جامعہ کراچی میں ’’ہم نشست‘‘ کی دوسری قسط، علم، قیادت اور زندگی کی دانائی پر فکری مکالمہ

*جامعہ کراچی میں ’’ہم نشست‘‘ کی دوسری قسط، علم، قیادت اور زندگی کی دانائی پر فکری مکالمہ*
*اصل کامیابی اندرونی اطمینان اور خود سے مطمئن ہونے میں پوشیدہ ہے۔ ڈاکٹر خالد محمود عراقی*
*قیادت محض احکامات دینے کا نام نہیں بلکہ خود کو ضبط میں رکھنا، تحمل اختیار کرنا اور فوری ردِعمل سے گریز کرنا ہی اصل دانائی ہے۔ ڈاکٹر سید شبیب الحسن*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے شعبۂ پبلک ایڈمنسٹریشن میں قائم وزڈم تھیراپی سینٹر کے زیرِ اہتمام گزشتہ روز ’’ہم نشست‘‘ کی دوسری قسط کا انعقاد کیا گیا۔ پہلی نشست کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس فکری پروگرام میں علم، زندگی سے حاصل ہونے والی دانائی، بصیرت اور قیادت جیسے اہم موضوعات کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم انسان کی شخصیت میں مثبت تبدیلی پیدا کرتی ہے اور اسے نکھارنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے وقت کی پابندی نہایت اہم ہے، اصل کامیابی اندرونی اطمینان اور خود سے مطمئن ہونے میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آسان راستے اختیار کرنے سے دیرپا نتائج حاصل نہیں ہوتے اور یہ راستے بالآخر انسان کو وہیں واپس لے آتے ہیں جہاں سے اس نے آغاز کیا تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ کوئی بھی کام ناممکن نہیں، مسلسل محنت ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔ معیشت کے متحرک ہونے سے معاشرے کا ہر شعبہ فعال ہوتا ہے، اس لیے تعلیم کا نظام ایسا ہونا چاہیئے جو جدت، تخلیقی سوچ اور کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دے اور طلبہ کو عملی زندگی کے تقاضوں کے مطابق تیار کرے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ حقیقی لیڈر وہ ہوتا ہے جو دوسروں کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھا سکے اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ قیادت میں فطری صلاحیت شامل ہوتی ہے، تاہم تجربہ اور مسلسل سیکھنے کا عمل اسے مزید نکھارتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جس بھی کردار یا ذمہ داری کو اختیار کیا جائے، اسے دل و جان سے قبول کیا جانا چاہیئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اپنی زندگی کے ایک اہم موڑ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب انہیں یہ کہا گیا کہ ’’آپ یہ نہیں کر سکتے‘‘ تو وہی لمحہ ان کے لئے حوصلہ اور آگے بڑھنے کی تحریک بن گیا۔ والدین کے کردار پر بات کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں والدین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے آج یہ کردار پہلے کی نسبت کمزور ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کے باعث ہم جُڑنے کے بجائے زیادہ منقطع ہو رہے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ اور مثبت استعمال کی تربیت دیں، کیونکہ محض پابندی لگانا اس مسئلے کا حل نہیں۔ طلبہ کے نمائندہ نظام پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض صورتوں میں اس نظام کے باعث مسائل میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ بعض اساتذہ اپنی ذمہ داریاں طلبہ نمائندوں پر منتقل کر دیتے ہیں، جس کی اصلاح ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ کو محض نمبرز یا فائل نہیں بلکہ اپنے بچوں کی طرح سمجھا جانا چاہیے۔ اپنی گفتگو کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ تعلیمی ادارے ایسے افراد تیار کریں جو صرف پیشہ ورانہ طور پر ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی اقدار کے اعتبار سے بھی بہتر انسان ہوں۔ شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر سید شبیب الحسن نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ ڈاکٹر خالد محمود عراقی ایک نایاب اور قیمتی انسان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیادت محض احکامات دینے کا نام نہیں بلکہ خود کو ضبط میں رکھنا، تحمل اختیار کرنا اور فوری ردِعمل سے گریز کرنا ہی اصل دانائی ہے۔ ان کے مطابق سکون، بردباری اور اختلاف کی صورت میں بھی تحمل کا مظاہرہ وہ اقدار ہیں جو انہوں نے ڈاکٹر عراقی سے سیکھیں، اور یہی خوبیاں انہیں ایک بہترین رہبر اور مینٹور بناتی ہیں۔ سابق ڈین فیکلٹی آف مینجمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنسز جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر ابوذر واجدی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر خالد محمود عراقی کو مختلف حیثیتوں میں دیکھا ہے، بطور طالبِ علم، چیئرمین اور ڈین۔ ان کے مطابق ہر کردار میں وہ ایک غیر معمولی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ ان کی شخصیت قیادت، کمٹمنٹ اور اعتماد کا حسین امتزاج ہے۔ تقریب کے شرکاء نے پروگرام کو بامقصد، فکری اور متاثر کن قرار دیتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ’’ہم نشست‘‘ جیسی نشستوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ مقامی علمی اور اخلاقی سرمائے کو محفوظ کر کے آئندہ نسلوں تک منتقل کیا جا سکے۔
وزڈم تھیراپی سینٹر کے منتظمین ڈاکٹر قرۃ العین، ڈاکٹر مریم، یوسف منیر اور حافظ محمد عبدالصمد خان کے مطابق ’’ہم نشست‘‘ جیسے پلیٹ فارمز سنجیدہ مکالمے، فکری رہنمائی اور مثبت اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور مستقبل میں بھی اس نوعیت کی نشستوں کا انعقاد تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔




