*عنوان: پاکستان کے نئے صوبے اور نیا انتظامی ڈھانچہ*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: پاکستان کے نئے صوبے اور نیا انتظامی ڈھانچہ*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
پاکستان کے لیے نئے صوبے اور نیا انتظامی ڈھانچہ جو تجویز کردہ آئینی مسودہ تیار کیا ھے عوام کی آگاہی کے طور پر اپنے کالم میں پیش کررھا ھوں، یاد رھے کہ مسودہ میں کمی و بیشی کی گنجائش ھے یعنی حتمی سو فیصد اس شکل کا نہیں بھی ہوسکتا ھے اور ہو بھی سکتا ھے فی الحال ایک پلیٹ فارم ایک زائچہ ایک خطوط اور ایک راہ کے طور پر تصور کرسکتے ہیں۔ اگر عقل کے پیدلوں نے مخالفت در مخالفت کا عمل جاری رکھا تو ممکن ھے وہ اپنے ساتھ ہی ظلم و ذیاتی کر بیٹھیں کیونکہ مقتدر قوتوں نے ہر ایک کیساتھ انصاف مساوات اور عدل کے پہلوؤں پر بہت توجہ دی ھے اس بابت عوام کو گمراہ کرنا اپنے اسی سال کے جھوٹ گمراہی منافقت کو بچانے کیلئے ملک و قوم دشمن ضرور عیاریاں مکاریاں دھوکہ دہی اور فریب و بلیک میلنگ کا راستہ اپنانے کی کوشش کریں گے یہ وقت بار بار نہیں آئیگا کیونکہ ہر مافیاء اپنے اوپر گرفت پابندی قانون کو مسلط ہوتا نہیں دیکھ سکتا یہ وقت ہے ہر لسانی قوم قبیلہ اور زبان بولنے والوں پر کہ بہت ہوگئی ان ظالم و جابروں کی نسل در نسل غلامی کرتے ہوئے اب کسان اور کسان کا بچہ بھی اپنے حقوق کی طرف بڑھے گا اب ہر مزدور و کاریگر کا بچہ بھی پڑھ کر بڑا انسان بنے گا اور ہر سو پھکاری مافیاء اور جنسی ہوس پرست مافیاء ڈکیت و قاتل مافیاء کا مکمل خاتمہ ممکن ہوسکے گا نئے نظام سے امن و سکون تحفظ میسر آئیگا اور بھتہ خوری سرکاری ہو یا نجی ہر ایک دفن ہوجائیگی۔ اب ذرا مسودہ کی جانب بڑھتے ہیں۔۔۔ *”باب اول: ریاست کا انتظامی ڈھانچہ“*۔۔۔ پاکستان ایک وفاقی، جمہوری اور آئینی ریاست ہوگا، جس میں مضبوط وفاق، بااختیار صوبے اور مکمل خودمختار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے گا۔ تمام ریاستی ادارے آئین کے تابع ہوں گے۔۔۔ *”باب دوم: نئے صوبے“*۔۔۔۔ بہتر انتظام، متوازن ترقی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ملک کو انتظامی بنیادوں پر درج ذیل صوبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: *”پنجاب“* ۔۔ اوّل: شمالی پنجاب ، دوئم: سنٹرل پنجاب، سوئم: جنوبی پنجاب، چہارم: پوٹھوہار، پنجم: بہاولپور؛ ۔۔۔ *”سندھ“* ۔۔۔ اوّل: کراچی ، دوئم: حیدرآباد، سوئم: میرپورخاص، چہارم: سکھر، پنجم: لاڑکانہ؛ ۔۔۔*”خیبر پختونخوا“* ۔۔۔ اوّل: پشاور، دوئم: ہزارہ، سوئم: ملاکنڈ، چہارم: ڈیرہ اسماعیل خان؛۔۔۔ *”بلوچستان“* ۔۔۔ اوّل کوئٹہ، دوئم: مکران، سوئم: ژوب، چہارم: قلات؛ ۔۔۔ دیگر وفاقی اکائیاں ان میں گلگت بلتستان؛ آزاد جموں و کشمیر (آئینی و سیاسی اتفاقِ رائے کے مطابق)۔۔۔ *”باب سوم: صدرِ مملکت“*☜صدر ریاست، وفاق اور آئین کی علامت ہوگا۔☜صدر کا انتخاب براہِ راست عوام کریں گے۔☜صدر وفاقی حکومت کا سربراہ ہوگا۔☜وفاقی کابینہ صدر کے ماتحت کام کرے گی۔☜صدر قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور وفاقی اداروں کا نگران ہوگا۔۔۔*”باب چہارم: وفاقی کابینہ“* ۔۔۔۞ تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ وفاقی کابینہ کے رکن ہوں گے۔ ۞ہر وزیراعلیٰ اپنے صوبے کے معاملات میں بااختیار ہوگا لیکن قومی و وفاقی معاملات میں صدر کو جواب دہ ہوگا۔۞ قومی پالیسی سازی میں تمام وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم رہے۔۔۔*” باب پنجم: گورنر“*☜ہر صوبے میں ایک گورنر ہوگا جو وفاق اور صدرِ مملکت کا نمائندہ ہوگا۔☜ گورنر آئین کے نفاذ اور وفاقی پالیسی پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔☜اگر کوئی وزیراعلیٰ آئین کی خلاف ورزی کرے یا اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا نہ کرے تو گورنر، صدر کی منظوری سے، آئینی طریقۂ کار کے مطابق وزیراعلیٰ کو معزول کرنے کی سفارش یا اقدام کر سکے گا، جس کا عدالتی جائزہ وفاقی آئینی عدالت میں لیا جا سکے گا۔۔۔*”
