کالم/مضامین

”نماز کو قائم رکھو اور زکوٰاۃ ادا کرو اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے

نماز کی فضیلت
تحریر: امیر عبدالقدیر اعوان
ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَأَقِیْمُواْ الصَّلاَۃَ وَآتُواْ الزَّکَاۃَ وَمَا تُقَدِّمُواْ لأَنفُسِکُم مِّنْ خَیْْرٍ تَجِدُوہُ عِندَ اللّہِ إِنَّ اللّہَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْرٌ (البقرہ:110) ترجمہ: ”نماز کو قائم رکھو اور زکوٰاۃ ادا کرو اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجتے ہو،اسے اللہ کے ہاں پاؤ گے اور جو عمل تم کرتے ہو یقینا اللہ اسے دیکھ رہے ہیں“۔عبادات میں پہلا حصہ فرائض کا آتا ہے۔فرائض میں نماز کو پہلا درجہ عطا فرمایاگیا ہے۔ الصلاۃ عمادالدین نماز دین اسلام کا بنیادی رکن ہے۔نبی کریم ﷺنے بیان فرمایا: ”بے نماز ی ہم میں سے نہیں“۔ نماز کو نمازی کے لئے ایک حضوری کی کیفیت اور حال بیان فرمایا گیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ”نمازی کے سامنے سے نہ گزرو“۔ کیوں؟ ”اس لیے کہ وہ اپنے اللہ سے ہم کلام ہے“ وہ جسے دنیا کی حیثیتیں، باہم ملاقات یا تفریق کی نظر کردیتی ہیں۔اسے بارگاہ ایزدی کی حضوری اس جہان فانی میں ایسی نصیب ہوتی ہے کہ وہ دن میں پانچ مرتبہ اپنے اللہ سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل کرتا ہے۔ کتنا بڑا انعام ہے؟ کتنی بڑی کیفیت ہے؟کتنی بڑی عطا ہے؟جب ہم نماز کی فرضیت کو دیکھتے ہیں، بچپن سے اس کی ترغیب بیان فرمائی گئی ہے کہ جہاں بچہ بڑا ہو رہا ہو، اس کی عادات میں ہی یہ بات داخل ہوجائے کہ میں نے نماز ادا کرنی ہے۔اس کم سنی میں ہی اس کو ترغیب دی جائے کہ سات سال کا بچہ ہے تو اس کو ساتھ لے جایا جائے، کھڑا کیا جائے، نماز پڑھنے کی تلقین کی جائے،دس سال کے بچے تک آہستہ آہستہ یاد کرایا جائے پھر اس کے بعد اس پر سختی کی جائے کہ میرا بچہ نماز پڑھنی ہے، تم اسے چھوڑ نہیں سکتے۔آپ غورکریں ہم کھانے پینے کے لیے، پہننے،اوڑھنے کے لیے،عمومی کلام جو مخلوق کے ساتھ ہے، اس کے لیے بچوں کی کتنی تربیت کرتے ہیں؟ اور اس تربیت میں سختی بھی کرتے ہیں۔ آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟لوگ آپ کے بارے میں کیا کہیں گے کہ آپ کی کیسی تربیت ہے؟آپ کی کیسی دیکھ بھال ہے؟ کتنے پہلو ہیں جو ہمارے سامنے ہیں پھر کتنا ہم اپنی مرضی کے خلاف بچے کے عمل پر اس کے ساتھ سختی کرتے ہیں؟ اگرنہیں کرتے تو جہاں اللہ کا حکم ہے،وہاں نہیں کرتے۔جہاں اللہ کا حکم نہیں ہے، وہاں کی سختی خرابی لاتی ہے۔جہاں اللہ کا حکم ہے، وہاں کی سختی بہتری لاتی ہے۔جب بچے کے مزاج میں یہ داخل ہو جائے کہ اس نے نماز پڑھنی ہے۔نبی کریم ﷺ نے اپنے بچے کو جو سات سال کی اس ہوش کی عمر کو پہنچتا ہے کہ بمشکل رشتوں کو جان پاتا ہے۔ وہاں سے اس کی تربیت کا حکم فرمایا۔جہاں اسے آپ بے شمار پہلوؤں سے شناسائی دے رہے ہیں۔وہاں اسے اس حقیقت سے شناسائی ضروری ہے۔جب نماز کی ادائیگی کی بات آتی ہے تو ہر نماز کی ادائیگی ایسے ہو جیسے شاید یہ میری زندگی کی آخری نماز ہو۔اتنی تیاری ہو،اتنا شوق ہوپھر دست بدستہ میں اپنے اللہ کے حضور کیا عرض کررہا ہوں؟
