کالم/مضامین

*علم کا جنازہ ذرا دھوم سے نکلے*

*علم کا جنازہ ذرا دھوم سے نکلے*

*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

میرے والدِ محترم سردار حسین صدیقی علیگیرین مرحوم تحریکِ پاکستان کے کارکن اور علم دوست شخصیت تھے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن پاس کیا تھا۔ ان کا ہمیشہ یہ کہنا اور ماننا تھا کہ علم کسی کی میراث نہیں۔ جو شخص مکمل سنجیدگی، توجہ، دلچسپی، محنت اور لگن کے ساتھ حصولِ علم میں مصروف رہے، علم کے دریچے اس کے لیے یکے بعد دیگرے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ والدِ محترم نے خیرپور میرس، پریالو، گمبٹ، نوابشاہ، سکرنڈ، میرپورخاص اور اندرونِ سندھ کے دیگر کئی شہروں اور قصبوں میں اپنی تعیناتی کے دوران ہزاروں طلبہ کو علم کے زیور سے آراستہ کیا۔ ان کے شاگرد مختلف قوموں، زبانوں، نسلوں، علاقوں، فرقوں اور مسالک سے تعلق رکھتے تھے، مگر ان کے لیے طالب علم صرف طالب علم تھا۔ انہوں نے علم کی روشنی کو کسی شناخت، زبان یا علاقے تک محدود نہیں کیا۔آج میرے والد محترم اس دنیائے فانی میں موجود نہیں، لیکن ان کے شاگردوں کے شاگرد آج بھی علم کی وہ شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔ یہی ایک استاد کی اصل کامیابی ہوتی ہے کہ اس کا دیا ہوا علم اس کی زندگی کے بعد بھی نسل در نسل منتقل ہوتا رہے۔ والد صاحب کہا کرتے تھے: "علم حاصل کرو، مگر علم حاصل کرنے کا طریقہ بھی سیکھو۔ عقل و شعور، دلچسپی، توجہ، لگاؤ اور سنجیدگی کے بغیر علم کی باریکیاں اور اس کے اہم نکات سمجھنا ممکن نہیں۔” وہ ایک مثال دیا کرتے تھے کہ گدھے پر کتابیں لاد دینے سے گدھا باشعور اور عالم نہیں بن جاتا۔ عالم اور باشعور بننے کے لیے کتاب کے ساتھ شعور، محنت، دیانت، توجہ اور عملی کردار بھی ضروری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آج ہمارے تعلیمی اور امتحانی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ کیا علم بھی کوٹے کا محتاج ہوگیا؟ کچھ عرصہ قبل میرے محترم دوست فرخ سمیع کی ایک تحریر میری نظر سے گزری جس میں سی ایس ایس، کراچی کے امیدواروں، مختلف پیشہ ورانہ امتحانات اور ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے اعداد و شمار اور سخت سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اس تحریر نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ آخر ہم تعلیم اور میرٹ کو بھی لسانی و علاقائی بحثوں میں کیوں الجھا دیتے ہیں؟ اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون مہاجر ہے، کون سندھی ہے، کون پنجابی ہے، کون بلوچ ہے یا کون کسی اور زبان سے تعلق رکھتا ہے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے: کون اہل ہے؟ کون قابل ہے؟ کون محنتی ہے؟ کون دیانت دار ہے؟ اور کون ریاستی ذمہ داری سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اگر ایک طالب علم کراچی سے ہے تو اسے صرف کراچی سے تعلق کی بنیاد پر ترجیح نہیں ملنی چاہیے، اور اگر کوئی اندرونِ سندھ سے ہے تو اسے بھی محض علاقے کی بنیاد پر نااہل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ریاست کا فرض ہے کہ ہر شہری کو برابر اور معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرے اور پھر میرٹ کے میدان میں سب کو کھڑا کرے۔
*کوٹہ نظام: وقتی سہارا یا مستقل نظام؟*
