BBC Urdu TV

آنکھوں سے آنسو چُرا کر کسی کی،، چلو منائیں عید ایسی

عید آئی ہے

کیسی دُھوم دَھام سے

مناتے ہیں مسلمان،

اسےِ بڑی شان سے

کہیں بنتی ہیں سوّیاں،

تو کہیں شیر خُرما

سجتا ہے دسترخوان پر،

بریانی اور قورمہ

نِت نئے رنگوں کی،

پوشاک ہے پہنی جاتی

رنگِ حنا ہاتھوں کی،

زینت بھی ہے بڑھاتی

ہنسنا ہنسانا، ملنا ملانا

پر دیکھو،

یہ نہ بھول جانا

رکھنا خیال اُنکا،

جو ہیں نادار

بے بس ومجبور،

اور لاچار

دے دینا، دسترخوان پر

تھوڑی سی جگہہ اُنکو

دینا تحفے میں کچھ کپڑے،

ہو ضرورتِ لباس جِنکو

بُھلا کے ساری ناراضگیاں،

پہل کرکے مِل لینا

جو چاہو خود کی معافی،

تو سیکھو معاف کرنا،

دیکھا جو عید کا ہلال،

آیا دل میں خیال،

مِٹ جائے ہر دُکھ زمانے سے

جو کرلیں سب،

سب کا خیال

***

کاشف شمیم صدیقی

Exit mobile version