پاکستان میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر حکومت نے ملک کے ان 26 شہروں میں لاک ڈاؤن نافذ کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں کورونا وائرس کے کیسز میں آٹھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ملک میں کووڈ انیس کے بڑھتے کیسز کے باعث ملک بھر میں شادی کی تقریبات سمیت عوامی اجتماعات پر پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس پر قابو پانے کی تنظیم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے کہا گیا،” ہر طرح کی سماجی، ثقافتی، سیاسی اور اسپورٹس سے منسلک تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ 29 مارچ سے زیادہ متاثرہ شہروں میں پابندیاں کا نفاذ شروع کر دیا جائے گا اور پانچ اپریل سے شادی کی تقریبات پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔”
نینشل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے سربراہ اور ملک کے وزیر برائے پلاننگ اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان بھر میں ہسپتال کووڈ انیس کے مریضوں سے بھر گئے ہیں، یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔
فیکٹریاں بند نہیں کر سکتے، عمران خان
اس ماہ کے آغاز میں اسکول اور پارکس بند کر دیے گئے تھے اور تمام عوامی جگہوں پر ماسک پہننے کو ضروری قرار دیا گیا تھا۔ تاہم بڑھتے کیسز کے باوجود پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا،”ہم فیکڑیاں اور کاروبار بند نہیں کر سکتے۔” عمران خان نے عوام سے گزارش کی کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
پاکستان میں لاک ڈاؤن پر بحث کافی عرصے سے جاری ہے۔ عمران خان ملک کے مکمل بند ہونے کے خلاف رہے ہیں اور پاکستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی اپنائے رکھی ہے۔ تاہم حالیہ کیسز پر حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ کیسز برطانیہ کے کورونا وائرس کی قسم کے ہیں جو ملک میں برطانیہ سے آنے والے مسافروں کے باعث ممکنہ طور پر بڑھے ہیں۔
