ایک بار ایک .ڈپٹی کمشنر ، ایک .سپرٹینڈینٹ پولیس. ، ایک .وزیر.اور ایک .معلم. بیٹھے باتیں کر رہے تھے:
..ڈپٹی کمشنر:
ہم تو علاقے کے مالک ہوتے ہیں، جس سے جو مرضی کروا لیں.
..سپرٹینڈینٹ پولیس:
ہم جسے چاہے اندر کرکے ٹھوک دیں ہمارا بھی بڑا رُعب ہے.
..وزیر:
ہمارا تو جلوہ ہے باس ہم چاہے کچھ بھی کریں، کوئی مائی کا لال کچھ نہیں بول سکتا.
..معلم:
ہمارا تو جی کوئی رُعب نہیں ہوتا. سارا دن بچوں کو مُرغا بنا کے پِیٹتے ہیں، آگے اُن گدھوں کی مرضی *ڈپٹی کمشنر* بنے، *سپرٹینڈینٹ پولیس بنے یا ..وزیر۔۔۔۔!!
( ایک سابق معلم اور سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی کراچی )
