ہم بچے عیسیٰ نگری کے
ہم پھول ہیں ست رنگی سے
ہم جھلمل ستارے
ہم راج دلارے
ہم سیپ کے موتی، پیارے پیارے
ساحل کی ٹھنڈی ہوائیں ہم
خوشبوؤں سے مہکی فضائیں ہم
مورنی کے ہم پنکھ جیسے
اڑتی ہوئی پتنگ جیسے
مٹی سے گھروندے بنائے ہیں ہم نے
خوابِ مستقبل کے سجائے ہیں ہم نے
ہم بارش کی بوندیں، سردیوں کی دھوپ ہیں
ہم بچے عیسیٰ نگری کے
بہت ہی خوب ہیں
(کاشف شمیم صدیقی)
