*عنوان: سندھ — وسائل کی سرزمین، مگر نظامِ حکمرانی زوال پذیر!*

*ٹائٹل: بیدار ہونے تک*
*عنوان: سندھ — وسائل کی سرزمین، مگر نظامِ حکمرانی زوال پذیر!*
*کالمکار: جاوید صدیقی، جرنلسٹ کراچی*
سندھ پاکستان کا وہ تاریخی، تہذیبی اور وسائل سے مالامال صوبہ ہے جس کی سرزمین نے علم و ادب، صوفیانہ فکر، رواداری، محبت اور انسان دوستی کے چراغ روشن کیے۔ لیکن افسوس کہ آج اسی سندھ کو بدعنوانی، اقربا پروری، ادارہ جاتی بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور قانون کی کمزور عمل داری جیسے سنگین سوالات کا سامنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر سندھ کے وسائل، صلاحیتوں اور انسانی سرمائے کے باوجود عوام کو ایک مؤثر، شفاف اور منصفانہ نظامِ حکمرانی کیوں میسر نہیں؟سندھ میں تعلیمی نظام کے حوالے سے جعلی اسناد، مشکوک ڈگریوں، غیر قانونی بھرتیوں اور تعلیمی بدعنوانی کے الزامات بارہا سامنے آتے رہے ہیں۔ اگر کسی شخص کی تعلیمی قابلیت جعلی ہو اور وہ اسی بنیاد پر سرکاری ملازمت یا کسی اہم منصب تک پہنچ جائے تو یہ محض ایک فرد کا جرم نہیں بلکہ میرٹ، قومی خزانے اور اہل امیدواروں کے مستقبل پر حملہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ اسناد کی شفاف تصدیق کی جائے اور ثابت شدہ جعل سازی میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی ہو۔ اسی طرح سرکاری اداروں میں تقرریوں، تبادلوں اور ترقیوں کے معاملات میں اقربا پروری، رشوت، سیاسی دباؤ اور ذاتی تعلقات کے اثرانداز ہونے کی شکایات ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہیں: کیا سرکاری عہدے عوامی خدمت کے لیے ہیں یا ذاتی وفاداریوں اور سیاسی وابستگیوں کا انعام؟ اگر میرٹ کو نظرانداز کرکے نااہل افراد کو اہم ذمہ داریاں دی جائیں تو اداروں کی کارکردگی متاثر ہونا ناگزیر ہے، جبکہ اہل، قابل اور دیانت دار افسران کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ قومی شناخت اور سرکاری دستاویزات کے اجرا میں جعل سازی، غیر قانونی سہولت کاری اور مبینہ مالی لین دین کی شکایات بھی انتہائی تشویشناک ہیں۔ قومی شناختی دستاویزات ریاستی نظم و نسق اور شہریوں کی قانونی شناخت کی بنیاد ہوتی ہیں۔ ان کے اجرا میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی قومی سلامتی، قانون کی عمل داری اور عوامی اعتماد کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس لیے متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے معاملات کی آزادانہ تحقیقات کریں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ سندھ میں مختلف نوعیت کے مافیاز، منشیات فروشی، اسمگلنگ، زمینوں پر قبضوں، انسانی اسمگلنگ، بچوں کے استحصال، اغوا، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ بھی مسلسل سامنے آتا رہا ہے۔ تاہم کسی بھی صوبے یا معاشرے کے بارے میں عمومی الزامات کو حتمی حقیقت قرار دینے کے بجائے ضروری ہے کہ مستند اعداد و شمار، عدالتی ریکارڈ اور قابلِ اعتماد تحقیقات کی بنیاد پر صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر جرائم پیشہ عناصر قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں تو اسکی وجوہات کیا ہیں، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کہاں ناکام ہو رہے ہیں؟دوسری جانب سندھ کے عوام مہنگائی، بجلی و گیس کے بھاری بلوں، پانی کی قلت، ناقص شہری سہولتوں، بے روزگاری اور بنیادی خدمات کی غیر تسلی بخش فراہمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ عوام ٹیکس اور مختلف سرکاری فیسیں ادا کرتے ہیں تو انکا یہ جائز حق ہے کہ انہیں اسکے بدلے معیاری تعلیم، بہتر صحت، صاف پانی، محفوظ ماحول، فعال بلدیاتی نظام اور قابلِ اعتماد سرکاری خدمات میسر آئیں۔ اگر محصولات وصول کرنے میں ریاست مستعد ہو لیکن عوام کو سہولتیں فراہم کرنے میں یہی نظام کمزور دکھائی دے تو حکمرانوں اور متعلقہ اداروں سے جواب طلب کرنا عوام کا آئینی و جمہوری حق ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، بالخصوص کراچی کی صنعتی، تجارتی، بندرگاہی اور مالیاتی سرگرمیاں قومی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ ایسے میں سندھ اور کراچی کے شہریوں کو درپیش مسائل کو محض سیاسی بیانات سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم، شفاف بجٹ، مؤثر نگرانی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ہی عوام کے اعتماد کو بحال کرسکتی ہے۔ سب سے زیادہ افسوسناک صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی ایماندار، دیانت دار، باصلاحیت اور فرض شناس افسر اپنے قانونی دائرۂ اختیار میں بھی سیاسی دباؤ، غیر ضروری مداخلت یا ادارہ جاتی رکاوٹوں کے باعث مؤثر فیصلے نہ کر سکے۔ اگر ایسے افسران کو آزادانہ اور قانونی طور پر کام کرنے کا موقع نہ دیا جائے تو بدعنوان عناصر کے لیے راستے کھلتے ہیں اور عوام انصاف سے محروم رہتے ہیں۔ ریاستی اداروں کی اصل قوت انکی عمارتوں، اختیارات یا عہدوں میں نہیں بلکہ انکی غیر جانب داری، پیشہ ورانہ اہلیت اور قانون کی پاسداری میں ہوتی ہے۔ سندھ کو محض تقاریر، وعدوں اور سیاسی نعروں سے ترقی یافتہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ترقی کا حقیقی پیمانہ یہ ہے کہ کتنے بچوں کو معیاری تعلیم ملی، کتنے نوجوانوں کو میرٹ پر روزگار ملا، کتنے شہریوں کو صاف پانی اور صحت کی سہولتیں میسر آئیں، کتنے جرائم پیشہ عناصر قانون کی گرفت میں آئے، کتنے سرکاری اداروں میں شفافیت قائم ہوئی اور کتنے عوام کو انصاف ملا۔ سندھ کسی سیاسی جماعت، خاندان یا مخصوص طبقے کی جاگیر نہیں؛ یہ سندھ کے تمام شہریوں کا مشترکہ وطن اور پاکستان کا اہم حصہ ہے۔ اسکے وسائل پر عوام کا حق ہے اور اسکے اداروں کی جواب دہی بھی عوام ہی کے سامنے ہونی چاہیے۔ حکمرانوں، منتخب نمائندوں، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سمجھنا ہوگا کہ اقتدار مستقل نہیں، لیکن انکے فیصلوں کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ سندھ میں تعلیمی اسناد کی جامع تصدیق، بھرتیوں اور ترقیوں میں میرٹ کی پابندی، قومی دستاویزات کے اجرا میں شفافیت، جرائم کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، یوٹیلیٹی خدمات میں بہتری اور سرکاری اداروں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ احتساب کا معیار بھی یکساں ہونا چاہیے؛ نہ کسی بااثر شخص کو استثنا ملے اور نہ کسی کمزور شہری کے ساتھ ناانصافی ہو۔ آخر میں سوال یہ ہے کہ سندھ کے عوام کب تک وعدوں، دعوؤں اور بیانات پر اکتفا کرتے رہیں گے؟ انہیں عملی اقدامات، قابلِ پیمائش نتائج اور جواب دہ قیادت کب میسر آئے گی؟ یاد رکھیے! جب میرٹ کی جگہ سفارش، قانون کی جگہ اثرورسوخ، اہلیت کی جگہ تعلقات اور عوامی خدمت کی جگہ ذاتی مفادات لے لیں تو ریاستی ادارے کمزور اور معاشرہ عدم مساوات کا شکار ہوجاتا ہے۔ سندھ کو نعروں کی نہیں، شفاف نظام کی ضرورت ہے؛ سیاسی وفاداریوں کی نہیں، میرٹ کی ضرورت ہے؛ نمائشی ترقی کی نہیں، حقیقی خوشحالی کی ضرورت ہے؛ اور سب سے بڑھ کر ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو۔ یہی وقت کا تقاضا ہے، یہی عوام کی آواز ہے اور یہی ایک بہتر، پُرامن، خوشحال اور مستحکم سندھ کی بنیاد بن سکتا ہے۔۔۔۔!!



