پنڈدادن خان(عمران حیدر ببلی سے) پاکستان میں نئے صوبے، نئے انتظامی یونٹ بنانا وقت کی اہم

پنڈدادن خان(عمران حیدر ببلی سے) پاکستان میں نئے صوبے، نئے انتظامی یونٹ بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے مرکزی علماء کونسل جہلم
آبادی بڑھ رہی ہے۔صوبوں کا بڑا سائز پنجاب جیسے صوبے کی آبادی 12کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔اتنے بڑے آبادی کے صوبہ کو ایک ہی مرکز لاہور سے کنٹرول کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہیے مرکزی علماء کونسل جہلم کے علماۓ کرام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ملک میں نئے صوبے بنائے جائیں چونکہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، ترقیاتی فنڈز اور عوام کیلئے بنیادی تمام سہولیات، تمام علاقوں میں نچلی سطح تک نہیں پہنچ رہی۔ پسماندہ علاقوں میں امن و امان، تعلیم اور صحت کے مسائل پر بروقت توجہ نہیں دی جاسکے
اپنے ایک بیان میں علماۓ کرام نے کہا کہ جنوبی پنجاب، سرائیکی بیلٹ،ہزارہ ڈویژن اور کراچی جیسے علاقوں کے عوام اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے ٹیکسوں کا پیسہ صرف بڑے شہروں پر خرچ ہوتا ہے۔ نئے صوبے بننے سے مقامی قیادت ابھرے گی۔تعلیم، صحت، معاشی ترقی پیدا ہو گی۔ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے نچلی سطح تک عوام کو بے حد مشکلات درپیش ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نئے انتظامی یونٹ قائم کرکے تمام سرکاری ادارے عوام کے قریب لائے جائیں۔ مقامی مسائل، صحت، تعلیم، روزگار، امن و امان اور انصاف کی فراہمی بروقت اندازمیں ہوسکتی ہے۔ ترقیاتی منصوبہ بندی کو مقامی ضروریات کے مطابق بہتر ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس فائدہ مند ثابت ہوں گے۔بہتر سیاسی نمائندگی، مختلف علاقوں کے مسائل،وسائل کی بہتر تقسیم،مقامی آبادی اور ضروریات کے مطابق بجٹ اور وسائل مختص کرنے کی گنجائش بڑھ سکتی ہے۔عوامی شکایات کا فوری ازالہ، فیصلے مقامی سطح پر ہونے سے عوامی مسائل نسبتاً تیزی سے حل ہو سکتے ہیں۔عوام کو سرکاری دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر سہولیات تک رسائی آسان بنائی جاۓ