یہاں ایک بنیادی تاریخی سوال بھی موجود ہے۔ پاکستان میں کوٹہ نظام کا بنیادی تصور ان علاقوں اور طبقات کو وقتی طور پر سہارا دینا تھا جو تعلیمی اور معاشی اعتبار سے پیچھے رہ گئے تھے، تاکہ وہ وقت کے ساتھ ترقی کریں اور میرٹ کے مقابلے میں آنے کے قابل ہو سکیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایک عارضی انتظام مستقل شکل اختیار کرلے تو کیا اس کے نتائج کا ازسرِنو جائزہ نہیں لیا جانا چاہیے؟ کئی دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اگر کسی پالیسی کا مقصد پسماندگی ختم کرنا تھا تو اب یہ جانچنا بھی ضروری ہے کہ اس پالیسی نے اپنا مقصد کس حد تک حاصل کیا۔کیا واقعی پسماندگی کم ہوئی؟ کیا تعلیمی معیار بہتر ہوا؟ کیا سرکاری اداروں میں اہلیت بڑھی؟ کیا نوجوانوں کو معیاری تعلیم میسر آئی؟ کیا اب بھی وہی خصوصی سہارا درکار ہے جو دہائیوں پہلے ضروری سمجھا گیا تھا؟ ان سوالات کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ اعداد و شمار، تحقیق اور شفاف قومی مکالمے سے دیا جانا چاہیے۔ میرٹ کی جگہ سفارش آجائے تو علم کا جنازہ نکلتا ہے، مسئلہ صرف کوٹہ نہیں۔ مسئلہ اس سے کہیں بڑا ہے۔ اگر کسی امتحان میں نقل ہو، سفارش چلے، سیاسی دباؤ آئے، پرچے لیک ہوں، جعلی امیدوار بیٹھیں، نتائج پر سوال اٹھیں یا تقرریاں میرٹ کے بجائے تعلقات کی بنیاد پر ہوں تو پھر نقصان کسی ایک زبان یا علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہوتا ہے۔ ایک نااہل شخص جب اہلیت کے بغیر کسی اہم منصب پر پہنچتا ہے تو اس کی نااہلی کا خمیازہ صرف اس کے ادارے کو نہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے سول سروس، میڈیکل داخلوں، پیشہ ورانہ امتحانات اور دیگر مسابقتی امتحانات میں شفافیت بنیادی ضرورت ہے۔ امتحان مشکل ہو، مگر شفاف ہو۔ میرٹ سخت ہو، مگر سب کے لیے یکساں ہو۔ مقابلہ شدید ہو، مگر مواقع برابر ہوں۔ یہی انصاف ہے۔ کسی کا حق چھین کر کامیابی نہیں ملتی، میرے والد محترم کا ایک اور قول آج بھی میرے ذہن میں گونجتا ہے کہ کسی کا حق نہیں چھینا جا سکتا۔ اگر کوئی شخص سفارش، رشوت، دھوکے، جعل سازی یا غیر منصفانہ طریقے سے کسی دوسرے کا حق حاصل کرلے تو بظاہر شاید وہ ایک عہدہ حاصل کرلے، لیکن حقیقت میں وہ اپنے کردار کو شکست دے دیتا ہے۔ رزق، عزت، کامیابی اور مقام کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے۔کسی مظلوم کا حق چھین کر حاصل کیا گیا منصب انسان کو بظاہر بڑا بنا سکتا ہے، مگر اگر اس منصب کی بنیاد ناانصافی پر ہو تو وہ منصب اس کے ضمیر پر بوجھ بن جاتا ہے۔اسلام ہمیں عدل، امانت اور حق ادا کرنے کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے۔ اس لیے کسی مستحق کو اس کے حق سے محروم کرنا صرف انتظامی خرابی نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ علم عبادت کی روح ہے، میرے والد محترم علم کو محض روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے۔ وہ علم کو انسان کی شخصیت، کردار اور شعور کی تعمیر کا وسیلہ سمجھتے تھے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ علم کے بغیر انسان اپنے اردگرد کی دنیا کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا۔ عبادات ہوں یا معاملات، معاشرت ہو یا سیاست، معیشت ہو یا ریاستی نظم، ہر شعبے میں درست فہم اور شعور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے علم کے دروازے کسی کے لیے بند نہیں ہونے چاہئیں۔ نہ زبان کی بنیاد پر، نہ نسل کی بنیاد پر، نہ علاقے کی بنیاد پر، نہ فرقے کی بنیاد پر، اور نہ طبقاتی حیثیت کی بنیاد پر۔ ہر بچے کو معیاری تعلیم ملنی چاہیے، ہر نوجوان کو آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے اور ہر امتحان میں قابلیت کو پرکھنے کا منصفانہ نظام ہونا چاہیے۔ کراچی ہو یا اندرونِ سندھ، حق سب کا ہے۔ کراچی کے نوجوان بھی پاکستان کے نوجوان ہیں اور اندرونِ سندھ کے نوجوان بھی پاکستان کے نوجوان ہیں۔ اگر کراچی کا طالب علم محنت کرکے آگے بڑھتا ہے تو اسے اس کا حق ملنا چاہیے۔ اگر خیرپور، گمبٹ، سکھر، نوابشاہ، میرپورخاص، لاڑکانہ یا کسی دور افتادہ علاقے کا طالب علم اپنی محنت سے نمایاں ہوتا ہے تو اسے بھی کسی صورت پیچھے نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہمیں ایسی ریاست چاہیے جہاں علاقہ شناخت ہو، اہلیت کا معیار نہ ہو۔ ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جہاں زبان مادری ہو، مگر میرٹ قومی ہو۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں سفارش کا دروازہ بند اور قابلیت کا دروازہ کھلا ہو۔ امتحانی نظام میں بنیادی اصلاح ناگزیر ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ سی ایس ایس، پی ایم ڈی سی کے تحت داخلہ امتحانات، صوبائی پبلک سروس کمیشنز اور دیگر مسابقتی امتحانات کے نظام کا غیر جانب دارانہ اور جامع جائزہ لیا جائے۔امتحانی نظام میں جدید ٹیکنالوجی، شفاف ڈیجیٹل مانیٹرنگ، شناخت کی سخت تصدیق، امتحانی مراکز کی نگرانی، نتائج کی آڈٹ، شکایات کے آزادانہ ازالے اور میرٹ کی قابلِ تصدیق بنیاد ضروری ہے۔ اگر کسی امتحان میں بے ضابطگی کا الزام سامنے آئے تو اسے لسانی یا سیاسی تنازع بنانے کے بجائے تحقیقی اور قانونی طریقے سے ثابت یا مسترد کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی گروہ کے خلاف عمومی الزام بھی درست نہیں اور کسی گروہ کو غیر ضروری رعایت دینا بھی درست نہیں۔ ہمیں نسل نہیں، نسلوں کا مستقبل دیکھنا ہے، یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی ایک امتحان میں کسی مخصوص زبان بولنے والے امیدواروں کی کامیابی یا ناکامی کو پوری قوم یا پورے لسانی گروہ کی ذہانت کا پیمانہ بنانا علمی طور پر درست نہیں۔ قابلیت فرد کی ہوتی ہے، قوم کی نہیں۔ ناکامی فرد کی ہو سکتی ہے، پوری زبان کی نہیں۔ کامیابی ایک امیدوار کی ہوتی ہے، پوری نسل کی نہیں۔ اس لیے ہمیں لسانی مقابلے کے بجائے علمی مقابلہ پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ نہیں دیکھنا کہ کون کہاں سے آیا ہے؛ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا جانتا ہے، کیا کرسکتا ہے، کس کردار کا مالک ہے اور ریاست و معاشرے کے لیے کیا خدمات انجام دے سکتا ہے۔ علم کا جنازہ نہ نکالیں، میرے والدِ محترم سردار حسین صدیقی علیگیرین مرحوم نے اپنی زندگی میں ہزاروں طلبہ کو پڑھایا۔ ان کے لیے علم کسی ایک طبقے، علاقے یا زبان کی ملکیت نہیں تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ علم کی شمع جتنی زیادہ بانٹی جائے گی، اتنی ہی زیادہ روشنی پیدا ہوگی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم علم کو سیاست، تعصب، سفارش، رشوت، اقربا پروری اور غیر شفاف نظام سے آزاد کریں۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو پھر واقعی علم کا جنازہ ذرا دھوم سے نکلے گا۔ لیکن اگر ہم نے میرٹ کو زندہ کردیا، استاد کا مقام بحال کردیا، طالب علم کو مساوی مواقع فراہم کردیے، امتحانات کو شفاف کردیا اور سفارش کے بجائے قابلیت کو معیار بنا دیا تو یہی علم پاکستان کے مستقبل کو روشن کرسکتا ہے۔ میرے والدِ محترم کی تعلیمات کا خلاصہ یہی تھا: علم حاصل کرو، سنجیدگی سے حاصل کرو، دیانت سے حاصل کرو، محنت سے حاصل کرو اور پھر اسے دوسروں تک پہنچاؤ۔ کیونکہ علم کسی ایک شخص کی میراث نہیں۔ علم پوری انسانیت کی امانت ہے۔ اور امانت میں خیانت نہیں ہونی چاہیے۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button

I am Watching You