BBC Urdu TV

جدید تحقیق: موسیقی سے کن بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے

موزارٹ کی ایک دھن ایسی بھی ہے جو بظاہر مرگی کے شکار لوگوں کے دوروں کی تعداد کم کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتی ہے

جب شارلٹ گیبیٹس برطانیہ کے ڈیوزبری ہسپتال میں گردن توڑ بخار سے صحت یاب ہو رہی تھیں تو اس سے پہلے وہ میوزک تھیراپی سیشنز کی پیشکش کے بارے میں ابتدائی طور پر شکوک و شبہات کا شکار تھیں۔ وہ کہتی ہیں ’میوزک تھیراپسٹ مجھے مدعو کرتا رہا لیکن میں نے سوچا وارڈ میں بیٹھ کر دوسرے لوگوں کے ساتھ موسیقی سننا عجیب ہو گا۔‘

28 سالہ پرائمری سکول ٹیچر کو تہواروں میں جانا، رقص اور سفر کرنا، یہاں تک کہ کئی سالوں سے بحرین میں رہنا پسند تھا۔ لیکن 2018 سے انہیں شدید سر درد کا سامنا ہونے لگا اور ان کے لیے سفر کرنا دوبھر ہو گیا۔ بالآخر گبیٹس ویک فیلڈ کے قریب ایک ہسپتال میں پہنچیں جہاں ان کی حالت مزید بگڑ گئی، ان کی ایک آنکھ بصارت سے محروم اور جلد ہی وہ بولنے سے قاصر ہو گئیں۔

ایک ہسپتال میں چار مہینے گزرنے کے بعد گبیٹس کو دماغی چوٹوں والے لوگوں کے لیے مخصوص بحالی مرکز میں منتقل کر دیا گیا۔ یہیں سے ان پر موسیقی کی غیر معمولی طاقت منکشف ہونا شروع ہوئی۔

وہ کہتی ہیں ’مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ میں اس حالت میں پہنچ گئی ہوں۔ میں 28 برس کی عمر میں ہر وقت وہیل چیئر پر بیٹھی تھی، بمشکل بولنے کے قابل اور میرے اندر ایسے احساسات تھے جن کا اظہار نہیں کر سکتی تھی۔‘ تاہم ہسپتال میں ایک میوزک تھیراپسٹ گبیٹس کو سیشنز میں مدعو کرتا رہا اور بالآخر وہ رضامند ہو گئیں۔ ایک میوزک روم میں تھیراپسٹ نے میوزیکل فلم دی گریٹیسٹ شو مین کی چند دھنیں بجانا شروع کیں جو گبیٹس کی پسندیدہ البمز میں سے ایک تھیں اور کچھ بہت غیر معمولی ہونے لگا۔ وہ کہتی ہیں ’کئی مہینوں سے لفظ ادا کرنا مشکل چلا آ رہا تھا لیکن اچانک بغیر ہکلائے یا رک کر سوچنے کی مشکل سے دوچار ہوئے بغیر میں گا رہی تھی۔ یہ عجیب لیکن بہت شاندار احساس تھا۔

طویل عرصے سے یہ بات معلوم کی جا چکی ہے کہ موسیقی ہماری صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سو سال پہلے فلورنس نائٹ انگیل نے زخموں کے علاج کے لیے موسیقی کے استعمال کا مشورہ دیا تھا۔ موسیقی لوگوں کی فلاح و بہبود میں کیسے کارآمد ثابت ہو سکتی ہے اس بارے میں ہمارا علم مسلسل بڑھتا جا رہا ہے اور نئی تحقیقات سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ یہ زندگی کے ہر مرحلے پر ہمارے جسموں اور ذہنوں کو کس طرح متاثر کر سکتی ہے۔

مثال کے طور پر 2016 کی ایک امریکی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو موسیقی سنائی گئی تو انہوں نے زیادہ کھایا، تیزی سے وزن بڑھایا اور بہتر نیند سوتے رہے۔ وہ نوزائیدہ بچوں کے دیکھ بھال کے لیے ہسپتال کے مخصوص وارڈوں کو ان بچوں کے مقابلے میں 12 دن پہلے چھوڑ کر جانے کے قابل تھے جنہیں موسیقی نہیں سنائی گئی تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے پر چوٹوں اور بیماریوں سے صحت یاب ہونے کے دوران محسوس ہونے والے درد کی شدت کو کم کرنے میں موسیقی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔ کینسر کے جو مریض مدھر دھنیں سنتے ہیں وہ بہتر طریقے سے مرض کا مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں، آٹزم کا شکار نوجوان بہتر انداز میں بات چیت کرنے لگتے ہیں اور تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے میوزک تھیراپی اتنی ہی یا اس سے بھی زیادہ کارآمد ہے۔

