عنوان: برطانیہ کے غریب ترین پیر عظام

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: برطانیہ کے غریب ترین پیر عظام
مجھے الحمدلله بچپن سے ہی ماں باپ کی طرف سے دینی ماحول میسر آیا۔ والد محترم سردار حسین صدیقی نے قبل از پاکستان علیگڑھ یونیورسٹی بھارت سے گریجویشن پاس کی تھی دوران تعلیم آل مسلم لیگ انڈیا اسٹوڈینٹ ونگ میں متحرک تحریک پاکستان کے کارکن رھے۔ پاکستان معروض ھونے کے بعد ضلع مرادآباد صوبہ یوپی بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان چلے آئے۔ بچپن سے نماز روزے طہارت سلیقہ شعاری ادب و احترام اور علم و فن سے لگاؤ کی تربیت ملتی رہی۔ اپنی زندگی میں کئی بزرگ دیکھے کچھ ایسے جنہیں دیکھ کر خدا یاد آجاتا تھا۔ تقویٰ اور ایمان گویا کوٹ کوٹ کر بھرا ھو سادگی انکساری اور عزت نفس کمال درجہ ھوتی تھی۔ امراء و اشرفیہ سے کوسوں دور اور خدمتِ انسانیت کا کیا کہنا۔ جوانی کی عمر میں بھی ایک ولی کامل متقی پرہیزگار بزرگ کے ہاتھوں بیت ھوا۔ میرے مرشد کینیڈا میں جاب کرتے ہیں میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ پاکستان سکونت اختیار کرلیں تو کہنے لگے کہ پیر پر لازم ھے کہ وہ اپنی مزدوری کیساتھ اپنے اہل و عیال کی پرورش کرے نا کہ مریدوں سے نذرانے بٹورے۔ پیر کو تو اپنے مستحقین مریدوں کی مالی و روحانی مدد کرنی چاہیئے۔۔۔ معزز قارئین!گزشتہ روز صاحبزادہ ضیاءالرحمٰن ناصر سجادہ نشین آستانۂ عالیہ “ کار باڈی ریپئر “ مانچسٹرشریف کی تحریر پڑھنے کا انکشاف ھوا بہت تعجب اور افسوس بھی ھوا کہ دور حاضر میں پیر عظام اپنے کردار کو کس مقام پر لے جارھے ہیں۔۔۔وہ لکھتے ہیں کہ انگلینڈ میں مقیم چند پاکستانی پیر صاحبان کی معلوم دولت کا تخمینہ (آف شور دولت اور ٹرسٹ اسمیں شامل نہیں)۔۔۔صوفی جنید نقشبندی پوتے صوفی عبدالله نقشبندی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ گھمکول شریف، برمنگھم ایک سو بتیس ملین پاؤنڈ ہیں جو پاکستانی دو سو نوے ارب تقریباً ھونگے۔۔۔پیر سلطان نیاز الحسن باہو، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ سلطان باہو، برمنگھم۔ اسی ملین پاؤنڈ ، پاکستانی ایک سو چھہتر ارب روپے تقریباً۔۔ پیر سلطان فیاض الحسن باہو، اسسٹنٹ سجادہ نشین آستانۂ عالیہ سلطان باہو، برمنگھم تیراسی ملین پاؤنڈ، پاکستانی ایک سو تیراسی ارب روپے تقریباً۔۔۔۔پیر نورالعارفین صدیقی، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ نیریاں شریف، برمنگھم، پاکستانی ستتر ملین پاؤنڈ ، ایک سو ستر ارب روپے تقریباً ۔۔۔۔ پیرزادہ امداد حسین، مہتمم جامعہ الکرم نوٹنگھم ، چھہتر ملین پاؤنڈ ، پاکستانی ایک سو اڑسٹھ ارب روپے تقریباً ۔۔۔۔ پیر معروف حسین شاہ نوشاہی، آستانۂ عالیہ نوشاہیہ بریڈفورڈ، اڑسٹھ ملین پاؤنڈ ، پاکستانی ایک سو پچاس ارب روپے تقریباً ( پیر معروف حسین صاحب برطانیہ میں وارد ہونے والے سب سے پہلے پیر ہیں، موصوف اپریل سنہ انیس سو اڑسٹھ میں برطانیہ تشریف لائے اور اون کی مل میں مزدوری شروع کی، چند ماہ بعد بریڈ فورڈ میں تبلیغ الاسلام کے نام سے ایک مکان میں مسجد بنائی لیکن مریدین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے اگلے اٹھارہ سال ملوں میں مزدوری ہی کرتے رہے، اس وقت بریڈ فورڈ و گرد و نواح میں تیس سے زائد مکانات میں تبلیغ الاسلام کے نام سے مساجد بناچکے ہیں اور ان تمام پراپرٹیز کے بلا شرکتِ غیرے مالک بھی ہیں لیکن ان مکانات کی مالیت اڑسٹھ ملین پاؤنڈ میں شامل نہیں، پیر صاحب اس لحاظ سے بھی بدقسمت ہیں کہ پاکستان میں کسی بڑی گدی کے سجادہ نشین نہ ہونے کی وجہ سے برطانیہ میں ان کے مریدین کی تعداد ابھی تک بیس ہزار سے کم ہے )۔۔۔۔ پیر سید عبدالقادر جیلانی سابق خطیب ٹنچ بھاٹہ راولپنڈی، مہتمم دارالعلوم قادریہ جیلانیہ لندن، باسٹھ ملین پاؤنڈ، پاکستانی ایک سو انہتر ارب روپے تقریباً ۔۔۔۔ پیر منور حسین جماعتی سجادہ نشین آستانۂ علیہ امیرِ ملت پیر جماعت علی شاہ برمنگھم، ساٹھ ملین پاؤنڈ، پاکستانی ایک سو چونتیس ارب روپے تقریباً۔۔۔۔پیر حبیب الرحمن محبوب، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ ڈھانگری شریف، بریڈفورڈ، بتیس ملین پاؤنڈ، پاکستانی اکہتر ارب روپے تقریباً ۔۔۔پیر عرفان مشہدی، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ بکھی شریف بریڈفورڈ، پیر عرفان شاہ صاحب ان پیروں میں سب سے غریب ترین پیر ہیں کیونکہ ان کی دولت دو ملین پاؤنڈ یعنی پاکستانی صرف چوالیس کروڑ روپے ہے۔ تلک عشرة کاملة مندرجہ بالا تمام دس پیر صاحبان کا تعلق پاکستان و آزاد کشمیر سے ہے۔ جو برٹش نیشنیلٹی ہولڈر اور برطانیہ میں مقیم ہیں۔ طاہر القادری سمیت وہ تمام پیر صاحبان جنہوں نے اپنی دولت ٹرسٹ ( این جی اوز ) کے پردے میں چھپائی ہوئی ہے۔ وہ اس لسٹ میں شامل نہیں۔ نیز پاکستان میں مقیم جو پیر صاحبان سالانہ یہاں سے اربوں روپے کے نذرانے بٹورنے کیلئے تشریف لاتے ہیں وہ بھی اس لسٹ میں شامل نہیں۔مندرجہ بالا دس پیر صاحبان کی اجتماعی دولت سے کئی گنا زیادہ دولت کے مالک “ پیر ہاشم الگیلانی البغدادی “ ہیں، جو آستانۂ عالیہ شیخ عبدالقادر جیلانی رح بغداد کے گدی نشین ہیں، یہ پیر صاحب بھی برٹش نیشنلیٹی ہولڈر اور مقیمِ برطانیہ ہیں۔ جیسے پاکستانی نژاد برطانوی پیر کبھی کبھی پاکستان دورہ پہ تشریف لے جاتے ہیں، اسی طرح یہ بھی کبھی کبھی بغداد کے دورہ پہ تشریف لے جاتے ہیں۔
پسِ نوشت!! آج ایک بڑے پیر صاحب کی لیٹسٹ ترین کار جس کی پاکستان میں مالیت دس کروڑ کے قریب ہے،بمپر پہ معمولی اسکریچز ختم کروانے میرے پاس تشریف لائی ( پیروں کی گاڑیاں بھی تو مقدس ہوتی ہیں نا ) تو سوچا، ذرا غریب ترین پیر صاحبان کی دولت کا امیر مریدین کے سامنے پول کھولا جائے۔۔۔۔معزز قارئین!! حدیث کا ارشاد کیسا صادق ہے کہ’’آخر زمانہ میں دین کا کام بھی درہم و دینار سے چلے گا۔(معجم الکبیر، ۲۰ / ۲۷۹، الحدیث: ۶۶۰) حقیقت تو یہ ھے کہ ان پیران نے اپنی شہرت و مقبولیت کیلئے کمرشل کا سہارا لیا ھوا ھے یعنی الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے اپنی خوب سے خوب تشہیر کرکے بڑے روحانی پیر کہلوانے پر خوش ھوتے ہیں۔ اکثر مذہبی چینلز میں اپنے کارندے بٹھائے ھوئے ہیں تاکہ خوب مواقع میسر آسکیں۔ الله ہمیں ایسے پیر عظام سے فیوض و برکات سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے جو دنیائے فانی سے دل لگی نہ رکھتے ھوں اور اپنے منصب کو درھم و دینار کی قید سے آزاد ھوں آمین ثما آمین۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



