جہلم

ناموس صحابہ و اہل بیت کی پاسبانی ہمارا نصب العین ہے، حافظ عبدالحمید عامر توحیدِ الٰہی پر ضرب

ناموس صحابہ و اہل بیت کی پاسبانی ہمارا نصب العین ہے، حافظ عبدالحمید عامر توحیدِ الٰہی پر ضرب لگانا کائنات کا بدترین ظلم اور ناقابلِ معافی گناہ ہے، ڈاکٹر طیب الرحمن زیدی

جہلم (محمد زاہد خورشید) جامعہ علوم اثریہ جہلم کے زیرِ اہتمام مرکزی جامع مسجد اہل حدیث (چوک اہل حدیث) میں ایک مایہ ناز اور پروقار سیرتِ شافعِ محشر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کے مہتمم اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نائب امیر حافظ عبدالحمید عامر نے عزمِ مصمم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دفاعِ صحابہ اور عظمتِ اہل بیت کا پرچم ہم اپنی آخری سانس تک لہراتے رہیں گے کیونکہ صحابہ کرام وحیِ الٰہی کے اولین گواہ اور امین راوی ہیں، لہٰذا ان کی پاکیزہ ذات پر طعن و تشنیع دراصل دینِ اسلام پر الزام تراشی ہے؛ ہم نے اس پیغام کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا ہے اور جب پروردگارِ عالم خود ان نفوسِ قدسیہ کو جنت کی بشارت اور اپنی رضا کا سرٹیفکیٹ عطا فرما چکا ہے تو ان کی شان میں ادنیٰ سی تنقیص بھی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ کانفرنس سے عظمتِ توحید کے موضوع پر بصیرت افروز گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طیب الرحمن زیدی نے کہا کہ روئے زمین پر شرک سب سے سنگین ترین جرم ہے اور اللہ کی زمین پر اس سے بڑا ظلم کوئی نہیں ہو سکتا کہ خالق کا خاص حق کسی مخلوق کو دے دیا جائے، آسمان کی نیلگوں چھت تلے دعوتِ اہل حدیث کا بنیادی محور یہی ہے کہ ہم یتیم ہونا، بھوکا مر جانا اور اپنے جسم کے ٹکڑے کروا لینا تو قبول کر سکتے ہیں مگر ربِ ذوالجلال کی توحید کا پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیں گے اور کسی مزار یا قبر کے سامنے اپنی پیشانی نہیں جھکائیں گے۔ اسی موقع پر نامور خطیب علامہ محمد یحییٰ عارفی نے گستاخِ صحابہ سے ہونے والے حالیہ علمی مباحثے کا احوال بیان کرتے ہوئے دلنشیں انداز میں کہا کہ اگر حضرت ابوبکر صدیق رضائے الٰہی کی خاطر اپنے گھر کا تمام تر اثاثہ راہِ خدا میں پیش کر سکتے ہیں اور پیغمبرِ اسلام کی خاطر صدیق اکبر کا پورا گھرانہ سب سے بڑھ کر قربانیاں دیتا ہے، تو کوئی یہ تصور بھی کیسے کر سکتا ہے کہ انہوں نے سیدہ فاطمہ زہرا کا حق غصب کیا ہوگا؟؛ جو لوگ ابھی اسلام کے حروفِ تہجی سے بھی واقف نہیں وہ صدیقِ اکبر کے ایمان پر سوال اُٹھانے کی جسارت کیسے کر سکتے ہیں؟، میں برملا کہتا ہوں کہ اگر اس زمین پر صدیق مومن نہیں ہیں تو پھر کائنات میں کوئی بھی صاحبِ ایمان نہیں ہو سکتا۔ مزید برآں، قاری محمد الیاس مدنی نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ اسوۂ نبوی ہی وہ واحد حل ہے جسے اپنا کر مسلم اُمہ دوبارہ اپنے سنہری دور کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ عظیم الشان تقریب جامعہ علوم اثریہ کے ششماہی امتحانات کے نتائج کے موقع پر منعقد کی گئی تھی، جہاں جامعہ کے مدیر التعلیم مولانا عکاشہ مدنی نے نتائج کا اعلان کیا جس کے مطابق شعبہ درسِ نظامی سے جامعہ بھر میں حافظ محمد شاذل نے پہلی، حافظ عبداللہ اقبال ڈار نے دوسری اور محمد فائز نے تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ جامعہ کے لیے اس سال یہ ایک تاریخی اعزاز رہا کہ وفاق المدارس سلفیہ پاکستان کے سالانہ امتحان ثانویہ عامہ میں جامعہ کے ہونہار طالب علم حافظ عبداللہ اقبال ڈار نے پورے پاکستان میں تیسری پوزیشن حاصل کر کے ادارے کا نام روشن کیا، جس پر رئیس الجامعہ حافظ عبدالحمید عامر نے اپنے دستِ مبارک سے اس خوش نصیب طالب علم کو اعزازی شیلڈ سے نوازا؛ یہ تقریب اپنے بہترین انتظامات، کثیر عوامی حاضری اور پرجوش ماحول کے لحاظ سے انتہائی کامیاب اور یادگار رہی۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You