پاکستان میں منشیات کے ناسُور کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کاوشیں
پاکستان ، منشیات کے استعمال اور ان کے فروغ ، اور دہشت گردی کے سلسلے میں کسی قسم کی مالی معاونت فراہم کرنے والی ،کسی بھی غیر قانونی معاشی اکائی کے خلاف ، زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
ریاست پاکستان، نہ صرف اندرونِ ملک منشیات کی کاشت کا تدارک کرتی ہے، بلکہ سرحد پار سے ہونے والی مِنشیات اسمگلنگ کی روک تھام کا بھی پورا انتظام کرتی ہے۔ ریاست پاکستان اسمگلنگ نیٹ ورکس کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی صحت و تندرستی بالخصوص نوجوان نسل کے تحفظ کے لئے ہر لمحہ کوشاں رہتی ہے ۔
پاکستان اپنے مخصوص محل وقوع کی وجہ سے منشیات کے استعمال و فروغ کا شکارملک ہے — یہ خطرہ سرحد پار افغانستان سے دیگر سیکیورٹی چیلنجز کے ساتھ، پاکستان منتقل ہوتا ہے۔ افغانستان میں بننے والی منشیات ،محض افغانستان کی سرحدوں میں محدود نہیں رہتی بلکہ خطے اور کرہ ارض کی صحت کے لئے خطرہ بن جاتی ہیں
نیشنل اینٹی نارکوٹکس پالیسی – ۲۰۱۹، کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینسز ایکٹ -۱۹۹۷، اور اینٹی نارکوٹکس فورس ایکٹ ۱۹۹۷-پاکستان کی کاؤنٹر نارکوٹکس کوششوں کو مؤثر لیگل بنیاد مہیا کرتے ہیں ۔
اقوامِ متحدہ کی منشیات سے متعلق کنونشنز (۱۹۶۱، ۱۹۷۱، ۱۹۸۸) اور AML-CFT (منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت) فریم ورک کے تحت ،بین الاقوامی ذمہ داریاں بھی بطریق احسن نبھائی جاتی ہیں ۔
وزارتِ داخلہ، پالیسی رہنمائی فراہم کرتی ہے، اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) مرکزی وفاقی ادارہ برائے انسداد منشیات کے طور پر رول ادا کرتی ہے، جبکہ کسٹمز، ایف آئی اے، صوبائی پولیس، لیویز، رینجرز، کوسٹ گارڈز اور میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی جیسے ادارے بھی منشیات کے انسداد میں اے این ایف کی شراکت داری کرتے ہیں۔
سالہا سال سے عدم استحکام کی شکار افغانستان میں پیدا ہونے والی اور اسی راستے سے پاکستان آنے والی منشیات، جب پاکستان سے گزرتی ہیں تو پاکستان اور اس کی کثیر المقدار نوجوان آبادی، کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بنجاتی ہیں ۔ پاکستان ہرگز ان منشیات کو اگانے والا/ تیار کرنے والا ملک نہیں، بلکہ ہمیشہ سے ان منشیات کی ترسیل کی راہ میں سب سے پہلی اور سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی اور دہشت گردی کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے ۔ اسی لیے، پاکستان دہشت گردی اور منشیات کو قومی سلامتی کے ایک مشترکہ چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے۔
پا کستان سال ۲۰۰۱ سے “پوست سے پاک ملک” ہے۔ اگر کہیں پوست کی کاشت کا نشان بھی ملتا ہے تواُسے فوراً تلف کر دیا جاتا ہے۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کی سرحدی پٹیوں میں ، ہر سال پوست تلف کرنے کی کارروائیاں ،ترجیحی بنیادوں پرمکمل کی جاتی ہیں ۔پوست کو تلف کرنے کی مہم (Poppy Eradication Campaign) برائے سال ۲۰۲۴-۲۵ پورے اہتمام کے ساتھ چلائی گئی- ڈرونز، فضائی نگرانی، سیٹلائٹ میپنگ، ویڈی سائیڈ اسپرے، ٹریکٹرز اور زمینی ٹیمیں ، اور قانون نافذ کرنے والےاداروں کے مشترکہ دستوں نے اس مہم میں حصہ لیا ۔ اس منظم و مربوط مہم کے نتیجے میں، پاکستان کی پوست سے پاک ملک کی حیثیت ،کو برقرار رکھا گیا ۔ اس دوران سینکڑوں مقدمات بھی درج کیے گئے ، سینکڑوں غیر قانونی پانی کے ببوروں کو ختم کیا گیا اور درجنوں غیر قانونی سولر سسٹم بھی ہٹائے گئے- سو سے زائد غیر قانونی افغان باشندے ،جو منشیات کی کاشت میں معاونت کی کوشش کر رہے تھے، ان کو بھی گرفتار کرکے واپس افغا نستان بھیجا گیا-
پوست تلفی کی مہم کے دوران اے این ایف و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاران کو منشیات اسمگلروں کی جانب سے حملوں اور فائرنگ کا بھی سامنا کرنا پڑا، تاہم یہ آپریشنز بلا کسی تعطل کے جاری رہے۔
پاکستا ن میں پوست کی کاشت مختلف موسمی عوامل کے مطابق ہوتی ہے- مختلف صوبوں میں وقت کاشت بھی مختلف ہوتا ہے۔صوبہ سندھ میں پوست کی کاشت اکتوبر-نومبر، اور کٹائی فروری-مارچ میں ہوتی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں کاشت نومبر-دسمبر، اور کٹائی مارچ-اپریل میں ہوتی ہے۔جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں کاشت دسمبر-جنوری،اور کٹائی اپریل-مئی میں ہوتی ہے۔
پوست کی فصل کو تلف کرنے کی کاروائی کو انجام دینے کیلئے مرحلہ وار اقدامات کئے جاتے ہیں – پیشگی مرحلہ میں مقامی آبادی سے رابطہ کیا جاتا ہے اور ان کوپوست کی کاشت کے متبادل قانونی روزگار کی فراہمی کی پیشکش کی جاتی ہے۔اگلے مرحلے میں فصل کی کاشت کے دوران اے این ایف اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تعیناتی کی جاتی ہے اور متعدد فلیگ مارچ کیے جاتے ہیں۔ اور دیگر ضروری وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ آخری مرحلے میں کٹائی کے دوران، مکمل آپریشن اورفصل کو تلف کرنے کاکام انجام دیا جاتا ہے۔
پوست تلفی مہم ۲۰۲۵-۲۰۲۶ کا آغاز پوری تیاری اور اہتمام کے ساتھ کیا جا چکا ہے – اس ضمن میں اے این ایف نے مئی کے مہینے میں صوبائی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بین الادارہ جاتی رابطہ قائم کر کے کاشت سے قبل روک تھام کے لئے اقدامات شروع کر دیئےہیں- ڈرونز، ریموٹ سینسنگ ذرائع، اور جیو ٹیگنگ کے توسیعی استعمال سے بروقت نشاندہی، فوری کارروائی اور قابلِ تصدیق ریکارڈ کا حصول،ممکن بنایا جارہا ہے۔مقامی کسانوں کو متبادل قانونی ذرائع آمدن کی جانب راغب کرنے کے پروگرام منعقد کئے جا رہے ہیں اور پوست کی کاشت میں سرمایہ لگانے والوں کے خلاف سخت کاروائیوں کے اعلانات بھی کیے جارہے ہیں-
منشیات اسمگلرز،روایتی پودوں سے بنی منشیات کے بجائے،اب مصنوعی منشیات کی ترسیل کی طرف منتقل ہو رہے ہیں جو سرحد پارافغانستان میں موجودسینکڑوں خفیہ لیبارٹریوں میں بنتی ہیں۔ یہ مصنوعی منشیات مختلف کیمیکلز کے ملاپ سے تیار کی جاتی ہیں اور ان کیلئے وسیع پیمانے پر انفراسٹرکچر کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔مصنوعی منشیات، قدرتی منشیات کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ اور جان لیوا ہوتی ہیں۔ مصنوعی منشیات بالخصوص میتھ ایمفیٹامائن (آئس) کا بڑھتا ہوا رجحان معاشرے کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ اس طرف خصوصی توجّہ اور انتہائی سخت کنٹرول کی اشد ضرورت ہے- مصنوعی منشیات پر قابو پانے کے لئے پاکستان نے کیمیکل پری کرسرز کنٹرول پالیسی کو مزید سخت کیا ہے،کیمیکلز کی درآمدکیلئے لائسنسنگ کے نظام کو مضبوط کیاہے تاکہ قانونی طور پر درآمد شدہ کیمیکلز، غیر قانونی طور پر منشیات کی تیاری میں استعمال نہ ہو سکے۔ نیز ناقص ادویات کی تیاری میں ملوث غیر قانونی لیبارٹریوں کے خلاف کارروائیاں بھی تیز کردی گئی ہیں- منشیات کے مقدمات کو فنانشل تحقیقات و اثاثہ جات کی ضبطگی سے منسلک کیا گیاہے۔یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ سال ۲۰۲۴ میں، انسداد منشیات کی کاروائیوں کے نتیجے میں پاکستان بھر سے ۳۶۱ میٹرک ٹن منشیات ضبط کی گئیں جن میں ایک بڑھتی ہوئی مقدار مصنوعی منشیات کی بھی تھی ۔
قومی اینٹی نارکوٹکس پالیسی-۲۰۱۹ کے تحت نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انسداد منشیات کی کوششیں کی جاتی ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم(UNODC)، کمیشن آن نارکوٹکس ڈرگز(CND)، انٹرپول، امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن(DEA) اوربرطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) سمیت دیگر عالمی اداروں کے ساتھ عملی روابط، معلومات کا تبادلہ، مشترکہ آپریشنز، اور کنٹرولڈ ڈیلیوری(Controlled Delivery) آپریشنز بھی عمل میں لائے جاتے ہیں۔اینٹی منی لانڈرنگ قانون کا استعمال کرتے ہوئے،دہشت گردی کے سہولت کاروں کے خلاف،اداروں کی مشترکہ تحقیقات کو وسعت دے کر دہشت گردی کے لئے نارکوٹکس کے ذریعے رقم کی معاونت و فراہمی کا قلعہ قمع کیاجا تا ہے۔
سال ۲۰۲۴ میں نہ صرف انسداد منشیات کی کامیاب کاروائیاں کی گئیں بلکہ عوام الناس خصوصاً اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلباء کے لیے آگاہی مہمات کے انعقاد میں بھی اضافہ کیا گیا۔نیز ملک بھر میں منشیات سے متاثرہ افراد کے علاج و بحالی کیلئے اے این ایف کے بحالی مراکز کی تعداد میں اضافہ کیا گیااور پہلے سے قائم شدہ بحالی مراکز کی استعدادِ کار کو بھی بڑھایا گیا۔
یہاں چند غلط فہمیوں کی وضاحت کردینا بھی انتہائی ضروری ہے- پاکستان کی انسداد منشیات کاروائیاں / ضبطگیاں اور دیگربین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ آپریشنز، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہیں اور تمام ممالک منشیات کے پھیلاؤ کی روک تھام میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ”بلوچستان پوست کی کاشت کا نیا علاقہ ہے ”۔ایک صریحاً غلط بات ہے۔ پاکستان آج بھی پوست سے پاک ملک ہے۔ اگر کہیں معمولی کاشت کا شبہ بھی ہو تو وہاں فوری آپریشن کر کے تجربہ کار ٹیمیں ،جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے،انتہائی دور دراز علاقوں میں ان فصلوں کو تلف کرنے کا فریضہ،سرانجام دیتی ہیں۔
یہ کہناکہ”اندرونِ ملک منشیات کی پیداوار میں اضافہ ہواہے”، ایک اور بے بنیاد بات ہے۔ پاکستان کو درپیش خطرہ دراصل بیرونی ہے، بالخصوص افغانستان سے گزرنے والامنشیات کا ٹرانزٹ نیٹ ورک۔ پاکستان کی سالانہ منشیات تلفی و انسدادی کارکردگی، ریاست پاکستان کے مؤثر کنٹرول کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ کہنا کہ“پاکستان میں قانون کے نفاذمیں نرمی برتی جاتی ہے“، بالکل غیر موزوں ہے،حقیقتاً پاکستان میں سخت اور مربوط کارروائیاں ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہیں، جن میں فنانشل تحقیقات اور قانونی کاروائیاں بھی شامل ہیں۔
پاکستان میں منشیات کی کاشت کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں۔ ہر موسم میں ، قابلِ کاشت زمین کا ہر قطعہ اور ہر راستہ — قانون، ٹیکنالوجی اور انسدادی کاروائیوں کے ذریعے، پوست اور کینابس سے محفوظ بنایا جاتا ہے۔
انسداد منشیات کی کارروائیوں کی تصدیق کیلئے، پاکستان کے دروازے ہمارے دیگر شراکت دار ممالک کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں – پاکستان منشیات کے خلاف زیرو ٹولیرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے منشیات سے پاک پاکستان ہی ہماری منزل ہے۔
ڈاکٹر ثنا عمران اسلام آباد کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں درسِ و تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں انہیں chivalier37@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے-
