کالم/مضامین

*عنوان: دینِ محمدی یا مسالک کی پیروی اہم ہے؟

*ٹائٹل: بیدار ہونے تک*

*عنوان: دینِ محمدی یا مسالک کی پیروی اہم ہے؟*

*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے مختلف ادوار میں اپنے انبیائے کرام اور رسلِ عظام مبعوث فرمائے۔ حضرت آدمؑ سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک انبیائے کرام کا بنیادی پیغام ایک ہی رہا: اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت، اس کی اطاعت، نیکی، عدل، تقویٰ اور انسانوں کے حقوق کی ادائیگی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ انبیاء پر صحیفے اور آسمانی کتابیں نازل فرمائیں۔ حضرت موسیٰؑ کو تورات، حضرت داؤدؑ کو زبور، حضرت عیسیٰؑ کو انجیل اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر قرآنِ مجید نازل فرمایا گیا۔ قرآن مجید آخری آسمانی کتاب اور رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآن مجید بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا، اور احادیثِ مبارکہ میں قربِ قیامت ان کے نزول کا ذکر ملتا ہے۔ اسی طرح امام مہدی کے بارے میں بھی احادیث میں روایات موجود ہیں۔ تاہم ان امور کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے قرآن و حدیث کی مستند اور صحیح تشریحات کو سامنے رکھنا ضروری ہے، کیونکہ عقیدے کے معاملات میں غیر ثابت قصے، حکایات اور عوامی روایات کو دین کا قطعی حصہ بنانا درست نہیں۔
*اصل سوال: دین یا مسلک؟*
معزز قارئین! اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کسی مسجد میں نماز پڑھتا ہے یا کسی مدرسے سے وابستہ ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کی زندگی قرآن و سنت کے تابع ہے یا مسلکی تعصب کے؟ اسلام نے امت کو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقے سے بچنے کی تعلیم دی۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” یعنی اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا مرکز اللہ کی بندگی، تقویٰ، حسنِ اخلاق، عدل، رحم، امانت، سچائی اور حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔ لہٰذا اگر مسلک انسان کو قرآن و سنت کی طرف لے جائے، تو وہ دینی فہم کا ایک فقہی راستہ ہوسکتا ہے؛ لیکن اگر مسلکی وابستگی انسان کو تعصب، نفرت، تکبر، تحقیر اور دوسرے مسلمانوں کی تکفیر تک پہنچا دے تو انسان کو اپنے رویے کا ضرور محاسبہ کرنا چاہیے۔ احادیث میں امت کے فرقوں کے بارے میں روایات بھی ملتی ہیں۔ اس موضوع پر اہلِ علم نے مختلف تشریحات اور تفصیلات بیان کی ہیں۔ اس لیے محض عدد گن لینا مقصد نہیں؛ اصل مقصد یہ سمجھنا ہے کہ نجات کا راستہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت، صحیح عقیدہ، صالح عمل اور تقویٰ سے وابستہ ہے۔
*دین کا حسن صرف عبادات نہیں*
ہم میں سے بہت سے لوگ عبادات کے ظاہری پہلو پر توجہ دیتے ہیں، مگر حقوق العباد کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ نماز بھی ہو، روزہ بھی ہو، حج بھی ہو، زکوٰۃ بھی ہو، مگر زبان سے جھوٹ، دل میں تکبر، معاملات میں خیانت، کمزور پر ظلم، یتیم کے حق پر قبضہ، مزدور کی اجرت میں تاخیر اور لوگوں کی عزت پامال کرنا جاری رہے تو ہمیں اپنے دین داری کے دعوے کا جائزہ لینا چاہیے۔
*دینِ محمدی ﷺ صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں۔*
