راولپنڈی کا عدالتی ریکارڈ روم جو سن 1860 سے قائم ہے، اس میں گزشتہ تقریباً 200 سال کے عدالتی


راولپنڈی کا عدالتی ریکارڈ روم جو سن 1860 سے قائم ہے، اس میں گزشتہ تقریباً 200 سال کے عدالتی فیصلوں اور زمینوں کے ریکارڈ پر مشتمل کروڑوں فائلیں موجود ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنا قیمتی اور تاریخی ریکارڈ صرف 10 مرلہ جگہ میں رکھا گیا ہے جبکہ سرکاری عملہ بھی صرف 8 سے 10 افراد پر مشتمل ہے اور مزید 2 سے 5 افراد پرائیویٹ طور پر کام پر رکھے گئے ہیں۔ محدود جگہ اور ناکافی عملے کی وجہ سے نہ تو فائلیں درست طریقے سے سنبھالی جا رہی ہیں اور نہ ہی انہیں ترتیب سے رکھنے کی گنجائش موجود ہے جس کے باعث آدھی سے زیادہ فائلیں تباہ ہو چکی ہیں اور کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی زمینوں کے کاغذات ضائع ہو رہے ہیں۔ ریکارڈ روم میں نہ مناسب روشنی، نہ کیمرے اور نہ ہی سیکیورٹی کا کوئی انتظام موجود ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی بااثر شخص اپنے ذاتی فائدے کے لیے ریکارڈ روم کی فائلوں میں ردوبدل یا دانستہ آگ لگوا کر بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا حکومت سے پُرزور گزارش ہے کہ راولپنڈی ریکارڈ روم کے لیے جگہ اور عملہ بڑھایا جائے اور باقاعدہ ریکس/شیلفنگ کا انتظام کیا جائے تاکہ تمام فائلوں کو محفوظ اور ترتیب کے ساتھ رکھا جا سکے۔