گردن توڑ بخار کی مریضہ گیبیٹس کو شروع شروع میں یقین نہیں تھا کہ موسیقی سے ان کا مرض ٹھیک ہو سکتا ہے (نورڈوف روبنز)

زندگی کے اختتامی مراحل میں سکون پہچانے والے کمروں میں موسیقی درد کی شدت گھٹانے اور نشہ آور ادویات پر انحصار کم کرنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ حتیٰ کہ عظیم موسیقار موزارٹ کی ایک دھن ایسی بھی ہے جو بظاہر مرگی کے شکار لوگوں کے دوروں کی تعداد کم کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتی ہے۔

تو میلوڈی، ردھم اور پچ ہماری صحت پر کیسے اثرانداز ہو سکتے ہیں؟ کلیئر میڈوک ایک میوزک تھیراپسٹ اور برٹش ایسوسی ایشن آف میوزک تھیراپسٹ (Bamt) کی رکن ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’موسیقی سننے کے دوران یہ دماغ کے مختلف حصوں تک پہنچنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتی ہے اور یہ لاشعور کو مثبت انداز میں جگا سکتی ہے،‘ لوگوں کے اندرون تک ایسے قرینوں سے پہنچتی ہے جن سے بات چیت جیسے تھیراپی کے روایتی طریقے محروم ہیں۔ یہ صرف ہمارے دماغ ہی نہیں جو موسیقی سے متاثر ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’اس کا دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر جیسے جسمانی افعال پر بھی گہرا اثر ہوتا ہے۔‘

موسیقی انسانی تجربے کے ساتھ گہرائی سے جڑی ہوئی ہے اور میں نے جن معالجین سے بات کی ان میں سے بہت سوں نے ذکر کیا کہ پہلی آواز جو ہم نے سنی وہ ایک ردھم والی دھڑکن ہے، جو ماں کے پیٹ کے اندر دل کی ہوتی ہے۔ بالعموم یہی سمجھا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد ہماری آخری حس جو ’کام کرنا چھوڑتی‘ ہے وہ سماعت ہے۔ کچھ سننا یا زیادہ بہتر انداز میں موسیقی دماغ کے تقریباً ہر حصے میں نیوران پیدا کرتی اور ’خوشی کے کیمیکلز‘ خارج کرتی ہے۔ موسیقی دنیا بھر کی ہر ثقافت کا حصہ ہے اور لوگوں کی اکثریت اس بات کی تصدیق کر سکتی ہے کہ یہ ان کے جذبات پر کس شدت سے اثر انداز ہوتی ہے۔

انہی وجوہات کی بنا پر میوزک تھیراپسٹ مختلف بیماریوں میں گھرے لوگوں کے علاج کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔

لیوک ولسن ان میوزک تھیراپسٹس میں سے ایک ہیں جنہوں نے گبیٹس کے علاج میں مدد کی۔ خوش مزاج ولسن گٹار بجاتے ہیں اور خیراتی ادارے نورڈوف روبنز سے بطور معالج وابستہ ہیں جو منشیات کے عادی اور دماغی صدموں کا شکار ہونے والے لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’سماجی اشارے سمجھنے کے لیے موٹر فنکشن سے یادداشت اور گانے کے بولوں تک، موسیقی دماغ کے مختلف حصوں کو استعمال کرتی ہے۔ لہٰذا اگر دماغ کا ایک حصہ خراب ہو جائے اور وہاں کوئی چیز رکاوٹ ڈال رہی ہو تو اس بات کا امکان ہے کہ بہت سا حصہ درست حالت میں محفوظ ہو گا سو (میوزک تھیراپسٹ) ابھی بھی اس حصے کو استعمال میں لاتے ہوئے کام چلا سکتا ہے۔‘

Exit mobile version