کالم/مضامین

*عنوان:حضرت خواجہ محمد عبدالغفار المعروف پیر مٹھا*

*اسپشل ایڈیشن*

*عنوان:حضرت خواجہ محمد عبدالغفار المعروف پیر مٹھا*

*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

سندھ کی علمی و روحانی شخصیات کا جب ذکر کیا جاتا ھے تو وہاں حضرت خواجہ محمد عبدالغفار المعروف پیر مٹھا سائیں کے بغیر ذکر مکمل نہیں ہوسکتا، سلاسل چشتیہ قادریہ سہروردیہ اور نقشبندیہ کی خدمات سندھ دھرتی پر ہزاروں سال سے رہی ھے، لیکن اگر سلاسل نقشبندیہ کی بات کی جائے تو سندھ بھر میں اس سلاسل سے جڑے بیشمار شخصیات رہی ہیں ج کے فیوض و برکات کا لامتناہی سلسلہ تاحال جاری ھے، اپنے معزز قائین کی خدمت میں سندھ کی روحانی شخصیت قبلہ محترم جناب حضرت خواجہ محمد عبدالغفار المعروف پیر مٹھا سائیں کے بارے میں تحریر کررھا ھوں۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! آپ کا تعلق برصغیر کی قدیم اور قابل تعظیم چنڑ قوم سے ہے، آپ کا آبائی سلسلہ سولہ ویں پشت میں شیخ عماد الدین سہروردی چنڑ پیر سے جا ملتا ہے آپ کی ولادت با سعادت سنہ اٹھارہ سو اسی عیسوی کے قریب بستی لنگر شریف جلال پور پیر والا میں حضرت مولانا یار محمد چنڑ کے گھر میں ہوئی، آپ نے بنیادی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی، آپ مولانا امام الدین اُچ والے اور علامہ نظام الدین ڈیرہ نواب اور بعد میں سند کی طرف بھی حصول علم کیلئے سفر کیا ہے۔ حضرت علامہ عاقل محمد رحمت اللّٰہ علیہ شیخ الاسلام اور مفتی ہند کے لقب سے مشہور ہیں، انکے پاس آپ نے آخری کتب دورہ حدیث پڑھا ہے، آپ کا
خاندان حضرت خواجہ حافظ فتح محمد قادری رحمت اللہ تعالی علیہ کے مرید تھے، خواجہ حافظ فتح محمد قادری کا وصال سنہ انیس سو سترہ عیسوی میں ہوا، انکے وصال کے بعد آپ حصول طریقت کیلئے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی عظیم ہستی حضرت قطب عالم حضرت خواجہ فضل علی قریشی قدس سرہ العزیز کے دست بیعت ہوئے آپ کی کیفیات بیعت ہوتے ہی تبدیل ہو گئیں آپ نے خواجہ فضل علی قریشی کی خدمت اقدس میں اس کا ذکر کیا، آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھتے ہوئے فرمایا اِنَّا
عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُؕ-اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا
آپ کو مبارک ہو آپ کو امانت مل گئی ہے، کجھ ہی عرصہ میں آپ کو اجازت خلافت ملی جس کا مقصد تبلیغ دین اور سبق اسم ذات تہا آپ اسی سلسلہ میں بستی بستی نگر نگر تبلیغ کرتے رہے، آپ کے والد گرامی اور بھائی بھی سلسلہ عالیہ نقشبندی میں داخل ہوگئے، آپ نے پہلا مرکز چنی گوٹھ کے قریب دربار عاشق آباد کے نام سے قائم کیا اور بعد میں کافی جگہ پر تشریف لے گئے اور تبلیغ کے سلسلہ میں سندہ بھی آتے رہے، بعد میں مرشد گرامی کے احکامات سے سند میں مختلف مقامات پر بہت عرصہ گزارا اور دین اور شریعت کی تبلیغ کی اور سلسلہ میں داخل ہونے والے مخیر حضرات کو توجہ کرکے خلافت اجازت بھی دی، جس کا مقصد بھی صرف اور صرف دین اور شریعت اور اسم ذات کا سبق دینا ہے۔ سو سے زائد آپ کے خلفا ہیں، آپ نے سندہ میں سترہ مختلف مقامات پر کئی عرصہ رہائش اختیار کی، آخر میں مستقل رہائش کے سلسلے میں دربار رحمت پور شریف لاڑکانہ کا قیام ہوا۔ آپ علیہ الرحمہ کا وصال پر ملال سنہ انیس سو چونسٹھ عیسوی کو درگاہ عالیہ رحمت پور شریف لاڑکانہ میں ہوا، جہاں آپ کے سجادہ نشین اور فرزند ارجمند حضرت خواجہ محمد خلیل الرحمٰن غفاری نقشبندی قدس سرہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جامع مسجد غفاریہ کے جنوب میں آپ کا مزار پر انوار بنوایا۔ حضور پیر مٹھا سائیں رحمۃ اللّٰہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی فرزند دیا، جنہوں نے اپنے والد و مرشد کے مشن کو عام کیا۔ حضرت خواجہ محمد خلیل الرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ درگاہ عالیہ رحمت پور شریف میں اپنے مرشد گرامی کے عمل کی پیروی کرتے ہوئے ہر اسلامی ماہ کی دس تاریخ کو گیارہویں شریف کی محفل منعقد کرتے تھے جس میں پورے پاکستان سے بالخصوص سندھ سے مریدین و متوسلین آتے اور اس ولی کامل کی صحبت میں دین متین اور آپ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق کی باتیں سنا کرتے تھے۔ خواجہ محمد خلیل الرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ کا وصال پر ملال سنہ انیس سو چھہتر عیسوی کو ہوا۔ جن کی نماز جنازہ ان کے صاحبزادے اور جماعت غفاریہ کے تیسرے رھبر مرد قلندر حضرت خواجہ محمد جان جاناں نے پڑھائی۔ اللہ پاک نے حضرت خواجہ محمد جان جاناں رحمۃ اللّٰہ علیہ کو بھی ایک ہی فرزند سے نوازا جن کا اسم گرامی اپنے پڑ دادا حضرت خواجہ محمد عبدالغفار المعروف پیر مٹھا سائیں رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نام پر رکھا گیا اور لوگ آج بھی ان کو پیر مٹھا ثانی کے نام و لقب سے یاد فرمایا کرتے ہیں۔ حضرت خواجہ محمد جان جاناں رحمۃ اللہ علیہ کا وصال سنہ انیس سو ننانوے عیسوی کو ہوا جن کے بعد غفاری جماعت کے سالار اور سجادہ نشین حضرت خواجہ محمد عبدالغفار المعروف پیر مٹھا ثانی دامۃ برکاتہم العالیہ بنے جو آج تک اپنے اسلاف کے مشن کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔ آپ نے درگاہ عالیہ رحمت پور شریف کی تزئین و آرائش کا کام بڑی خوش اسلوبی سے کروایا ہے۔ بالخصوص زائرین کیلئے مسافر خانہ اور اپنے مرشد کے روضہ مبارک کی از سر نو تعمیر شامل ہیں۔ حضرت پیر مٹھا ثانی دامۃ برکاتہم العالیہ کو اللہ تعالیٰ نے دو فرزندگان سے نوازا ہے جن میں بڑے صاحبزادے علامہ محمد خلیل الرحمٰن غفاری اور چھوٹے علامہ محمد معصوم غفاری ہیں۔ دونوں صاحبزادگان عالم باعمل اور یونیورسٹی آف سندھ سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجویٹ ہیں جو اپنے والد و مرشد کے ساتھ غفاری پیغام کو دن رات پھیلانے میں سر فہرست رہتے ہیں اور ہر وقت دربار عالیہ رحمت پور شریف لاڑکانہ میں مریدین و متوسلین اور زائرین سے ملاقات و دعا کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ رب کریم اس گلشن غفاریہ کو روز قیامت تک شاد و آباد رکھے اور تمام متعلقین کو اس عظیم فیض سے حصہ عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You