باب ششم: وفاقی مقننہ“*۞قومی اسمبلی ختم کر دی جائے۔۞سینیٹ واحد وفاقی قانون ساز ایوان ہوگا۔۞تمام وفاقی قوانین، بجٹ اور آئینی ترامیم سینیٹ سے منظور ہوں گی۔۞سینیٹرز کا انتخاب صوبائی اسمبلیاں اوپن بیلٹ کے ذریعے کریں گی۔۔۔۔*”
باب ہفتم: صوبائی حکومت“*☜ہر صوبے میں منتخب صوبائی اسمبلی ہوگی۔☜وزیراعلیٰ کا انتخاب صوبائی اسمبلی کے اراکین کریں گے۔☜صوبائی کابینہ صوبے کے انتظامی امور چلائے گی۔۔۔۔*”باب ہشتم: وفاقی آئینی عدالت“*۞وفاقی آئینی عدالت ملک کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت ہوگی۔۞یہی ادارہ سپریم کورٹ کا آئینی کردار ادا کرے گا۔۞آئین کی تشریح، بنیادی حقوق کے تحفظ اور وفاق و صوبوں کے درمیان تنازعات کا حتمی فیصلہ اسی عدالت کے پاس ہوگا۔۔۔ *”باب نہم: بلدیاتی نظام“*☜ہر ضلع میں ضلع ناظم براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوگا۔☜ڈپٹی کمشنر:ضلع ناظم کے ماتحت انتظامی افسر ہوگا۔☜ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر: ضلع ناظم کے ماتحت ضلعی امن و امان کے انتظام میں کام کرے گا، جبکہ پولیس کے پیشہ ورانہ اور قانونی اختیارات آئین اور قانون کے مطابق محفوظ رہیں گے۔☜تحصیل ناظم اور یونین کونسل کا نظام آئینی تحفظ کے ساتھ قائم ہوگا۔☜ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ براہِ راست بلدیاتی اداروں کو منتقل کیا جائے گا۔۔۔*”باب دہم: بنیادی اصول“*۞مضبوط وفاق، بااختیار صوبے۔۞طاقتور اور آئینی بلدیاتی نظام۔۞تیز، شفاف اور غیر سیاسی احتساب۔
۞آزاد وفاقی آئینی عدالت۔۞اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی۔۞تمام ریاستی ادارے آئین اور قانون کے تابع ہوں گے۔۔۔ معزز قارئین!! یہ تو حقیقت ھے کہ قائداعظم محمد علی جناح نے جو قیامِ پاکستان کے وقت ریاست کا نظام سوچا تھا وہ آپکے انتقال کے بعد سے ہی دشمنانان پاکستان نے پاکستان میں موجود اپنے ایجنڈوں مسلمانوں کے غداروں کی نسلوں سے کام لینا شروع کیا، چند ایک کے علاوہ بیشتر صاحب اقتدار وزیراعظم و صدر اور دیگر اہم ترین منصب پر ایوانوں میں غداروں کی ایک بڑی تعداد میں نسلیں برجمان ہوتی چلی آئی ہیں، آنے والے نظام سے ملک دشمن اور غداروں کو کوئی راستہ نہیں ملے گا کہ وہ عوام کی طاقت کو کمزور کرسکیں اور پاکستان و پاکستانی ریاست یعنی وفاق کو کنزور و مفلوج کرکے بےبس کرسکیں ظاہر ھے یہ کیونکر مخالف پاکستان اور مخالف اسلام برداشت کرسکتے ہیں کہ پاکستان بھر کا اک اک چپہ مستحکم و مضبوط اور خوشحال و ترقی یافتہ بنے ان شاءاللہ ایسا تو ہو کر رہیگا کیونکہ پاکستانی عوام اپنے اندر لسانیت تعصب عصبیت مسلکیت قبیلہ پرستی خاندانی بدمعاشی امیر و غریب اونچ و نیچ جیسی بدکردار سوچ جو ین اسلام کی مکنل مخالف اور کفار و مشرکین کے نظریہ کی عکاسی کرتی ھے ان سب کا خاتمہ ناگزیر ھوچکا ھے ان شاءاللہ عوام کے برے دن گزرنے والے ہیں اور یہ اشرفیہ بوریا بستر باندھ کر ملک فرار ہونے کی کوشش کریں گے ان سب کو بھاگنے مت دینا ہر ایک سے قعمی خذانے کی پائی پائی کا حساب کتاب کرنا ہوگا، دین اسلام و دین محمدی ﷺ زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔۔!!



