کالم/مضامین

حضور اکرم ﷺ کی پیروی ہی اللہ تعالیٰ کی معرفت اور قرب کا راستہ ہے، پیرمحمد اجمل رضا قادری

*حضور اکرم ﷺ کی پیروی ہی اللہ تعالیٰ کی معرفت اور قرب کا راستہ ہے، پیرمحمد اجمل رضا قادری*

*سیرتِ مصطفیٰ ﷺ پر عمل ہی انسان کو محبت اور تعلق کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے، محمد تسلیم رضا*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) پیر محمد اجمل رضا قادری نے کہا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی پیروی اختیار کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے اور اسے قربِ خاص کی وہ نعمت حاصل ہوتی ہے جو اس کا رشتہ اپنے کریم رب سے مضبوط کر دیتی ہے۔ اسی راستے پر چل کر انسان کو معرفت کا وہ نور نصیب ہوتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کی پہچان اور قرب تک پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ربِ کریم کو پانے کا راستہ حضور اکرم ﷺ کی اتباع ہی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور راستے کو اختیار کیا جائے گا تو انسان گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔ آج بھی اگر دنیا اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا چاہتی ہے، انسان اپنی زندگی کا مقصد تلاش کرنا چاہتا ہے یا اپنی حقیقت اور خود شناسی کے ذریعے اپنے رب کی بارگاہ تک پہنچنے کا خواہش مند ہے تو اس کے لیے حضور نبی کریم ﷺ کی پیروی کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ پیر محمد اجمل رضا قادری نے کہا کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور حقیقت کی تلاش میں مختلف راستے اختیار کیے، مختلف دعوے اور ظاہری طریقے اپنائے، لیکن بالآخر بہت سے لوگ انہی راستوں کی پیچیدگیوں میں الجھ کر گمراہی کی تاریکیوں میں کھو گئے۔ نجات اسی میں ہے کہ انسان حضور اکرم ﷺ کے درِ اقدس سے وابستہ ہو اور نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ رسالت سے اپنا تعلق مضبوط کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پارکنگ گرائونڈ (بالمقابل آرٹس لابی) جامعہ کراچی میں منعقدہ محفل میلاد مصطفی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام انجمن محبان رسول ﷺ جامعہ کراچی نے کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنی واضح حقیقت ہونے کے باوجود لوگ اسے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت، قرب اور رضا کے حصول کے لیے حضور اکرم ﷺ کی سیرت و سنت کی پیروی ہی وہ روشن راستہ ہے جو انسان کو حقیقی منزل تک پہنچاتا ہے۔ محمد تسلیم رضا نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر ہم اسوۂ حسنہ کو صحیح معنوں میں سمجھیں اور اسی کی روشنی میں لوگوں کی تربیت کریں تو باہمی تعلقات مضبوط ہوں گے اور لوگ ایک دوسرے سے وابستہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی انسان کو محض اپنے ساتھ وابستہ کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ وقت کے ساتھ دور ہوسکتا ہے، لیکن اگر اسے دامنِ مصطفیٰ ﷺ سے وابستہ کردیا جائے تو یہ تعلق پائیدار اور مضبوط بنیادوں پر قائم رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ خود بھی حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور دامنِ کرم سے وابستہ ہوں اور دوسروں کو بھی اس عظیم نسبت سے جوڑنے کی کوشش کریں، کیونکہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہی ہماری عملی زندگی کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ محمد تسلیم رضا نے مزید کہا کہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمیں نرمی، پیار، محبت اور حسنِ اخلاق کا درس دیتی ہے، جبکہ موجودہ دور میں معاشرے کو ان اوصاف کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ آج ہماری زبانوں سے شعلے نکل رہے ہیں اور ہر شخص دوسرے کو سمجھانے اور نصیحت کرنے میں مصروف ہے، جس کے باعث نصیحت کی کثرت نے اسے بے اثر کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کی اصلاح اور رہنمائی مقصود ہے تو اس کے لیے مناسب طریقہ اور انداز اختیار کرنا ضروری ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ حضور اکرم ﷺ نے لوگوں کی اصلاح اور تربیت کس حکمت، محبت، نرمی اور حسنِ سلوک کے ساتھ فرمائی۔ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، جس پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنے کردار، معاشرے اور باہمی تعلقات میں مثبت تبدیلی لاسکتے ہیں۔ اس موقع پر صدر انجمن محبان رسولﷺ پروفیسر ڈاکٹر صادق علی خان، جنرل سیکریٹری منصور حسن قادری، پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری، پروفیسر ڈاکٹر محمد سہیل شفیق و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں علامہ سید ذوالقرنین اشرفی، محمود الحسن اشرفی اور خرم حبیب نے ہدیہ نعت پیش کیا۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You