہ باب تھا جس میں ان کی دینی غیرت، حرمین شریفین سے محبت اور اجتماعی دینی احساس نمایاں طور پر سامنے آیا۔
خاندان، اولاد اور اہلِ بیت سے محبت
والد گرامی اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ۔ چار بھائی جن میں بترتیب قاری عبدالرشید رحمہ اللہ ، فضیلة الشيخ حافظ عبدالحمید عامر ، مولانا حافظ احمد حقیق ، حافظ عبدالرؤف اور ایک بہن شامل تھیں ۔
والد گرامی کی دو شادیاں تھیں۔ پہلی والدہ سے چار بیٹے اور تین بیٹیاں، جبکہ دوسری والدہ سے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئیں۔ یوں ان کی کل اولاد سات بیٹے اور چھ بیٹیاں، یعنی تیرہ اولاد پر مشتمل تھی۔
ان کے بڑے بیٹے مولانا خالد مدنی دینی تعلیم سے وابستہ ہیں اور اپنے ہی جامعہ سے درسِ نظامی کے فاضل ہیں۔
دوسرے بیٹے مولانا حافظ ساجد مدنی حافظِ قرآن اور فاضلِ درسِ نظامی ہیں اور اپنے ہی جامعہ سے حفظ اور آٹھ سالہ دینی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔
تیسرا بیٹا راقم الحروف سعد محمد مدنی ہے، جس نے درسِ نظامی کے بعد مدینہ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، میرپور یونیورسٹی سے ایم فل کیا اور اب پی ایچ ڈی کی تعلیم جاری ہے۔
حافظ عبدالغفور مدنی حفظِ قرآن اور قراءت سے وابستہ ہیں حفظ قرآن اپنے جامعہ سے اور لاہور میں تجوید کی تعلیم حاصل کی۔
ابو العباس ، مولانا عکاشہ مدنی نے دینی تعلیم مکمل کی، مدینہ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، میرپور یونیورسٹی سے ایم فل کیا اور پی ایچ ڈی کی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حافظ اسامہ مدنی بھی حفظِ قرآن کے بعد مقامی یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ، جبکہ حافظ عبدالوہاب مدنی نے حفظِ قرآن اور اعلیٰ تعلیم کے مراحل طے کیے اور ماسٹرز کے لئے جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
ان کی پوری اولاد کسی نہ کسی انداز میں دینی و تعلیمی سلسلے سے جڑی رہی۔ یہ بھی ان کی تربیت کا ایک روشن اثر ہے۔
والد گرامی کی زندگی میں ایک پوتی بھی تھی، جس کا نام انہوں نے محبت کے ساتھ “ فاطمہ “ رکھا۔ یہ نام ان کی اہلِ بیت اطہار، بالخصوص سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا سے محبت کی ایک خوبصورت علامت تھا۔
بیماری نے باپ اور بیٹے کو مزید قریب کردیا
میری اپنی زندگی میں والد گرامی کے ساتھ قربت کا ایک خاص سبب میری بچپن کی بیماری بھی تھی۔ پرائمری تعلیم کے بعد مجھے معدے اور جگر سے متعلق کچھ تکلیف رہی۔ اس بیماری کی وجہ سے میں والد گرامی کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگا۔
وہ مجھے اپنے ساتھ مختلف سفروں پر لے جاتے، مجھ سے باتیں کرتے، نصیحتیں کرتے اور زندگی کا راستہ سمجھاتے۔
ان کی نصیحتوں کا بنیادی خلاصہ یہی تھا:
دین سے جڑے رہنا، دین کی خدمت کرنا، جامعات کی حفاظت کرنا، مساجد اور دینی اداروں سے وابستہ رہنا اور دنیا کو زندگی کا مقصد نہ بنانا۔
وہ بار بار سمجھاتے کہ دنیاوی تعلیم، عہدہ اور مال انسان کو وہ حقیقی عزت نہیں دے سکتے جو دین کی خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔ اور ایک ایسا اتفاق ہوا جس کا احساس ان کے دنیا سے جانے کے بعد ہوا ۔ جب والد گرامی نے اپنی زندگی کا آخری جمعہ پڑھایا ، اسی دن میں نے اپنی زندگی کا پہلا جمعہ پڑھایا ۔
ان کا یقین تھا کہ انسان کے لیے اصل عزت اللہ کے دین کے ساتھ وابستگی میں ہے۔
آخری بیماری اور آخری نصیحتیں
والد گرامی دبئی کے آخری سفر سے واپس آئے تو شدید بخار اور بیماری کی حالت میں تھے۔ میں رات کے وقت ان کے پاس بیٹھا رہتا، خدمت کرتا اور ان کے جسم کو دباتا۔
وہ چارپائی پر آرام فرما رہے تھے۔ بیماری کے باوجود مجھ سے بات کرتے اور نصیحتیں فرماتے رہے۔
پھر ایک موقع پر وہ شدت سے رونے لگے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور میں بھی رو پڑا۔ ہم دونوں کافی دیر تک روتے رہے۔
اس وقت ان کی زبان سے جو باتیں نکلیں، وہ میری زندگی کا سرمایہ ہیں۔
وہ فرما رہے تھے:
دنیا عارضی ہے، آخرت کے لیے محنت کرو، دین سے محبت کرو، دین پر چلنے والے بنو، ان جامعات کی حفاظت کرنا، ان جامعات کی رکھوالی کرنا، ان جامعات کا نوکر بن کر خدمت کرنا۔
پھر وہ فرماتے:
“اسی جامعہ نے ہمیں عزت دی ہے، اسی جامعہ نے ہمیں مقام دیا ہے، اسی دین کی چاکری نے ہمیں سب کچھ دیا ہے۔ ان جامعات کے ساتھ مخلص رہنا۔”
یہ ان کے آخری ایام کی وہ نصیحتیں تھیں جن میں ان کی پوری زندگی کا خلاصہ موجود تھا۔
پھر وہ لمحہ بھی اپنی انہی آنکھوں سے دیکھا جو آنکھوں اور دماغ میں منعکس ہوکر رہ گیا کہ جب جناح ھسپتال لاہور میں ان کی روح ان کے جسم سے جدا ہورہی تھی تو باقی احباب کے ساتھ میں بھی اپنے والدگرامی کے قدموں کی طرف کھڑا تھا۔ جب چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کرسکتا تھا۔ رب اغفر لي ولوالدي رب ارحمهما كما ربياني صغيرا.
انہوں نے اپنی کامیابی کا سبب دنیاوی وسائل کو نہیں بلکہ دین کی برکت کو سمجھا۔ ان کے نزدیک عزت بھی دین سے تھی، مقام بھی دین سے تھا اور جو کچھ اللہ نے دیا تھا، وہ دین کی خدمت کی برکت سے تھا۔
مسند آگے منتقل ہوئی، مشن جاری رہا
والد گرامی 18 فروری 2002ء کو، صرف 56 برس کی عمر میں، اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
ان کے بعد ان کے بھائی ہمارے چچاؤں میں سے دوسرے نمبر پر موجود چچا حافظ عبد الحمید عامر حفظہ اللہ نے ان کی مسند سنبھالی اور دینی اداروں، جامعات اور خاندان کی ذمہ داریوں کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے والد گرامی کے قائم کردہ دینی و تعلیمی مشن کو سنبھالا اور آج تک اس خدمت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ خاندان میں دین کی خدمت کا یہ سلسلہ ایک فرد کے ساتھ ختم نہیں ہوا، بلکہ ایک نسل در نسل تک منتقل ہوتا چلا گیا۔
اصل وراثت کیا تھی؟
آج جب میں اپنے والد گرامی کی زندگی کو یاد کرتا ہوں تو مجھے ان کی وراثت صرف عمارتوں، زمینوں، مساجد یا اداروں میں نظر نہیں آتی۔
ان کی اصل وراثت وہ فکر ہے جو انہوں نے اولاد میں پیدا کی۔
وہ فکر کہ دین کو زندگی کا مرکز بنایا جائے۔
وہ فکر کہ مسند کو امانت سمجھا جائے۔
وہ فکر کہ جامعہ کو ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھا جائے۔
وہ فکر کہ قرآن سے تعلق مضبوط رکھا جائے۔
وہ فکر کہ نماز کو وقت پر ادا کرنا زندگی کی اولین ترجیحات میں ہو۔
وہ فکر کہ توحید کی دعوت کو عام کیا جائے۔
وہ فکر کہ مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں بلکہ دین کا مرکز ہے۔
وہ فکر کہ یتیم، بیوہ، غریب اور بے آسرا انسان بھی ہماری ذمہ داری ہیں۔
وہ فکر کہ اپنے لیے کم اور اللہ کے دین کے لیے زیادہ سوچا جائے۔
اور وہ فکر کہ دنیا عارضی ہے، اصل زندگی آخرت کی ہے۔
ایک ایسی زندگی جو اپنے پیچھے سوال چھوڑ گئی
والد گرامی کی زندگی ہمیں یہ سوال دیتی ہے کہ انسان اپنی زندگی میں اپنے لیے کیا جمع کرتا ہے اور اپنے بعد کیا چھوڑ کر جاتا ہے؟
انہوں نے اپنے نام پر زمینیں جمع نہیں کیں، مگر اللہ کے راستے میں زمینیں خرید کر وقف کیں۔
انہوں نے اپنی ذات کے لیے بڑی عمارتیں نہیں بنائیں، مگر مساجد، جامعات اور دینی ادارے قائم کیے۔
انہوں نے اپنی اولاد کو دنیا کی آسائشوں کا عادی نہیں بنایا، بلکہ دین کی خدمت کا خوگر بنایا۔
انہوں نے اپنی زندگی میں ذاتی آرام سے زیادہ قرآن، نماز، دعوت، تعلیم اور خدمت کو ترجیح دی۔
انہوں نے مال کو منزل نہیں بنایا، بلکہ ذریعہ بنایا۔
اور شاید اسی لیے ان کی زندگی ختم ہونے کے بعد بھی ان کا مشن ختم نہیں ہوا۔
آج مساجد میں اذانیں بلند ہوتی ہیں، جامعات میں قرآن و حدیث پڑھایا جاتا ہے، طلبہ علم حاصل کرتے ہیں، ضرورت مندوں کی مدد ہوتی ہے، مریضوں کا علاج ہوتا ہے، آنکھوں کے مریضوں کے لیے فری آئی کیمپ لگتا ہے، بیواؤں اور یتیموں تک مدد پہنچتی ہے اور دینی خدمت کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ سب اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کچھ زندگیاں اپنے اختتام پر ختم نہیں ہوتیں؛ وہ اپنے اعمال، اپنی تربیت اور اپنی باقیاتِ صالحات کے ذریعے آگے چلتی رہتی ہیں۔
حضرت علامہ محمد مدنی رحمہ اللہ کی زندگی بھی ایسی ہی زندگی تھی۔
وہ مسند پر بیٹھے، مگر خود کو خادم سمجھتے رہے۔
انہوں نے اختیار سنبھالا، مگر اسے امانت سمجھا۔
انہوں نے مال پایا، مگر اسے اللہ کے راستے میں لگایا۔
انہوں نے اولاد پائی، مگر اسے دنیا کے لیے نہیں بلکہ دین کے لیے تیار کیا۔
انہوں نے ادارے قائم کیے، مگر انہیں اپنی ملکیت نہیں بنایا۔
اور انہوں نے ہمیں یہ سبق دے کر رخصت ہوئے کہ:
دنیا عارضی ہے، دین باقی ہے؛ مال عارضی ہے، نیکی باقی ہے؛ عمارتیں فانی ہیں، مگر وہ خدمت باقی رہتی ہے جس سے اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچتا رہے۔
اللہ تعالیٰ میرے والد گرامی حضرت علامہ محمد مدنی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کی دینی و رفاہی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کی مسند، جامعات، مساجد اور تمام باقیاتِ صالحات کو قائم و دائم رکھے، ان کی اولاد کو ان کی نصیحتوں پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں ان کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



