الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں دوسری نیشنل کانفرنس "Healing the Healers” کا انعقاد

*الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں دوسری نیشنل کانفرنس "Healing the Healers” کا انعقاد*
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::
اسلام آباد: (19 ستمبر2026) الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیرِ انتظام موون پک ہوٹل اسلام آباد میں شعبہ صحت سے وابستہ افراد کی فلاح و بہبود، ذہنی وروحانی بالیدگی اور موجودہ دور کے درپیش چیلنجز کے حل کے لیے دوسری ملک گیر کانفرنس "Healing the Healers” کا انعقاد کیا گیا۔
کانفرنس کا بنیادی مقصد طبی شعبے میں خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے ذہنی بوجھ کو کم کرنا، ان کی اخلاقی و روحانی استقامت (Spiritual Resilience) کو مضبوط بنانا اور ایک جامع و مشترکہ لائحۂ عمل تشکیل دینا تھا۔ اس اہم کانفرنس میں شیخِ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و پیٹرن اِن چیف الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی نے خصوصی خطاب فرمایا۔
اپنے خطاب میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی نے فرمایا۔
"طبی ماہرین کو محض اپنے شعبے کے ماہر نہیں ہونا چاہیے بلکہ معاشرے کی روحانی اور جسمانی صحت کے نگہبان بھی بننا ہوگا۔ ڈاکٹر اپنے فرائض باپ، بھائی اور شہری کے طور پر بھی ادا کرتے ہیں۔ الفلاح فاؤنڈیشن کے رضاکار ڈاکٹرز اسی وقف و خدمت کی عملی مثال ہیں جو بغیر کسی مالی سپورٹ کے محض اپنی دینی و قومی جذبے میں قوم کے لیے رضاکارانہ کام کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ
معاشرے کے مسائل کی بنیادی وجہ ہمارے دینی اقدار کو بھولنا ہے۔ ڈاکٹرز کی اپنی روحانی اصلاح ان کی پریکٹس اور مریضوں کی دیکھ بھال پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ لہذا ہر میڈیکل پریکٹیشنر کمیونٹی سے گزارش ہے کہ اپنے دل کی اصلاح کو بھی اسی طرح ترجیح دیں جس طرح آپ اپنی میڈیکل کی تعلیم کو اہمیت دے ساری زندگی اس پر چلتے ہیں تاکہ معاشرے میں حقیقی شفایابی لائے جا سکے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ "صحت مند معالجین” کا منصوبہ صرف ایک تقریب تک محدود نہ رہے بلکہ پاکستان کے سرکاری صحت کے شعبے میں قومی پالیسی کے طور پر منظور ہو۔
ایجنڈے اور سائنسی سیشنز کے مطابق کانفرنس میں مندرجہ ذیل اہم موضوعات پر تفصیلی مباحث اور ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا
ورکشاپ (Conflict Management & Difficult Conversations) کے تحت ڈاکٹر نبیل عباد ہیڈ آف سائیکیٹری ڈیپارٹمنٹ SZPGMI لاہور اور ڈاکٹر عظیم راؤ (ایسوسی ایٹ پروفیسر، راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی) نے ڈاکٹرز اور مریضوں کے مابین تلخ مکالمات اور تنازعات کے بہتر حل پر روشنی ڈالی۔
برن آؤٹ اور طبی تحفظ کے لیے برگیڈیئر ڈاکٹر راشد قیوم (سربراہ شعبہ سائیکیٹری، پی اے ایف ہسپتال اسلام آباد) نے مریضوں اور ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز کے تحفظ پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر شہزاد علی خان (وائس چانسلر، ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد) نے ڈاکٹرز کے لیے باہمی معاونت اور سپورٹ سسٹم کی اہمیت پر زور دیا۔
میڈیکل پریکٹیشنرز کے قانونی تحفظ کے بارے کرنل شبیر حسین اور ڈاکٹر صائمہ زبیر نے طبی عملے کو درپیش قانونی چیلنجز، شکایات کے ازالے اور ہسپتالوں میں تشدد کے روک تھام کے طریقوں پر شرکاء کو آگاہ کیا۔
خواتین ڈاکٹرز کی فلاح و بہبود کے حوالے سے ڈاکٹر صبا شجاع (یونیسیف پاکستان) اور پروفیسر شگفتہ سیال نے شعبہ صحت میں خواتین میں لیڈر شپ، کیریئر گائیڈنس اور باتحفظ پریکٹس کے ماحول کی فراہمی پر زور دیا۔
پروفیسر مودت حسین رانا (پروفیسر آف سائیکیٹری) نے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کے ذہنی و جذباتی تناؤ کے موضوع پر جامع خطاب کیا۔ اس کے بعد ایک خصوصی پینل ڈسکشن منعقد ہوا جس میں ادارہ جاتی تبدیلیوں اور عملی اقدامات پر غور کیا گیا۔
ڈاکٹر عرفان صاحب نے شرکاء کے سامنے اس حوالے سے ضروری سوالات بھی رکھے جن کے جوابات ماہرین صحت کے شعبہ سے متعلق احباب نے دیئے۔
اسلام آباد ڈیکلریشن کی اختتامی نشست میں الفلاح فاؤنڈیشن کا تعارف ڈاکٹر میر رضوان احمد (صدر الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان) نے پیش کیا۔ جبکہ ڈاکٹر سکندر حیات نے "اسلام آباد ڈیکلریشن” پیش کیا۔
تقریب میں مہمانِ گرامی ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ (وزیر مملکت برائے قومی صحت) خصوصی شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے الفلاح فاؤنڈیشن کو اس کوشش پر خراج تحسین پیش کیا اور اسلام ڈیکلریشن کو مکمل طور پر سپورٹ کرنے کا اعلان کیا۔
کانفرنس کے اختتام پر نامور ڈاکٹرز، اساتذہ اور نمائندہ تنظیموں (بشمول PMA, PPA, PAF YDA, MIND Organization) کے عہدیداران میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی کے دستِ مبارک سے شیلڈز اور یادگاری سووینئر تقسیم کیے گئے۔
شرکاء نے اسلام آباد ڈیکلریشن کے تحت کہا کہ
"Heal the Healers” محض ایک علامتی نعرہ نہیں بلکہ صحت کے نظام کی بقا، وقار اور بہتری کے لیے ایک عملی ضرورت ہے۔
جس کے تحت www.healingthehealers.pk
نام سے پلیٹ فارم پیش کیا گیا جو صرف ڈاکٹر کمیونٹی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہوگا۔
ایک معاشرہ جو اپنے میڈیکل پریکٹیشنر کمیونٹی سے ہمدردی، معیار علاج اور بہتری کی توقع رکھتا ہے، انہیں باحفاظت باعزت رہنے، ایموشنل سپورٹ، قانونی حفاظت اور انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔
اسلام آباد ڈیکلریشن فیڈرل گورنمنٹ آف پاکستان، صوبائی حکومتوں، صحت کی سہولیات، پیشہ ورانہ اداروں، ریگولیٹری حکام، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی، اور تمام متعلقہ زمہ داران کے غور و فکر، منظوری اور عمل درآمد کے لیے پیش کیا گیا۔
آخر میں ملک و قوم کی سلامتی، امن اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔



