اہم خبریںسائنس اور ٹیکنالوجی

28۔ ستاروں سے آیا ہوا سامانِ زندگی

عجائباتِ_کائنات

28۔ ستاروں سے آیا ہوا سامانِ زندگی (The stuff of life that came from the stars)

جنوبی افریقہ کے ملک نیمیبیا Nambia میں موجود تقریباً ستر ہزار 70000 کلوگرام وزنی نو فٹ لمبی، نو فٹ چوڑی اور تین فٹ موٹی یہ چٹان کبھی کسی ستارے کے دل (core) میں ہوا کرتی تھی۔ 84 فیصد لوہے اور 16 فیصد نِکّل پر مبنی یہ چٹان زمین پر (ایک ہی حصے میں) دریافت ہونے والی سب سے زیادہ وزنی اور بڑی خلائی چٹان ہے۔ اسّی ہزار سال قبل خلا سے زمین پر گرنے والی اس لوہے کی چٹان کو 1920 میں دریافت کیا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بات سوچنے کے قابل ہے کہ زمین پر موجود لوہے سے بھاری عناصر کیسے اور کہاں سے پہنچے؟ لوہے اور لوہے سے ہلکے عناصر (ہائیڈروجن، ڈیوٹیریئم، ہیلیئم، لیتھیئم، کاربن اور آکسیجن وغیرہ سے آگے لوہے تک) کا تو ہمیں علم ہے کہ یہ ستاروں کے مرکزوں میں بنتے ہیں۔ بڑے ستارے زندگی پوری کر کے جب پھٹتے ہیں تو ان ستاروں کی باقیات سے خلائی سحابیے (nebulas) بنتے ہیں۔ ان خلائی سحابیوں میں لاکھوں کروڑوں سالوں بعد پھر سے نئے ستارے، سیارے اور چاند وغیرہ بنتے ہیں۔ پھٹنے والے ستاروں میں جو عناصر موجود ہوتے ہیں وہی ان نئے ستاروں، سیاروں اور چاندوں وغیرہ کے عناصر کا حصہ بنتے ہیں۔

(چھوٹے عناصر سے مراد وہ عناصر ہیں جن کے ایٹموں میں پروٹانز protons کی تعداد کم ہو۔ جیسا کہ ہیلیئم کے ایٹم میں پروٹانز کی تعداد تین، کاربن میں چھ اور آکسیجن کے ایٹم میں آٹھ پروٹانز ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس بڑے یعنی بھاری عناصر میں پروٹانز کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ سونے کے ایٹم میں پروٹانز کی تعداد اُناسی 79، پارے mercury کے ایٹم میں پروٹانز کی تعداد اسّی اور یورینیئم کے ایٹم میں پروٹانز کی تعداد بانوے ہے)

سادہ سوال یہ ہے کہ "کائنات میں اور زمین پر موجود لوہے سے بھاری عناصر ستارے نہیں بنا سکتے۔ پھر وہ کیسے اور کہاں وجود میں آئے؟” یہ سوال اہم ہے۔ کیوں کہ اس سوال کا تعلق ہماری زندگیوں کے ساتھ ہے، ستاروں کے بننے اور ختم ہونے کے ساتھ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کائنات (Universe) کیسے اور کب وجود میں آئی؟ اس متعلق سائنس کے پاس سب سے زیادہ مضبوط نظریہ بِگ بینگ Big bang ہے۔ بگ بینگ نظریہ کے مطابق بگ بینگ کے وقت اس کائنات کا سارا مادّہ ایک چھوٹے سے نکتے/پوائنٹ پر محیط تھا۔ جس کی کثافت بے انتہاء تھی اور درجہ حرارت لامحدود تھا۔ تیرہ اعشاریہ آٹھ ارب سال پہلے بگ بینگ کا واقعہ رُونما ہوا۔ وہ نکتہ (جس میں اس کائنات کا تمام مادّہ تھا) پھیلنا شروع ہوا اور پھر پھیلتا ہی چلا گیا۔ اس کا پھیلاؤ آج تک جاری ہے۔ بگ بینگ کے لیے مادّہ کیسے اور کہاں سے وجود میں آیا؟ کب وجود میں آیا؟ ان سوالات کے جوابات فی الحال ہم نہیں جانتے۔ بِگ بینگ کے بعد درجہ حرارت کم ہوا تو کائنات میں کوارکس سے ایٹم کے بنیادی ذرّرات وجود میں آئے۔ پھر ابتدائی اور سادہ یعنی ہائیڈروجن کے ایٹمز بنے۔ اس وقت کائنات میں صرف ہائیڈروجن کے وسیع و عریض سمندر موجود تھے۔ اور وہ خاموش اور پرسکون ہائیڈروجن تھی۔

بِگ بینگ کے بعد بہت عرصہ تک یہ پوری کائنات اندھیرے میں ڈوبا ہوا ایک سرد ویرانہ تھی۔ پھر اس کائنات میں تبدیلی آئی۔ گویا کسی نے بلب کا بٹن دبا کر اندھیرے میں ڈوبا کمرہ روشن کر دیا ہو۔ جیسے جیسے ہائیڈروجن جمع ہوتی گئی، اس کی کثافت بڑھنے لگی۔ ستاروں کے ڈھانچے سے بننے لگے۔ کشش ثقل نے ہائیڈروجن کے ایٹموں کو اکٹھا ہونے اور ایک دوسرے میں ضم ہونے کے لیے مجبور کر دیا۔ ستارے گرم اور روشن ہونے لگے۔ کائنات جو کہ اندھیروں کا مرکز تھی، اب جگمگانا شروع ہو گئی۔ ہر طرف ستارے چمکنے دمکنے لگے۔ ہائیڈروجن کے ایٹموں نے ایک دوسرے میں ضم ہو کر جہاں اس کائنات کو روشن اور گرم کیا، وہیں خود سے بڑے عنصر (element) یعنی ہیلیئم کو بھی وجود دے دیا۔ ہائیڈروجن ستاروں کے پہلے اور بنیادی ایندھن کے طور پر خدمات سر انجام دیتی رہی۔ یوں ستاروں میں کائنات کی رنگین، روشن اور حرارت والی زندگی کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ ستاروں میں ستاروں کے ایندھن کا ارتقاء ہوتا چلا گیا۔ ہائیڈروجن سے ہیلیئم اور ہیلیئم سے بڑے عناصر بننے لگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ ستارے کاربن بنانے تک ہی خود کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔ تھوڑے بڑے ستارے کاربن سے آگے کے عناصر بھی بنا لیتے ہیں۔ بہت بڑے ستارے جو کہ سورج سے پندرہ سے بیس گنا زیادہ بڑے ہوں وہ اپنے مرکز میں موجود پانچ ارب ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرات کی مدد سے لوہا بنانے تک پہنچ جاتے ہیں۔ جب کسی بہت بڑے ستارے کے اندر چھوٹے عناصر کے انضمام سے لوہا بننا شروع ہو جائے تو پھر وہ ستارہ سپرنووا دھماکے کا لقمہ بننے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔

یہ سوال غیر اہم نہ ہو گا کہ لوہے کے ایٹمز ایک دوسرے میں ضم ہو کر ستاروں کے لیے توانائی کیوں نہیں پیدا کر سکتے؟ کیوں کہ لوہے کے ایٹمز کی فیوژن کے لیے اس سے کہیں زیادہ توانائی چاہیے ہوتی ہے جتنی توانائی اس کی فیوژن سے حاصل ہوتی ہے۔ بڑے ستارے لوہے پر بھی اپنی پنجہ آزمائی کرتے ضرور ہیں مگر کامیاب نہیں ہو پاتے۔ یہ ستارے جیسے ہی لوہے کو فیوز کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں توانائی ملنے کی بجائے ان کی اپنی توانائی کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً توانائی کی کمی کے باعث اور کشش ثقل کی زیادتی کے سبب ان بڑے ستاروں کا مرکز سکڑنے لگتا ہے۔ کششِ ثقل بڑھتی ہے، ساتھ ہی ان میں دباؤ اس قدر شدت سے بڑھتا ہے کہ مادّہ اپنی کیفیت تبدیل کیے بنا نہیں رہ سکتا۔

یوں لوہے کو اپنی کور core میں بھرے ان بڑے ستاروں کی زندگی بھی سپرنووا دھماکے کی نظر ہو جاتی ہے۔ لیکن بڑے ستاروں کی توانائی اُگلتی موت ہمیں ہمارے اس سوال کا جواب دے چکی ہے کہ لوہے سے بھاری عناصر کیسے اور کہاں وجود پاتے ہیں؟ جب سورج سے بہت بڑا ستارہ دھماکے سے پھٹتا ہے تو اس کی تباہی کے پہلے چند گھنٹے ان عناصر (elements) کو بنا جاتے ہیں جو عناصر لوہے سے آگے کے ہیں۔ سُپرنووا دھماکوں کے اندر توانائی کے جھکڑ عناصر سے عناصر بناتے چلے جاتے ہیں۔ کوبالٹ سے چاندی تک، چاندی سے سونے تک اور سونے سے یورینیئم تک۔ پھر آگے سب سے بھاری عناصر تک۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے جسم انہی عناصر کا مجموعہ ہیں جو عناصر ستاروں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ہمارے جسم کا 65 فیصد حصہ آکسیجن پر مبنی ہے۔ ہمارے جسم میں ساڑھے 18 فیصد کاربن موجود ہے۔ ساڑھے 9 فیصد ہائیڈروجن اور 3 اعشاریہ 3 فیصد نائٹروجن بھی ہمارے جسم کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے جسم فاسفورس، گندھک، پوٹاشیم، سوڈیم، کیلیشیم اور کلورائن کے بھی مالک ہیں۔

ہمارے جسم میں اور زمین پر موجود تمام عناصر کہاں سے آئے؟ یہ ستاروں کے قلب میں بنے اور زمین پر پہنچے۔ یہ عناصر ستاروں کی موت کے وقت خلا میں بکھرے اور پھر ان عناصر سے سیارے اور چاند وغیرہ تشکیل پائے۔ زمین بھی انہیں میں سے ایک سیارہ ہے۔ کچھ عناصر زمین کے بنتے وقت اس کے میٹیریل میں شامل ہو گئے اور کچھ بعد میں شہابیوں کی صورت میں زمین پر پہنچے۔ بالکل ویسے ہی جیسا کہ "لوہے پر مبنی دسیوں ٹن وزنی یہ Hoba پتھر خلا سے یہاں پہنچا ہے”

ستاروں میں زندگی پانے والے یہ عناصر خلا کی وسعتوں میں پھرتے ہوئے یہ زمین، دیگر سیاروں اور چاندوں پر پہنچے ہیں۔ یہ تمام عناصر ہماری زندگی ہیں۔ یہ سب ہی کچھ "ستاروں سے آیا ہوا سامانِ زندگی (The stuff of life that came from the stars) ہے!
(جاری ہے)

تحریر : محمد یاسر لاہوری

MKB Creation

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

MKB Creation
Back to top button

I am Watching You