BBC Urdu TV

جھلملاتی سی دیوالی

کچھ روشن کیے تم نے،

کچھ ہم نے بھی جلائے ہیں

یہ دیپ نئی امیدوں کے،

گھُپ اندھیروں میں جگمگائے ہیں

جھلمل، جھلمل کرتی روشنی

ہر دل کو لبھائے۔۔۔من موہنی۔۔

یہ جلتے دیے یونہی تو نہیں

ان میں چھپی کوئی تو بات ہے!

کیوں ہے، یہ زندگی

کیا، مقصدِ حیات ہے؟

اے رب ۔۔،

دِیکھلا دے وہ راہ ہم کو

جو ہم نہیں جانتے ہیں

تم مندر میں،

ہم مسجد میں

چلو آج دعا یہ مانگتے ہیں!

کہ انسانیت ہی، ہو منزل

انسانیت ہی پیغام ہو

ہاتھوں میں تھامے ہاتھ

اب صرف یہی کام ہو!

***

کاشف شمیم صدیقی

Exit mobile version