دین بازار میں بھی ہے، گھر میں بھی ہے، دفتر میں بھی ہے، عدالت میں بھی ہے، سیاست میں بھی ہے، تجارت میں بھی ہے اور انسان کے ہر معاملے میں ہے۔ اسلام انسان کو صرف اللہ کا حق ادا کرنے نہیں بلکہ بندوں کے حقوق ادا کرنے کا بھی حکم دیتا ہے۔
*مسلک خدمت کا ذریعہ ہو، مقصد نہ بن جائے*
آج ہمارے معاشرے میں مختلف فقہی و مذہبی مسالک اور دینی ادارے موجود ہیں۔ ان میں بہت سے علماء، ائمہ، مدارس اور دینی کارکن اخلاص کے ساتھ قرآن و سنت کی تعلیم، عبادات، اخلاق اور خدمتِ خلق میں مصروف ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف بھی ضروری ہے۔ لیکن جہاں مسلکی شناخت دین کی شناخت پر غالب آجائے، جہاں اختلافِ رائے دشمنی بن جائے، جہاں ایک دوسرے کو سننے کے بجائے صرف رد کرنا مقصد بن جائے، وہاں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہماری اصل پہچان صرف فلاں مسلک ہے؟یا ہماری پہلی پہچان یہ ہے کہ ہم اللہ کے بندے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے امتی ہیں؟قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار قوم، قبیلہ، مال، لباس یا گروہی شناخت نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔ چندہ، عطیات اور دینی اداروں کی ذمہ داری دینی اداروں، مدارس، مساجد اور مذہبی تنظیموں کو ملنے والے چندے، زکوٰۃ، صدقات اور عطیات بھی ایک امانت ہیں۔ ان کے استعمال میں شفافیت، دیانت اور شرعی اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔ زکوٰۃ کے اپنے شرعی مصارف ہیں اور ہر قسم کا عطیہ ہر مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح مال کے حلال و حرام ہونے کے معاملے میں کسی فرد یا ادارے کو محض ظاہری نسبت کی بنیاد پر قطعی فتویٰ دینے کے بجائے شرعی اصول، معتبر علماء کی رہنمائی اور واضح حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے۔ دین کسی شخص، خاندان، جماعت یا ادارے کی جاگیر نہیں۔ اللہ کا دین اللہ ہی کا دین ہے۔
*اصل کامیابی کہاں ہے؟*
کامیاب وہ نہیں جو صرف اپنے مسلک کا نام یاد رکھتا ہو؛ کامیاب وہ ہے جو اللہ کو پہچانے، رسول اللہ ﷺ کی سنت سے محبت کرے، قرآن کو سمجھے، حلال و حرام کی تمیز کرے، اپنے معاملات درست کرے، والدین کے حقوق ادا کرے، پڑوسی کا خیال رکھے، کمزور پر رحم کرے، مظلوم کا ساتھ دے، امانت میں خیانت نہ کرے اور اپنی زبان و ہاتھ سے دوسرے انسانوں کو محفوظ رکھے۔ دین ہمیں نفرت کا سودا نہیں، رحمت کا راستہ دکھاتا ہے۔ دین ہمیں تکبر نہیں، عاجزی سکھاتا ہے۔دین ہمیں دنیا جمع کرنے کا جنون نہیں، آخرت کی جواب دہی کا احساس دیتا ہے۔اور دین ہمیں صرف اپنی ذات کی اصلاح نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح کا درس بھی دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں خود سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے: ہم دینِ محمدی ﷺ کے پیروکار ہیں یا صرف اپنے اپنے مسلکی دائروں کے؟ اگر ہمارا مسلک ہمیں قرآن و سنت، تقویٰ، اخلاق، عدل، محبت، اخوت اور حقوق العباد کی طرف لے جارہا ہے تو اسے علم و فہم کا ذریعہ بنائیں، مگر اسے ایسا پردہ نہ بننے دیں جو ہمیں دوسرے مسلمانوں سے نفرت اور اصل دین سے دور کردے۔ آخرکار ہمیں اللہ کے سامنے اپنے نام، گروہ اور دعوے نہیں بلکہ اپنے ایمان، اعمال اور معاملات کا حساب دینا ہوگا۔بیدار ہونے کا وقت یہی ہے۔ دین کو مسلک کے تابع نہیں، مسلک کو دین کے تابع رکھنا ہوگا۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You