کالم/مضامین

کھیوڑہ کی جگمگاتی نمکین، سرنگیں ، تاریخ اور وقت کا ذائقہ ضلع جہلم کا قدرتی ورثہ،پاک وطن کا گمنام

*کھیوڑہ کی جگمگاتی نمکین، سرنگیں ، تاریخ اور وقت کا ذائقہ ضلع جہلم کا قدرتی ورثہ،پاک وطن کا گمنام سفیر عالمی پہچان*

تحریر: عبدالرحمن قادری
ضلع: جہلم
کھیوڑہ —
افطار کے بعد کے لمحات عجب سکون اور ٹھہراؤ اپنے اندر سمیٹے ہوتے ہیں۔ دن بھر کی مصروفیات، بھوک اور پیاس کے بعد جب دل شکر اور ذہن غور و فکر کی طرف مائل ہوتا ہے تو نگاہِ تصور ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان کھیوڑہ کی جانب اٹھتی ہے، جہاں پہاڑ کے سینے میں چھپی نمک کی خاموش سرنگیں صدیوں پر محیط ایک ایسی داستان سناتی محسوس ہوتی ہیں جو زبانِ حال سے بھی ہے اور زبانِ قال سے بھی۔ضلع جہلم، جو دریائے جہلم، قدیم تمدنی آثار اور تاریخی تسلسل کے باعث پنجاب میں ایک منفرد شناخت رکھتا ہے، اسی سرزمین میں قدرت کا ایک انمول خزانہ سنبھالے ہوئے ہے۔ کھیوڑہ کی نمک کی کانیں نہ صرف اس ضلع کی پہچان ہیں بلکہ پاکستان کی معدنی تاریخ کا ایک روشن اور تابندہ باب بھی ہیں۔نمک میں محفوظ تاریخ اور دریافت کادورتحقیقی اور تاریخی روایات کے مطابق کھیوڑہ کے نمک کی ابتدائی دریافت چوتھی صدی قبل مسیح میں ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سکندرِ اعظم اپنی فتوحات کے سفر میں اس خطے سے گزرا۔ روایت ہے کہ سکندر کے لشکر کے گھوڑوں نے یہاں موجود نمکین پتھروں کو چاٹ کر اس پوشیدہ خزانے کی نشاندہی کی۔ یوں قدرت نے خود انسان کو زمین کے سینے میں چھپی اس نعمت سے روشناس کروایا اور ضلع جہلم کی یہ سرزمین تاریخ کے افق پر معدنی اہمیت کے ساتھ ابھری۔تاہم صدیوں تک یہ نمک مقامی آبادی کے محدود استعمال تک ہی رہا۔ باقاعدہ، منظم اور سائنسی بنیادوں پر کان کنی کا آغاز برطانوی دورِ حکومت میں ہوا۔ انیسویں صدی میں، خصوصاً 1872ء کے بعد، جدید سرنگیں تعمیر کی گئیں، نکاسی آب اور حفاظتی نظام قائم ہوا اور کھیوڑہ کی نمک کی کان کو ایک باقاعدہ سرکاری معدنی منصوبے کی حیثیت حاصل ہوئی۔ یہی وہ دور تھا جب کھیوڑہ برصغیر کی اہم ترین نمک کی کانوں میں شمار ہونے لگا۔تحقیق، معدنی دولت اور قومی اہمیت کھیوڑہ کا نمک اپنی قدرتی ساخت، شفافیت اور مخصوص گلابی رنگ کے باعث دنیا بھر میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔ یہی نمک آج عالمی منڈی میں ہمالیائی پنک سالٹ کے نام سے پہچانا جاتا ہے، جو خوراک، ادویات، کاسمیٹکس اورمختلف صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔یہ کان آج پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے زیرِ انتظام ہیں۔ ضلع جہلم کی معیشت میں یہ منصوبہ روزگار، برآمدات اور قومی آمدن کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق یہاں موجود نمک کے ذخائر مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ صدیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ضلع جہلم میں سیاحت کا نمکی رنگ کھیوڑہ کی نمک کی کانیں آج ضلع جہلم کے سب سے نمایاں سیاحتی مقامات میں شمار ہوتی ہیں۔ نمک سے بنی مسجد، روشنیوں سے سجی طویل سرنگیں، شفاف نمکی کرسٹل اور قومی یادگاروں کے نمونے سیاحوں کو حیرت اور مسرت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ نمکین فضا کو سانس کے مریضوں کے لیے مفید تصور کیا جاتا ہے، جس کے باعث یہ مقام قدرتی شفا کے مرکز کے طور پر بھی پہچانا جانے لگا ہے۔افطار کے بعد یا شام کے وقت کھیوڑہ کا سفر ایک ایسا تجربہ بن جاتا ہے جہاں انسان شورِ دنیا سے کٹ کر قدرت کی صناعی پر غور کرنے لگتا ہے۔
دنیا بھر میں ضلع جہلم کے نمک کی پہچان کھیوڑہ، ضلع جہلم سے نکلنے والا یہ نمک آج پاکستان کی سرحدوں سے بہت آگے جا چکا ہے۔ یہ نمک امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اٹلی میں شوق سے استعمال کیا جاتا ہے۔اسی طرح جاپان، چین اور جنوبی کوریا میں اسے صحت، متبادل علاج اور خوبصورتی سے متعلق مصنوعات میں استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں یہ نمک معیار اور ذوقِ صحت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔یوں ضلع جہلم کا یہ نمک عالمی دسترخوانوں تک پہنچ کر پاکستان کا ایک خاموش مگر باوقار سفیر بن چکا ہے۔
ورثہ، ذمے داری اور سوچ
کھیوڑہ کی نمک کی کانیں ضلع جہلم ہی نہیں بلکہ پوری قوم کی امانت ہیں۔ یہ وہ خزانہ ہے جسے صرف نکالنے کا نہیں بلکہ سنبھالنے کا شعور بھی ضروری ہے۔ تحقیق، تحفظ، معیاری سیاحت اور عالمی معیار کی تشہیر کے ذریعے کھیوڑہ پاکستان کے مثبت تشخص کی ایک مضبوط علامت بن سکتا ہے۔افطار کے بعد کے ان خاموش لمحوں میں، جب دل شکرگزاری اور ذہن غور و فکر میں ڈوبا ہوتا ہے، کھیوڑہ کی یہ سرنگیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ زمین کے سینے میں چھپی دولت محض نمک نہیں بلکہ تاریخ، شناخت اور آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہے۔

تحریر: عبدالرحمن قادری

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You