کراچی میں پانی کا بحران: شہریوں کی حکام سے فوری توجہ کی اپیل

*کراچی میں پانی کا بحران: شہریوں کی حکام سے فوری توجہ کی اپیل*
کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے سنی ایونیو، شادمان ٹاؤن نمبر 2، نارتھ ناظم آباد کے مکینوں کو درپیش پانی کی قلت پر حکام کی توجہ مبذول کراتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ، گورنر سندھ، میئر کراچی، کمشنر کراچی اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے اعلیٰ حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ جاوید صدیقی کے مطابق علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں ایک ماہ میں صرف ایک یا دو مرتبہ پانی کی فراہمی میسر آتی ہے، جبکہ وہ فلیٹیز، یوٹیلیٹیز اور دیگر واجب الادا ٹیکسز باقاعدگی سے ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر شہری آئینی و بنیادی حقوق کے تحت پانی جیسی بنیادی سہولت کے حق دار ہیں تو متعلقہ ریاستی و بلدیاتی ادارے اس حق کی عملی فراہمی یقینی کیوں نہیں بنا رہے؟ جاوید صدیقی نے مطالبہ کیا کہ سخی حسن پمپنگ اسٹیشن سے سنی ایونیو، شادمان ٹاؤن نمبر 2 کے مکینوں کو باقاعدہ اور منصفانہ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے کے بعض فلیٹس کو سخی حسن پمپنگ سے پانی فراہم کیا جا رہا ہے اور وہاں تقریباً ہر تین روز بعد پانی ملنے کی شکایات سامنے نہیں آتیں، لہٰذا اسی بنیاد پر دیگر متاثرہ مکینوں کو بھی منصفانہ شیڈول کے تحت پانی فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پانی ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہے؛ اس مسئلے کو سیاسی وابستگی، طبقاتی فرق یا کسی بھی امتیاز سے بالاتر ہوکر انسانی اور شہری حق کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ جاوید صدیقی نے KW&SC سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پانی و سیوریج کے بلوں میں اضافے کے ساتھ شہریوں کو خدمات کی مؤثر فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔ 23 فیصد اضافے کا دعویٰ متعلقہ صارفین کی جانب سے کیا گیا ہے، تاہم سرکاری طور پر دستیاب تازہ معلومات کے مطابق 2026-27 کے لیے پانی و سیوریج چارجز میں 7.05 فیصد اضافے کی رپورٹ بھی سامنے آئی ہے؛ اس لیے حتمی شرح کی وضاحت متعلقہ ادارے ہی کر سکتے ہیں۔ جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ "اللہ پر ایمان رکھنے والے ذمہ داران سے گزارش ہے کہ سنی ایونیو، شادمان ٹاؤن نمبر 2، نارتھ ناظم آباد کے مکینوں کے لیے کم از کم ہر تین روز بعد پانی کی باقاعدہ فراہمی یقینی بنائی جائے۔” اور انکا مطالبہ یہ بھی ھے کہ پانی کی فراہمی بحال کریں بلوں کے ساتھ بنیادی سہولت بھی دیں۔