اللہ کریم نے اسی جہان فانی کی حیات مبارکہ میں امام الانبیاء نبی کریم ﷺ کو معراج عطافرمائی۔ معرا ج شریف کے حالات میں علماء دو حصے بحث فرماتے ہیں۔ ایک اسی آیہ کریمہ کا حوالہ دیتے ہیں کہ دیداری باری ممکن نہیں ہے قرآن کریم نے بیان فرمایا۔اس لیے بے شمار قرب عطا ہو ا،بے شمار انعامات عطا ہوئے،لیکن اس حیات میں دیدارباری ممکن نہیں اور حضرت جی (امیر محمد اکرم اعوان) رحمہ اللہ علیہ جب اس موضوع پر بحث فرماتے ہیں۔تو ان کاماننا یا مذہب وہ یہ ہے کہ اللہ کریم نے اس جہان فانی کے حوالے سے ارشاد فرمایا کہ اس خلق میں۔تو معراج شریف میں تو نبی کریم ﷺ کو خلق کے بالا حصوں میں پہنچا دیا گیاتواس قانون کا اطلاق یہاں ہے وہاں نہیں ہے۔رب کائینات نے آپ ﷺ کو اس درجے کی حضوری عطافرمائی پھر اس حضوری کے موقع پر اللہ کریم نے نماز کی یہ عبادت عطافرمائی، ایسا کرم فرمایا کہ جس سے آپ ﷺ کی امت کو بھی مستفید فرمایا۔یہ حکم صرف آپ ﷺ کو نہیں فرمایا۔آپ کو اپنی امت تک کے لیے یہ حکم عطافرمایا۔پھر یہ ایسی عبادت ہے معزز سامعین کرام جب معراج شریف کی وہ احادیث دیکھیں اور وہ واقعہ دیکھیں۔اس میں حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والاسلام نے نبی کریم ﷺ کو عرض کی کہ میں نے اپنی امت کے حال کو دیکھا ہے۔ یہ عبادت جو عطا ہے، مخلوق اسے آہستہ آہستہ بوجھ محسوس کرتی ہے اور عبادت نہیں کرسکتی۔جس حصے کو اختیار کرکے انہیں قرب الہٰی نصیب ہونا ہے۔ جب یہ اس طرح کی کمزوریاں، سستیاں اور کاہلیاں کرتے ہیں۔اپنے لیے نقصان کرتے ہیں۔آپ اللہ کے حضور عرض کریں کہ یہ پچاس نمازیں آپ کی امت کے لیے مشکل ہوجائے گا۔تو یہی سفرحاضری کا اور مشاورت کا پچاس سے پانچ نمازوں تک پہنچایا،ہربارپانچ نمازوں کی رخصت نصیب ہوئی اور کیسی رخصت ہے؟ اللہ کریم نے پانچ نمازیں فرض فرمائیں لیکن جو انعام ہے وہ پچاس کا ہی ہے۔لیکن اس میں ایک نقطہ جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں معزز خواتین وحضرات وہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ بات عرض کررہے تھے کہ نماز کی فرضیت پچاس کی امت کے لیے مشکل ہوگی تو رب کائینات اس وقت بھی دیکھ رہے تھے۔ اس سے بیشتر اللہ کی ذات علیم ہے، اسے معلوم تھا کہ آپ ﷺ کو معراج شریف پرعطا ہوگی۔ یہ مشاورت ہوگی اور اسی میں، اس حکم میں رعایت اس درجے کی، کی جائے گی کہ جس میں انعام کم نہیں ہوگا۔ عمل میں آسانیاں دی جا ئیں گی۔لیکن آپ غور فرمائیں کہ اسی ساری عطامیں،کتنی بارپھر حضوری کی کیفیت آپ ﷺ کوعطا فرمائی گئی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پھر بارگاہ ایزدی کی وہ حضوری جو عمومی نہیں ہے۔انتہائی خصوصی ہے اور اس میں سبب کیا ہے یہی ” نماز “۔ وَأَقِیْمُواْ الصَّلاَۃ َ (البقرہ:110 ( اور نماز قائم کرو۔کتنا بڑا انعام ہے؟ کتنی بڑی کیفیت ہے؟کتنی بڑی عطا ہے؟ پھر معزز سامعین کرام جب یہ فرمایا گیا کہ نمازکو قائم رکھو،یعنی پابندی سے ادا کروتو قیام صلوٰۃ سے مراد یہ نہیں ہے کہ رکوع و سجود کا انداز اختیار کیا جائے۔نماز کے حکم کے ہر پہلو، اللہ کے حکم کے مطابق پابندی لازم ہے اور جب حکم کی پابندی، حکم کے مطابق نصیب ہو۔ حضرت جی رحمۃاللہ علیہ قیام صلوٰۃ پر جب تفصیل بیان فرماتے ہیں۔وہ یہ نہیں ہے کہ بندہ مومن کو صرف ذاتی نماز کی ادائیگی نصیب ہوتی ہے۔جب وہ صلوٰۃ کے قیام میں پہنچتا ہے تووہ کیفیت اور حال اس کے ساتھ نصیب ہوتا ہے کہ وہ جہاں سے گزرتا ہے، جس مخلوق میں جاتا ہے، وہاں لوگوں کو نماز کی پابندی نصیب ہوتی چلی جاتی ہے۔
معزز خواتین وحضرات! جہاں دینی حکم، عبادت، فرائض اور نماز کی بات آ گئی تو اس کی ادائیگی کا ذوق وشوق اوروہ ثواب جو عین موقعے پر نصیب ہوتا ہے۔وہ آپ کی زندگی کو مزیدعنداللہ پسندیدہ پہلوؤں پر گامزن کر دیتا ہے۔ فرائض کی ادائیگی آپ کوسنت اور نفل کی ادائیگی تک پہنچاتی ہے۔آپ کا ایمانی دفاع تین حدود میں چلا جاتا ہے۔پھر قرآن کریم نے نماز کے نتائج موقع پر بیان فرمائے گئے ہیں۔ قرآن کریم ارشادفرماتا ہے: إِنَّ الصَّلَاۃَ تَنْہَی عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنکَرِ (العنکبوت،45)ترجمہ” نماز بے حیائی اور برائی سے حفاظت کرتی ہے“ اس حفاظت کو آپ مزید ڈیفائینDefine) (کریں تو یہاں برائی اور بے حیائی سے روکے گی بلکہ (Physical)اور(Non Physical) دونوں شامل فرمائی۔آپ برائی اور بے حیائی کی تشریح کریں اس کا ایک حصہ ایسا ہے جو بے حیائی کے معنوں میں آپ دیکھیں جو (Non physical ) حصوں میں آتا ہے کہ آپ فزیکل(Physical)عمل نہیں ہے۔ لیکن اس میں ایسا عنصر شامل ہے جو وہ برائی یا بے حیائی کے کسی معنوں میں استعمال ہوتا ہے؟دوسرا عنصر ہوتا ہے کہ وہ عمل، جیسے مثال کے طور پر میں آپ کو عرض کردیتا ہوں کہ کوئی کسی کو برائی کی رغبت دے رہا ہے۔عمل نہیں کررہا لیکن وہ برائی کا حصہ دار بن رہا ہے۔ایک عمل جو اشارے کا ہے، ترغیب کے درجے میں داخل ہورہا ہے،منافقت کررہا ہے۔دوسرا جس نے بے حیائی کی۔اس نے وہ سارے درجے عبورکرتے ہوئے عملی صورت تک جا پہنچا قرآن کریم میں نمازبرائی اور بے حیائی سے روکتی ہے تو برائی اور بے حیائی کی جب آپ وضاحت کریں گے تو اس میں ہر طرح کی خرابی داخل ہو جاتی ہے۔ گرد وبیش کی جتنی برائیاں ہیں،وہ کسی نہ کسی درجے میں اس میں داخل ہوجاتی ہیں اور قیام الصلوٰۃ نصیب ہو یعنی جو حکم ہے۔اس کے مطابق نماز نصیب ہو تو برائی اور بے حیائی سے روک دیتی ہے۔قرآن کریم میں بیان فرمایا گیا ہے اشارہ نہیں فرمایاگیا۔واضح بیان فرمایا گیا اور نتیجے کے طور پربیان فرمایا گیا تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ جس نماز کو شرف قبولیت نصیب ہو گی اس کا یہ نتیجہ یعنی اجر اور ثواب موقع کا جو نمازی کو نصیب ہونا ہے وہ یہ ہے کہ برائی اور بے حیائی سے اسے حفاظتِ الیہ نصیب ہوگی۔ جب ہم نماز کی ادائیگی اورہم اپنے معاملات، جن میں سے ہم گزر رہے ہیں،اسے دیکھتے ہیں تو نماز کی ادائیگی بھی ہے۔ برائی اور بے حیائی بھی کسی نہ کسی پہلو سے اس کا امتزاج بھی زندگیوں میں نظر آتا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے ساتھ اگر یہ کسی درجے میں برائی اوربے حیائی ہے تو سمجھ آتی ہے کہ اتنے درجے کی کمزوری ہم نے نماز کی ادائیگی میں کی ہے۔اس میں نماز کے لیے اٹھتے ہوئے نیت کی کیا کیفیت ہے؟ ہم نے اسے بھار تو نہیں محسوس کیاکہ کس مصیبت میں پڑ گئے ہیں؟پھر نماز کی جو تیاری ہے۔نماز کی ادائیگی سے پیشتر جو حکم ہے۔ وقت ہے، جگہ ہے،کپڑے ہیں، وجود ہے، وضو ہے۔ کیا ہم نے اس کااہتمام پورا کیا؟ اب وضو فرض نہیں ہے لیکن فرض کی ادائیگی کے لیے جب آپ کووضو کی ضرورت ہو گی تو وہ حکم کے ساتھ، فرض میں داخل ہوجائے گا۔پانی کی تلاش فرض نہیں ہے لیکن جب وضو کے لئے آپ پانی کی تلاش کو آئیں گے تو وہ فرضیت کے حکم کے تحت آتا چلا جائے گا۔ان سارے امور کی سرانجام دہی میں کوئی غلطی تو نہیں پھر بندہ پہنچتا ہے۔اللہ اکبر! نیت پر پہنچتا ہے توکیا نیت خالصتا ً اللہ کے لیے ہے؟ایسا تو نہیں کہ میرے جیسا اور کوئی نمازی نہیں۔جیسا خشوع و خضوع کا حامل میں ہوں مخلوق میں اور کوئی نہیں؟ کہیں جو ذات باری کی حضوری کاحصہ موجود ہے میں نے وہاں اپنی ذات کو تو داخل نہیں کر ڈالا؟ وہاں سے آگے آتے ہیں پھر جو نماز کے اندر احکامات ہیں،جو اللہ کے حضور کلام عرض کرنا،عطا فرمایا گیا ہے۔ اس کلام کی ادائیگی سے لے کر قیام ورکوع وسجود، تشہد ہر حصے کے احکامات ہیں۔ کیا اس حکم کے مطابق عمل کررہاہے؟پھر جب بات اسلام وعلیکم ورحمۃ اللہ تک پہنچے گی۔جو ادائیگی حکم کے تحت آتی چلی جائے گی تو اس کی شرف قبولیت کا نتیجہ قرآن کریم نے دنیا میں موقع پربیان فرمادیا گیاکہ برائی اور بے حیائی سے روک دیتی ہے۔
معزز خواتین وحضرات! جسے برائی اور بے حیائی سے حفاظت نصیب ہو رہی ہے۔ حفاظت کس کی ہے؟اللہ رب العالمین کی۔کس درجے کا قرب نصیب تھا؟ معصوم عن الخطاء، انبیاء و رسل، ان ہستیوں کے بعد،ا سے بہت بلندی نصیب ہورہی ہے۔ اسے حفاظت الہیہ نصیب ہوتی ہے اورحفاظت الییہ جسے نصیب ہو، وہاں پھر شیطنت نہیں ہوتی،وہاں برائی ہو نہیں سکتی، پنپ نہیں سکتی، رہ نہیں سکتی، بتقضائے بشریت کمی بیشی آئے وہ رفع ہوجاتی ہے، اس کی توبہ کی توفیق ہوتی ہے۔ بندہ پلٹتا ہے، تڑپتا ہے، اپنے اللہ کے لیے اس کی محبت میں، اس کے حکم کے لیے، اس کے حکم کے تحت عمل کرتا ہے تو نماز کا حکم بندہ مومن کوجہاں حق و باطل کی تفریق میں مثبت پہلو اور حق کاعطافرماتاہے۔ وہاں حفاظت الہیہ تک پہنچانے کا سبب ہے۔ لیکن اس میں ایسا عنصر شامل ہے۔جو وہ برائی یا بے حیائی کے کسی معنوں میں استعمال ہوتا ہے؟جب آپ ایک نظم کے تحت پانچ وقت کی نماز اکھٹی اداکرتے ہیں، ایک بندہ تکبیر کہہ رہا ہوتا ہے، باقی سارے اس کی تقلید میں رکوع وسجود میں آرہے ہوتے ہیں۔جس میں وضو کا درست ہونا،احکاماتِ نمازکا جاننا بھی ضروری ہے۔ہم ر ب کائینات کے حضور، خانہ خدا میں دست بستہ کھڑے ہوں اور ہمیں معلوم نہ ہو کہ کون سی حرکات وسکنات کا نماز پر اثر کیا پڑتا ہے؟ اس میں عدم توجہی ہو۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ”جب نمازی نماز کی طرف متوجہ ہوتا ہے تواللہ کریم اس نمازی کی طرف توجہ ہوجاتے ہیں اور جب نمازی اپنی نماز سے توجہ ہٹا دیتاہے تو وہ اللہ کریم کی توجہ سے محروم ہوجاتا ہے“۔ اگرخشوع و خضوع اس درجے کا نہ ہو تو نمازکے ترجمے میں اپنا ذہن رکھیں گے کہ میں اپنے اللہ سے کیا عرض کررہا ہوں؟آپ متوجہ رہیں گے۔ اکثر ایک سوال کیا جاتا ہے کہ ہمیں کوئی ایسا طریقہ بتا یا جائے جس سے نماز میں توجہ رہے۔جب نماز پڑھ رہے ہیں اور معلوم ہی نہ ہو کہ میں اللہ کے حضور کیا عرض کررہا ہوں؟ تو توجہ کیسے قائم رہے گی؟جب یہ معلوم ہوگاتو پھر توجہ زیادہ بہتر رہے گی۔ باجماعت نماز کے فضائل بے شمار بیان فرمائے گئے ہیں۔مسجد کی طرف اورباجماعت نماز کی ادائیگی کی طرف ترغیب دی گئی ہے اور اسے پسندیدہ عمل بیان فرمایا گیا ہے۔لیکن جب آپ پانچ دفعہ ایک دن میں خانہ خدا میں جمع ہوتے ہیں۔ تو جو باہم رنجشیں ہیں،آپ ایک دوسرے کو دیکھ لیں گے،آخر کلام کرو گے، کوئی گلا کرے گا،کوئی لحاظ کرے گا۔ کوئی دوسرا بیچ میں آجائے گا۔تو معاشرے کی زندگی کا حسن اجتماع میں ہے۔ اجتماعی سوچ میں ہے۔”نماز“ یہ بنیاد عطا فرماتی ہے۔
نماز کی ادائیگی معزز سامیعن کرام! ہر پہلو سے انسان کی ضرورت ہے اور اللہ کریم نے انسانی ضرورت کواپنی پسند اور اپنی رضا کا سبب بنا دیا۔وہ کیسا کریم ہے؟ ہماری ضرورت ہے اور اس نے اس پر ہمیں اجر وثواب عطا فرمایا ہے۔ قرآن کریم بڑا واضح بیان فرماتا ہے کہ اللہ کریم محتاج نہیں ہے۔ اسے تم سے رزق نہیں چاہیے یعنی اس کی احتیاج نہیں پوری کررہے ہو۔اللہ فرماتا ہے وہ تو وہ ذات ہے جو تمہیں رزق دیتا ہے۔یعنی وہ تمہاری احتیاج پوری فرماتا ہے۔عبادات کو جب ہم اس پہلو سے دیکھیں کہ جی یہ بھی ادا کرنا ہے وہ بھی ادا کرنا ہے تو یہ دیکھنا ہمارے اندر کا حال بیان کررہا ہے۔لیکن اگر عبادات اس پہلو سے دیکھنا نصیب ہو جائیں کہ میرے اللہ نے مجھے بندگی کی ترقی میں یہ آسانیاں عطافرمائی ہیں کہ میں نماز ادا کروں کہ میں رمضان المبارک کے روزے رکھوں، میں زکوٰۃ دوں،مجھے حج نصیب ہو۔یہ وہ کیفیت اور حال ہے جو عمومی زندگی میں بندگی کی ترقی کا سبب ہے۔ زندگی گزرنی ہے، اس میں سے نکلنا ہے،اپنی فرصت پوری کرنی ہے اور منزل بہ منزل چلنا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ کوئی کہے کہ درمیان سے یہ منزل نکال دو۔جو رب کائینات نے ہر ایک کے لے حیات کے حصے مقرر فرمائے ہیں، جو جہاں جتنا مقرر فرمایا ہے، اس نے منزل بہ منزل اپنے سفر آخرت کو رواں دواں رہنا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے ”نہ کوئی لمحہ پہلے جا سکتا ہے نہ کوئی لمحہ دیر سے جاسکتا ہے۔ ہر شے اپنا وقت پورا کرے گئی۔ وَأَقِیْمُواْ الصَّلاَۃ نماز کو قائم کرو، پابندی سے ادا کرو۔اللہ کریم مجھے توفیق عطا فرمائے کہ اس کی ادائیگی میں اس درجے کا دھیان رکھوں کہ دنیا کے معاملات ثانوی ہوں۔اولیت اللہ کریم کا حکم، زندگی میں نصیب ہو۔آمین۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You