سندھ

ڈاکٹر فیاض عالم کی زیتون کے موضوع پر پاکستان کی پہلی کتاب کی رونمائی

*ڈاکٹر فیاض عالم کی زیتون کے موضوع پر پاکستان کی پہلی کتاب کی رونمائی*

*جنگلی زیتون کی کاشت سے پاکستان میں زرمبادلہ کمانے کے وسیع امکانات ہیں، ڈاکٹر فیاض عالم*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) دُعا فاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر فیاض عالم نے کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ایسے پودے اور درخت پائے جاتے ہیں جن سے دیگر ممالک کثیر زرمبادلہ کما رہے ہیں، تاہم آگاہی کے فقدان کے باعث پاکستان میں متعلقہ صوبائی و مقامی حکومتیں اور ادارے بھی ان پودوں کی افادیت سے پوری طرح آگاہ نہیں رہے، جبکہ مقامی آبادی بھی ان کی معاشی اہمیت سے ناواقف رہی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ان قدرتی وسائل سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دنیا کے مختلف ممالک سے اعلیٰ اقسام کے پودے بھی لائے گئے جو وقت کے ساتھ تناور درخت بن گئے، لیکن ان درختوں اور ان کے پھلوں کے فوائد سے متعلق مناسب آگاہی نہ ہونے کے باعث ان سے مطلوبہ استفادہ نہیں کیا جاسکا۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں، بالخصوص شمالی علاقہ جات میں جنگلی زیتون کے لاکھوں درخت موجود ہیں، جنہیں معمولی توجہ، مناسب دیکھ بھال اور گرافٹنگ کے ذریعے نہ صرف ملکی ضروریات پوری کرنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے بلکہ ان سے کثیر زرمبادلہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ملک بھر میں کام کا آغاز کردیا گیا ہے اور اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں، تاہم اس شعبے میں مزید کام اور تحقیق کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی اور یونائیٹڈ کنگ کے اشتراک سے نیشنل ٹری پلانٹیشن ڈے 2026ء کے موقع پر شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں منعقدہ سیمینار بعنوان "آج شجرکاری، سرسبز اور پائیدار پاکستان کی ضمانت” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر فیاض عالم کی زیتون کے موضوع پر پاکستان کی پہلی کتاب کی رونمائی بھی کی گئی۔ شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر سید محمد غفران سعید نے کہا کہ پاکستان میں زیتون کی کاشت ایک نئے معاشی انقلاب کا باعث بن سکتی ہے۔ ملک میں جنگلی زیتون کے لاکھوں درخت موجود ہیں، جنہیں گرافٹنگ کے ذریعے قابلِ پیداوار بنا کر اور مزید پودے لگا کر نہ صرف زیتون کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سالانہ تقریباً ساڑھے چار ارب ڈالر کا تیل درآمد کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب ہم ایک ارب ڈالر کے قرض کے حصول کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کی متعدد شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جنگلی زیتون کی باقاعدہ کاشت اور فروغ سے درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے، زرمبادلہ بچانے اور معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ڈاکٹر غفران سعید نے کہا کہ جنگلی زیتون کی کاشتکاری سے نہ صرف زرمبادلہ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے میں بھی مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو متوازن کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر شجرکاری ناگزیر ہے۔ چیئرمین گلشن ٹاؤن کراچی ڈاکٹر فواد احمد نے کہا کہ درخت لگانا پاکستان کو اس کی اصل حالت میں واپس لانے اور ملک کو ’’پے بیک‘‘ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو زمین عطا کی ہے اور جس پر ہمیں ایک خاص مقصد کے تحت زندگی گزارنے کا موقع دیا گیا ہے، اس زمین، اس کے ماحول اور اس پر بسنے والی تمام مخلوقات کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ یونائیٹڈ کنگ کے سی ای او شیخ تحسین نے کہا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے سنگین چیلنجز کا سامنا کررہی ہے۔ درخت لگانا نہ صرف ایک نیک عمل اور صدقہ جاریہ ہے بلکہ موجودہ دور کی اہم ضرورت بھی ہے۔ ہر لگایا جانے والا درخت آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ڈین فیکلٹی آف سائنس جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر بلقیس گل نے کہا کہ غذائی اجناس اور صاف پانی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قلت پر قابو پانے کے لیے روایتی پودوں کے ساتھ ساتھ غیر روایتی پودوں کی شجرکاری بھی ناگزیر ہے، جس کے لیے بنجر اور غیر پیداواری زمین کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ قبل ازیں چیئر مین شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر محمد عبدالحق نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی۔ تقریب کے اختتام پر شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میںآر او پلانٹ اور شجرکاری مہم کا بھی افتتاح کیا گیا۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You