*عنوان: سیفٹی/فائر فائٹنگ/بم ڈسپوزل و دیگر حفاظتی عوامل ناپید ناکارہ*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: سیفٹی/فائر فائٹنگ/بم ڈسپوزل و دیگر حفاظتی عوامل ناپید ناکارہ*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
آئے روز کراچی میں سانحات ہونے پر میں نے اپنے بہت ہی عزیز دوست اور قلیق شَاھِد مَسرُور خان کو فون کیا اور اس بابت ماہرانہ و محققانہ وجوہات اسباب اور ذمہداران کا تعین جاننے کی کوشش کی۔ اپنے معزز قارئین کو بتاتا چلوں کہ میرے دوست میرے ساتھ ایک نجی چینل میں کام کرتے رہے ہیں، علم و ادب کیساتھ بھی گہرہ ربط رکھتے ھیں اور سب سے بڑی بات یہ ھے کہ شاھد مسرور نے بین الاقوامی سیفٹی / فائر فائٹنگ / بم ڈسپوزل و دیگر کورس ورکشاپ کرچکے ہیں۔ فائر فائٹنگ ہو یا بم ڈسپوزل اور سیفٹی ٹیکنکس کے پاکستان میں چند ایک ہی ماہر ہیں جن میں ان کا نام سرِ فہرست آتا ھے۔ وہ سرکاری ادارے سے وابسطہ رہے ہیں، اب وہ سبکدوشی زندگی بسر کررھے ہیں غالباً گریڈ بیس سے ریٹائرڈ ہوئے تھے بحرکیف میں نے ان سے کراچی میں پھر بڑا حادثہ ہونے پر کہا کہ سانحۂ گل پلازہ پھر ایک زخم دے گیا، محکمۂ سول ڈیفنس کہاں ہے ؟ کہا جاتا ہے کہ لاعلمی سب سے بڑا خوف ہوتی ہے اور ہم سب لاعلمی کے خوف میں مبتلا ہیں، صاحبِ منصب و مقتدر حلقے اب بھی حقائق و قانونی ضروریات کا ادراک نہیں کریں گے تو اس طرح کے نقصانات کا کبھی ازالہ نہیں ہو سکے گا، میری اس پر شَاھِد مَسرُور خان نے کہا کہ میں ضرورت محسوس کرتے ہوئے اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر کچھ چشم کشا حقائق بیان کرتا ہوں پاکستان میں سیفٹی کا قانون سنہ انیس سو اکیاون عیسوی میں یعنی سول ڈیفنس اسپیشل پاور رولز قائم ہوئے پھر سنہ انیس سو باون عیسوی میں سول ڈیفنس لیجسلیشن کا نفاذ ہوا ، سنہ انیس سو سولہ عیسوی میں بلڈنگ کوڈ آف پاکستان کا نفاذ ہوا یہ ایک گزیٹڈ دستاویزات ہے ( بیشتر زمہ داران اس سے واقف ہی نہیں ہیں) لیکن بتدریج ہم نے مفادات کے لئے سول ڈیفنس کے ادارے کو تباہ کیا، سنہ دو ہزار عیسوی میں این ڈی ایم اے بنا کر غیر تربیت یافتہ بیوروکریٹس کے ہاتھوں میں سیفٹی اور بہبود کا اربوں روپیہ دے کر انہیں مسلط کیا جبکہ سول ڈیفنس کو بجٹ اور افرادی قوت دے کر مستحکم کیا جاسکتا تھا جب کہ قابلِ ذکر اور غور طلب بات یہ ہے کہ این ڈی ایم اے ، ہی ڈی ایم اے ، یا ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو جیسے ادارے حادثات ہو جانے کے بعد کام کرتے ہیں جبکہ سول ڈیفنس کا ادارہ حادثات سے بچاؤ اور انہیں وقوع پزیر ہونے سے روکنے کے ساتھ حادثات کے دوران ان کے خاتمے اور بعد میں نقصانات کے اثرات دور کرنے اور بہبود کیلئے بھی کام کرتا ہے ، یہ اس ادارے کا انتظامی اور قانونی اسٹرکچر ہے۔
