اُردو لغت (تاریخی اصول پر) صرف ذخیرۂ الفاظ و معنی نہیں بلکہ قومی و ملی شعور کی عکاس ہے، ڈائریکٹر جنرل

*اُردو لغت (تاریخی اصول پر) صرف ذخیرۂ الفاظ و معنی نہیں بلکہ قومی و ملی شعور کی عکاس ہے، ڈائریکٹر جنرل*
*بُنیانِ مرصوص کی ترکیب لغت میں شامل، نظرثانی میں نئے معنی کا اندراج ہوگا*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) اُردو لغت بورڈ، کراچی فیلڈ دفتر، ادارۂ فروغ قومی زبان قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے ماتحت ایک قابل فخر ادارہ ہے جو قومی زبان کی خدمت پر مامور ہے۔ اُردو لغت بورڈ، کراچی نے باون سال کی محنت سے تاریخی اصول پر بائیس جلدوں پر مشتمل اُردو لغت کی تدوین کا اہم کام سر انجام دیا ہے۔ اُردو لغت کی جلد دوم ۱۹۷۹ء میں شائع ہوئی جس میں الف ممدودہ اور ب کے الفاظ شامل ہیں۔ لغت نویسی کے قواعد و ضوابط کے مطابق جلد دوم میں لفظ بُنیان کے تحتی میں بُنیانِ مرصوص کی ترکیب بھی درج ہے۔ ۱۰؍مئی ۲۰۲۵ء کو پاک فوج کی جانب سے ہندوستانی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے آپریشن کا نام "بُنیانِ مرصوص” رکھا گیا جو کہ بنیادی طور پر قرآنی آیت سے ماخوذ ہے لیکن یہ ترکیب اُردو زبان میں بھی رائج ہے۔ پاک فوج کی شاندار کامیابی کی بدولت اس ترکیب کے کثرت استعمال کے تحریری شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے اسے لغت میں درج کرنے کیفلئے زیر غور لایا گیا ہے۔ لغت نویسی کے ماہرین کی آراء کے مطابق ہر مرکب اور شاعرانہ ترکیب لغت میں اندراج کی اہل نہیں ہوتی۔ البتہ تاریخی اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے کثرت استعمال اور معانی میں مجاز، کنایہ یا اصطلاحی شان پیدا ہونے سے کسی مرکب کی لغت میں اندراج کی شرائط پوری ہوتی ہیں۔ اُردو لغت بورڈ، کراچی میں منعقدہ مذاکرے میں ڈائریکٹر جنرل ادارۂ فروغِ قومی زبان نے اپنے پیغام میں کہا کہ اُردو لغت تاریخی اصول پر صرف ذخیرۂ الفاظ و معنی نہیں بلکہ لغت نویسی کے قواعد و ضوابط کی پاسداری کیساتھ ساتھ قومی و ملی شعور کی عکاس ہے۔ اُردو لغت بورڈ، کراچی کے انچارج طارق بن آزاد نے اس موقع پر کہا کہ لغت اور انسائیکلوپیڈیا میں فرق ہوتا ہے، وقت اور حالات کے تحت الفاظ کا استعمال بدلتا رہتا ہے اور معانی میں نئی شان پیدا ہوتی ہے جن کی روشنی میں الفاظ و تراکیب کے لغت میں اندراج کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔




