مرحبا، ماہِ رمضان مرحبا
مرحبا، اےِ شھرالغفران مرحبا
سحر ہے پُرلطف،
افطار بھی کیا خوب ہے
اِس ماہ کی ہر ساعت،
بس نور ہی نور ہے
رحمتیں، مغفرتیں، آزادیء جہنم
تین عشرے بکھیرتے،
چہروں پہ ہیں تبسم
روزہ، زکوٰۃ، نمازیں،
اور تلاوتِ قرآن
بنا دیتے ہیں یہ سارے عمل،
زندگی آسان
شب قدر بھی اس میں،
کیا خوب خدا نے رکھی
کاش پا لیں اِس کو،
دعا ہے یہ ہم سب کی
ہو جاتے ہیں سارے گناہ،
بحکمِ خدا معاف
چاند رات پرہو وآپسی،
گر بمعہ مقبول اعتکاف
جو دیکھو کسی بے کس کو،
تم طالبِ رمضان
کر دینا چپٌ چاپ کچھ
سحر و افطار کا سامان
مرحبا، ماہِ صیام مرحبا
مرحبا، اےِ شھرالقرآن مرحبا
***
کاشف شمیم صدیقی