سول ڈیفنس واحد آرگنائزیشن ہے جو پاکستان میں منظم تربیت فراہم کرتی ہے، فائر فائٹنگ، ریسکیو ، ڈزاسٹر رسک پلاننگ، حادثات، بم ڈسپوزل سمیت پاکستان میں تمام تر ٹریننگز کی اتھارٹی سول ڈیفنس ہے، سیفٹی رولز اور قانون سازی بھی سول ڈیفنس کا ہی ہے، لیکن افسوسناک صورتِ حال یہ ہے کہ بتدریج سول ڈیفنس سے فائر سروس ختم کی گئی اب اداروں کے پاس یہ سروس ہے مثلاً بلدیہ کراچی، کے پی ٹی ، اسٹیل ملز ، پی آئی اے وغیرہ، اور اس بلدیہ کراچی کا ایک چیف فائر آفیسر ( جس کو کئی سال کی ملازمت کے بعد برطرف کیا گیا) ایسا بھی رہا ہے جس نے سول ڈیفنس کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فائر ٹیکنالوجی سے اسٹیشن فائر آفیسر کورس تو درکنار سادہ فائر فائٹر کورس بھی نہیں کیا ہوا تھا لیکن سیاسی بنیادوں پر چیف فائر آفیسر تعینات تھا، ریسکیو سروس سول ڈیفنس سے پی ڈبلیو ڈی کو دی گئی تھی جو پھر غیر فعال ہوگئی تھی، بم ڈسپوزل کو پولیس کے حوالے کیا گیا اور اس طرح ایک قانونی ادارے سول ڈیفنس کو دانستہ غیر فعال کیا گیا، پاکستان کے چاروں صوبوں میں سول ڈیفنس کے ٹریننگ اسکول موجود ہیں، اکیڈمیز ہیں، اسلام آباد میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فائر ٹیکنالوجی موجود ہے جہاں دیگر ممالک سے لوگ تربیت لینے آتے ہیں، لیکن سندھ میں سول ڈیفنس کو تباہ اور نظر انداز کردیا گیا ہے، سندھ کے تمام اصلاح میں سول ڈیفنس کی کل آسامیاں تین سو آٹھ ہیں یعنی تقریباً دو فائر اسٹیشنز کے اسٹاف کے برابر، لیکن اسکے بھی برعکس فی الوقت پورے سندھ میں صرف ایک سو ساٹھ کے قریب لوگ اس ادارے میں موجود ہیں جن میں چپراسی، چوکیدار، ڈرائیورز وغیرہ بھی شامل ہیں اور ان میں سے بھی بیشتر اس حالت میں ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں کہ انتالیس سال کی ملازمت میں بھی انہیں کبھی کوئی پروموشن نہیں دیا گیا اور ان کیلئے کوئی ڈی پی سی نہیں بٹھائی گئی جو پانچ گریڈ میں آئے تھے وہ اسی گریڈ میں ریٹائر ہورہے ہیں۔
سنہ دو ہزار اٹھارہ عیسوی میں بارہ افسران پبلک سروس کمیشن سے ملازمت پر رکھے گئے جو کہ ڈپٹی کنٹرولر کی ٹیکنیکل پوسٹ پر تعینات ہوئے اور تمام غیر تربیت یافتہ تھے، سندہ کے بیشتر اضلاح میں اسٹاف تو درکنار افسران بھی نہیں ہیں، اس ادارے کے پاس سندہ میں خاص کر کراچی میں کوئی اپنا آفس نہیں ہے، گاڑیاں نہیں ہیں، لینڈ لائین فون نہیں ہیں، سامان ایک فیصد نہیں ہے، تنخواہوں کے علاؤہ ایسا کوئی بجٹ نہیں ہے جس سے سول ڈیفنس کی سروسز بحال کی جاسکیں، قانون کے مطابق بلدیہ اپنی آمدن اور کل بجٹ کا پانچ فیصد محکمۂ سول ڈیفنس کو دینے کا پابند ہے لیکن شائد اس قانون کا علم مئیر کراچی کو خود نہ ہو، اس کے برعکس چار ماہ کے تربیت یافتہ ورکرز اور کروڑوں اربوں روپے کے بجٹ سے کراچی میں ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو قائم کیا گیا ہے، لیکن تربیت یافتہ اور تجربے کار فعال ادارے سول ڈیفنس کو مزید غیر فعال کردیا گیا ہے پھر باور کرا دوں کہ پاکستان میں سیفٹی رولز، قانون سول ڈیفنس کا ہی ہے اور باقی ادارے مختلف آرڈیننس یا انتظامی احکامات کے تحت قائم کئے گئے ہیں۔ ضلع کا ڈپٹی کمشنر قانونی طور سے سول ڈیفنس کا کنٹرولر ہوتا ہے اور میں اپنے تجربے کی بنیاد پر سمجھتا ہوں کہ بیشتر ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز سول ڈیفنس اسپیشل پاور رولز، سول ڈیفنس قانون سازی، اور ضابطہ تعمیرات و ضابطہ عمارات آف پاکستان ٢٠١٦ ء سے نابلد ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اس ادارے کی بحالی کیلئے خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر پاتے
سول ڈیفنس کے پاس رضاکاروں کی بھی ایک فورس ہوتی ہے، جو کسی بھی ایمرجنسی میں اپنی تربیت کی بنیاد پر ریلیف ایجنسیوں کی معاونت کرتے ہیں، سندھ میں بھی ہزاروں رضاکار موجود ہیں لیکن ادارے کو رضاکاروں ( وارڈن سروس) کیلئے ایک دھیلے کا بجٹ نہیں دیا جاتا حتیٰ کہ موومنٹ کیلئے لاجسٹکس کی سہولت بھی نہیں ہے اس کے برعکس پنجاب میں رضاکاروں کو ماہانہ مشاہرہ اور دیگر سہولیات دی جاتی ہیں، سندہ سول ڈیفنس کا بجٹ زیرو ہے جبکہ پنجاب میں اربوں روپے ہے، سہولیات ہیں، اپنے دفاتر، گاڑیاں، ساز و سامان ہے، سندھ میں ادارے کا اپنا ڈائریکٹر تک نہیں بلکہ وقتی پوسٹنگ کر کے کسی افسر کو سول سروس سے تعینات کردیا جاتا ہے۔ سندھ اور بلخصوص کراچی میں سائرن سسٹم بھی اب موجود نہیں، مئی سنہ دو ہزار پچیس عیسوی کی جنگ کے موقع پر سائرن سسٹم کی بحالی کیلئے بمشکل بیس لاکھ روپے جاری ہوئے جن سے صرف پندرہ سائرن خریدے جاسکے جبکہ صرف کراچی میں تین سو سے ساڑھے تین سو سائرن اور ایک جدید سسٹم کی ضرورت ہے، یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ مئی سنہ دو ہزار پچیس عیسوی جنگ کے موقع پر پنجاب سول ڈیفنس کیلئے پچاس کروڑ روپے جاری ہوئے تھے ان تمام حالات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے کہ جب تک حکومت سنجیدہ ہو کر ملک اور عوام کے مفاد کیلئے سول ڈیفنس کے تربیت یافتہ، محرک اور تجربے کار افراد سے تجاویز و معاونت حاصل کر کے ادارے کو وسعت دیتے ہوئے فعال نہیں بنائے گی یہ منتشر نئی نویلی آدھی ادھوری ریلیف ایجنسیاں شہر اور صوبے کو آفات سے نہیں بچا سکتیں، اس شہر کا ڈزاسٹر مینجمنٹ پلان، کنٹیجنسی پلان، ڈیفنس سیکیورٹی/ سیفٹی پلان اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قانون کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے دوسری صورت میں خدانخواستہ حادثات بھی ہوتے رہیں گے اور نقصانات بھی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ڈزاسٹر مینجمنٹ پلانن، کنٹیجنسی پلان، ڈیفنس سیفٹی پلان اور کمانڈ اینڈ کنٹرول پلان بنانے والے افراد ہی دستیاب نہیں ہیں اور اگر ہیں تو ان سے مستفید ہونے والا کوئی نہیں ہے۔




