میرپورخاص کی معروف ترین شخصیت عمر راجپوت مرحوم، ایک جہاں دیدہ اور شفیق انسان

*میرپورخاص کی معروف ترین شخصیت عمر راجپوت مرحوم، ایک جہاں دیدہ اور شفیق انسان*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*
ہمارے انتہائی محترم عمر راجپوت مرحوم، شعبہ تعلیم سے وابسطہ رھے، ایک ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے منصب سے ریٹائرڈ ہوئے، پوری زندگی محنت ایمانداری سچائی اور نیک نیتی پر استوار رکھی۔ وہ ایک جہاں دیدہ، معاملہ فہم، محنتی، قابل، ذہین اور انتہائی شفیق و ہمدرد انسان بھی تھے۔ وہ زمانے اور حالات کی رفتار، کیفیت اور سمت کو بخوبی بھانپ لیا کرتے تھے اور اسی بصیرت کے مطابق اپنی زندگی کے معاملات کو اس انداز سے ڈھالتے کہ نہ وقت کا ضیاع ہو اور نہ ہی کسی اہم کام میں بے جا تاخیر واقع ہو، بلکہ ہر معاملہ احسن انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچے۔ عمر راجپوت صاحب کی شخصیت میں بردباری، تحمل، ٹھنڈکِ مزاج، انکساری، خلوص اور محبت جیسے خوبصورت اوصاف نمایاں تھے۔ وہ مشکل حالات میں بھی متانت اور حوصلے کے ساتھ معاملات کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ انکی گفتگو میں شائستگی، رویے میں اپنائیت اور شخصیت میں ایک ایسی کشش تھی جو ملنے والے کو اپنا گرویدہ بنا لیتی تھی۔ میرپورخاص میں شعبۂ تعلیم سے وابستگی ہو یا سماجی سطح پر ان کی خدمات اور تعلقات، عمر راجپوت صاحب نے اپنے کردار، محنت اور خوش اخلاقی کے باعث ایک معتبر، معروف اور باعزت مقام حاصل کیا۔ لوگ انہیں صرف ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ انکے انسانی اوصاف، مخلصانہ رویے اور ہمدردانہ احساس کے باعث بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل رہا کہ میں ان کے بچوں کا دوست تھا اور ان کے گھرانے کے ساتھ خاصا وقت گزارنے والوں میں شامل رہا۔ اسی نسبت سے چچا جان عمر راجپوت صاحب مرحوم میرے ساتھ بھی اپنے بچوں جیسا شفقت بھرا رویہ، محبت اور احساس رکھتے تھے۔ ان کی محبت میں کسی قسم کی بناوٹ نہیں تھی؛ وہ جس خلوص سے اپنے بچوں کے ساتھ پیش آتے، اسی اپنائیت اور شفقت کا اظہار میرے ساتھ بھی کرتے۔ یہی تعلق آج بھی میرے دل میں ان کی محبت اور احترام کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ آج جب ہم اپنے اردگرد کے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ خوش مزاج، ملنسار، محبت کرنے والے، مخلص، بردبار اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنے والے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں۔ عمر راجپوت صاحب مرحوم یقیناً انہی خوبصورت کرداروں میں سے ایک تھے جن کی یاد وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ انسان دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے، مگر اس کا کردار، محبت، خلوص، حسنِ سلوک اور لوگوں کے دلوں میں چھوڑے ہوئے نقوش اسے ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں۔ عمر راجپوت صاحب بھی اپنی خوش اخلاقی، محبت، شفقت اور انسان دوستی کے باعث ان تمام لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے جنہیں ان سے محبت اور تعلق کا شرف حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے انتہائی محترم چچا جان عمر راجپوت صاحب مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے، تمام منازلِ آخرت آسان فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے تمام اہلِ خانہ، اولاد، عزیز و اقارب اور دوست احباب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ان کے لیے صدقۂ جاریہ بننے والے نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔



